پاکستان کی طرف سے امارات کے جوہری پلانٹ پر حملہ کی مذمت
پاکستان نے 17 مئی 2026 کو متحدہ عرب امارات کے شہر براکہ میں قائم نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ امارات کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کسی بھی جوہری تنصیب کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘
وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کا موقف ہے کہ جوہری تنصیبات کو کسی بھی صورت نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے، کیونکہ ایسے اقدامات انسانی جانوں، ماحول اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے تباہ کن اور ناقابلِ تلافی نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سویلین نیوکلیئر انفراسٹرکچر کا تحفظ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی اصول ہے جس پر ہر صورت میں عمل ہونا چاہیے۔ پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے بھی متحدہ عرب امارات کے براکہ کے قریب ڈرون حملے کے نتیجے میں جوہری بجلی گھر میں لگنے والی آگ کے بعد فوری طور پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انڈین وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انڈیا متحدہ عرب امارات میں براکہ کے جوہری بجلی گھر کو نشانہ بنانے والے حملے پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ اس نوعیت کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور خطرناک حد تک کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں۔”
واضح رہے کہ گزشتہ شب متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کے حکام کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں الظفرہ ریجن میں براکہ جوہری بجلی گھر کے اندرونی حصار کے باہر موجود ایک جنریٹر میں آگ بھرک اٹھی تھی۔
جرمنی نے بھی متحدہ عرب امارات اور دیگر شراکت داروں پر ایران کے حالیہ فضائی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ایکس پر جاری ایک بیان میں جرمن چانسلر نے ’جوہری تنصیبات‘ پر حملے کو پورے خطے کے عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
جرمن چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ امریکہ کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرے، اپنے پڑوسیوں کو دھمکیاں دینا بند کرے اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی پابندی کے کھولے۔