ابوظہبی میں جوہری پلانٹ پر ڈرون حملہ
متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں الظفرہ ریجن میں براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اندرونی حصار کے باہر موجود ایک بجلی کے جنریٹر میں آگ بھرک اٹھی تھی۔
ابوظہبی میڈیا آفس کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے ہونے کی اطلاع نہیں اور نہ ہی کسی قسم کی تابکاری کی اطلاع ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد تمام احتیاطی اقدامات کیے گئے اور جیسے ہی مزید معلومات دستیاب ہوں گی فراہم کی جائیں گی۔
متحدہ عرب امارات کی وفاقی اتھارٹی برائے نیوکلیئر ریگولیشن نے تصدیق کی ہے کہ اس آتشزدگی کے نتیجے میں بجلی گھر نظاموں پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے اور تمام یونٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
دریں اثنا ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے ایران کی تجویز کے جواب میں امریکہ نے پانچ شرائط عائد کی ہیں۔
ایرانی فوجی اور سکیورٹی حلقوں کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق امریکی شرائط درج ذیل ہیں: امریکہ کی جانب سے ایران کو جنگی ہرجانہ ادا نہیں کیا جائے گا، چار سو کلو گرام افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کیا جائے گا، صرف ایرانی ایک جوہری تنصیب برقرار رہے گی، ایران کے منجمد اثاثوں کا 25 فیصد بھی نہیں دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مذاکرات تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے سے مشروط ہوں گے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے پیش کی گئی پانچ شرائط یہ ہیں: تمام محاذوں خاص طور پر لبنان میں جنگ کا خاتمہ، ایران پر پابندیوں کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی، ایران کو جنگی ہرجانے کی ادائیگی اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کیا جائے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق بعض ایرانی میڈیا اداروں نے خبر دی ہے کہ تہران نے امریکی فریق کی جانب سے پاکستانی ثالث کے ذریعے موصول ہونے والی تجاویز کے بعد گزشتہ رات اپنا مؤقف پاکستانی حکام تک پہنچا دیا۔
یہ اطلاعات پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے تہران کے ایک روزہ دورہ کے بعد سامنے آئی ہیں۔