پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کا اچانک دورہ تہران
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی آج غیر علانہپ دورے پر تہران پہنچے۔ تہران پہنچنے پر انہیں اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی نے خوش آمدید کہا۔ ایرانی ٹیلی ویژن نے ایران اور پاکستان کے وزرائے داخلہ کے درمیان ملاقات کی تصاویر نشر کرتے ہوئے اس ملاقات کو ’اہم‘ قرار دیا ہے۔
ایرانی ٹی وی کے مطابق اسکندر مومنی نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران ’امن کا حامی‘ ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کو بہت سراہتا ہے۔ ایرانی وزیر داخلہ نے پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی جاری تنازع کے حل کے لیے کوششوں کو ’مخلصانہ اور پُرعزم‘ قرار دیا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سنیچر کے روز کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں مخصوص راستے کے تحت سمندری آمد و رفت کو منظم کرنے کے لیے ایک طریقہ کار تیار کر لیا ہے، جس کا جلد اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس نظام سے فائدہ اٹھانے والے وہ تجارتی فریقین اور بحری جہاز ہوں گے جو ایران کے ساتھ تعاون کریں گے اور اس طریقہ کار کے تحت فراہم کی جانے والی خصوصی خدمات کے عوض ضروری فیس بھی وصول کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ راستہ (فریڈم پروجیکٹ) میں شامل فریقین کے لیے بند رہے گا۔
دریں اثنا ایران کے کچھ اعلیٰ حکام نے امریکہ اور خطے کے ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے بعد کسی نئی جنگ کا امکان موجود ہے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ کے مشیر محمد مخبر نے ایک بیان میں کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے خطے کے بعض ممالک میں موجود امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ان کے بقول یہ ردعمل ’مکمل‘ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا یہ ضبط وقتی ہو سکتا ہے اور اسے مستقل پالیسی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
محمد مخبر نے مزید کہا کہ ایران نے کئی برسوں تک ان ممالک کو دوست اور بھائی سمجھا لیکن ان کے بقول بعض ریاستوں نے اپنی خودمختاری کو داؤ پر لگا کر اپنی سرزمین دشمنوں کے لیے کھول دی۔
دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا ادارے نورنیوز نے ایک نامعلوم ’سینئر فوجی عہدیدار‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو ان اہداف کو ترجیحی بنیادوں پر نشانہ بنایا جائے گا، جنہیں گزشتہ 40 روزہ جنگ کے دوران مختلف وجوہات کی بنا پر ہدف نہیں بنایا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور کسی بھی ممکنہ تصادم کے خطرات تاحال موجود ہیں۔