پاکستان کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری ہے: ایران

  • سوموار 18 / مئ / 2026

تہران نے امریکی شرائط کا جواب بھیج دیا ہے اور پاکستانی ثالث کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔ سوموار کے روز ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی تجویز کے مندرجات کے بارے میں بتایا ۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایرانی ےتجاویز پر خدشات کا اظہار کیا جس کے بعد ہمیں پاکستانی ثالث کے ذریعے ان کے نکات اور شرائط کا ایک مجموعہ موصول ہوا۔ تہران کی جانب سے 14 نکاتی منصوبہ بھیجے جانے کے اگلے ہی دن انہیں امریکی شرائط موصول ہوئیں۔ گزشتہ چند دنوں میں ان نکات کا جائزہ لیا گیا اور اس کے جواب میں ہماری طرف سے ردِعمل بھی فراہم کر دیا گیا ہے۔ جبکہ پاکستانی ثالث کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر نہ تو کسی قسم کی بات چیت کرے گا اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ۔‘ انہوں نے یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بات قطعی ہے کہ یہ کوئی ایسا موضوع نہیں جس پر ہم بات چیت یا سمجھوتہ کریں۔ معاہدہ عدم پھیلاؤ کے تحت ایران کے افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جا چکا ہے۔‘

بقائی نے امریکہ اور ایران کے درمیان شرائط کے تبادلے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ایران کے مطالبات واضح ہیں۔‘ ان کے مطابق ’مثال کے طور پر ایران کے منجمد اثاثوں پر سے پابندیاں ختم ہونے کو اپنی شرط کہتے ہیں جبکہ ہم اسے اپنا مطالبہ قرار دیتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ اب بین الاقوامی سطح پر قابلِ اعتبار نہیں رہا اور خطے کے ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات، کو حالیہ مہینوں کے واقعات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ان کے بقول امریکی موجودگی نے خطے کے امن کو بہتر بنانے کے بجائے اسے شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔‘