آزاد کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد

  • ہفتہ 16 / مئ / 2026

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 2026 کے انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزاد جموں و کشمیر کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے عدالتِ عالیہ کے فیصلے ’وحید اشرف و دیگر بنام الیکشن کمیشن و دیگر‘ اور متعلقہ انتخابی قوانین کی روشنی میں رجسٹریشن کے لیے درخواست جمع کروائی تھی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق درخواست کی جانچ پڑتال کے لیے ایک آڈٹ افسر مقرر کیا گیا، جس نے جماعت کے مالیاتی ریکارڈ اور اکاؤنٹس کا جائزہ لیا۔ آڈٹ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ پی ٹی آئی کشمیر کی جانب سے جمع کروائی گئی مالیاتی تفصیلات الیکشن رولز کے رول 121 کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتیں۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ان اعتراضات کے بعد معاملہ دوبارہ جائزے کے لیے آڈٹ افسر کو بھجوایا گیا تاہم ازسرِنو جانچ کے باوجود رول 121 کی خلاف ورزی اور اکاؤنٹس سے متعلق اعتراضات برقرار رہے۔ بعد ازاں جماعت کے نمائندوں اور وکلا کو ذاتی سماعت کا مکمل موقع فراہم کیا گیا۔ فریقین کے دلائل اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کمیشن اس نتیجے پر پہنچا کہ درخواست گزار جماعت قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہی۔

اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کشمیر کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ سنایا۔ الیکشن کمیشن نے مزید کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن اور نگرانی آئین و قانون کے مطابق شفافیت اور مساویانہ اصولوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ایک بار پھر امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ اس بار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں یہ سب ہوا۔ انہوں نے ایکس پر اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ کشمیر الیکشن کمیشن نے بغیر کسی معقول وجہ کے پی ٹی آئی کشمیر کی رجسٹریشن مسترد کر دی۔

کشمیر ہائی کورٹ نے 5 اکتوبر 2023 کو تمام سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کرتے ہوئے ازسرِ نو رجسٹریشن کا حکم دیا تھا، جس کے تحت پی ٹی آئی کشمیر نے 20 نومبر 2023 کو تمام مطلوبہ دستاویزات جمع کروا دی تھیں۔