ہمسایہ ملک کو مٹانے کی دھمکی ذہنی دیوالیہ پن، تباہی دوطرفہ ہوگی: پاک فوج

  • اتوار 17 / مئ / 2026

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بھارتی آرمی چیف کے اشتعال انگیز بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کی ایٹمی ہمسایہ ملک کو جغرافیہ سے مٹانے کی دھمکی ذہنی دیوالیہ پن، جنگی جنون اور اشتعال انگیزی کی مظہر ہے۔ بھارت  پرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرے۔

بھارت کے آرمی چیف جنرل اوپندر دویدی نے ایک  انٹرویو میں کہا  تھا  کہ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ جغرافیہ  یا تاریخ کا حصہ بننا چاہتا ہے ۔

آئی ایس پی آر  نےکہا ہے کہ ہندوتوا کے زیرِ اثر بھارت میں پائے جانے والے وہم، خوش فہمی اور پاکستان کے خلاف ہمہ وقت موجود بدخواہی کے برعکس، پاکستان پہلے ہی عالمی سطح پر ایک اہم ملک، ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت اور جنوبی ایشیا کے جغرافیے اور تاریخ کا ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے۔ بھارتی آرمی چیف کا بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارتی قیادت نہ تو پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم کر سکی ہے اور نہ ہی آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود درست اسباق سیکھ پائی ہے۔یہی متکبرانہ، جنگی جنون پر مبنی اور تنگ نظر ذہنیت بارہا جنوبی ایشیا کو جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیلتی رہی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا ہے کہ ایک خودمختار ایٹمی ہمسایہ ملک کو جغرافیے سے مٹانے کی دھمکی دینا نہ تو سٹریٹجک اشارہ ہے اور نہ ہی سفارتی دباؤ بلکہ یہ ذہنی دیوالیہ پن، جنگی جنون اور اشتعال انگیزی کا مظہر ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسی کسی جغرافیائی تباہی کے نتائج یقینی طور پر دوطرفہ اور ہمہ گیر ہوں گے۔ ذمہ دار ایٹمی ریاستیں تحمل، پختگی اور سٹریٹجک سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں، وہ تہذیبی برتری یا قوم مٹانے کی زبان استعمال نہیں کرتیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے مزید کہا گیا کہ بھارتی بیانیہ  اس تاریخی حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ بھارت خطے میں دہشت گردی کے فروغ، ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی، علاقائی عدم استحکام، سرحد پار ٹارگٹ کلنگز اور عالمی سطح پر منظم غلط معلوماتی مہمات میں ملوث رہا ہے۔  بھارت کا جارحانہ رویہ دراصل اعتماد سے زیادہ اس مایوسی کا عکاس ہے جو پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ناکامی کے باعث مزید نمایاں ہوئی، اور جسے معرکۂ حق کے دوران کھل کر بے نقاب ہوتے دیکھا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے واضح کیا کہ بھارتی قیادت کو چاہئے وہ جنوبی ایشیا کو ایک اور بحران یا جنگ کی طرف دھکیلنے سے گریز کرے کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف پورے خطے بلکہ اس سے باہر بھی تباہ کن ثابت ہوں گے۔

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بھارت کو پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، بصورتِ دیگر پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوئی بھی کوشش ایسے نتائج کو جنم دے سکتی ہے جو نہ جغرافیائی حدود تک محدود ہوں گے اور نہ ہی بھارت کے لیے سٹریٹجک یا سیاسی طور پر قابلِ قبول ہوں گے۔

انڈین فوج کے سالانہ سول، ملٹری مباحثے ’سینا سمواد 2026‘ میں انڈین فوج کے سربراہ اندرونی اور بیرونی خطرات اور مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی پر عوام کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انڈین آرمی چیف جنرل اُپندر دویدی نے پاکستان پر دہشت گردوں اور جہادی تنظیموں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان دہائیوں سے انہیں پناہ دے رہا اور جب انڈیا اس پر کوئی ردِعمل دیتا ہے تو وہ اس سے انکار کرتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان انڈین فوجی سربراہان اور سول قیادت کے اس نوعیت کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

جنرل اُپندر دویدی کا کہنا تھا کہ جدید جنگ اور قومی سلامتی کی منصوبہ بندی کے بارے میں پوری قوم کا ایک نقطہ نظر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ جغرافیے کا حصہ رہبا چاہتا ہے یا تاریخ اک حصہ بننا چاہتا ہے۔