ڈاکٹر عشرت حسین اور بیورو کریسی کا زوال
- تحریر نسیم شاہد
- سوموار 18 / مئ / 2026
اس سوال کا جواب تو آج تک نہیں مل سکا کہ قیام پاکستان کے دس پندرہ سال بعد تک ترقی کرتے پاکستان کر ریورس گیئر کیسے لگا، دنیا کے بہت سے ممالک کو اپنی ترقی سے حیرت زدہ کرنے والا نوزائیدہ ملک یکدم اُلٹا کیوں چلنے لگا۔اس پر ایک جامع تحقیق ہونا چاہئے تھی، مگر نہیں ہوئی،کیونکہ اس میں تو اپنے ہی پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں۔
قرضہ دینے والے ملک سے قرضہ لینے والا ملک بننے میں پاکستان نے جو سفر کیا ہے اس کا کوئی تو سبب ہو گا، کوئی تو ذمہ دار ہو گا۔مگر نہیں صاحب اس طرف کوئی نہیں آتا، پاکستان کے ساتھ یا بعد میں آزاد ہونے والے ملک ہم سے آگے نکل گئے،ا پنے پیروں پر کھڑے ہو گئے۔ نہ صرف معاشی لحاظ سے بلکہ اپنے سیاسی و انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے بھی، مگر ہم پہلے تو قیام کے بعد آئین بنانے کے تجربات کرتے رہے، 26سال بعد جب آئین بنانے میں کامیاب ہوئے تو اس دوڑ میں لگ گئے کہ اس میں من پسند ترامیم کیسے کرنی ہیں۔27 ترامیم ہو چکی ہیں اور اب 28 ویں ترمیم کا شہرہ ہے۔ دیکھتے ہیں اس بار تھیلی سے کیا نکلتا ہے اور جلد ہی29ویں ترمیم کی ضرورت تو پیش نہیں آتی۔
کہتے ہیں فتح کے سب وارث ہوتے ہیں ناکامی کا کوئی ذمہ نہیں لیتا۔ پاکستان کو ایک خوشحال، مستحکم اور انتظامی لحاظ سے مضبوط ملک بنانے کی راہ میں رکاوٹ کس نے ڈالی؟ اس کا تعین کبھی نہیں ہوا، نہ ہو گا۔ سیاستدان اپنا کمبل اتار کر اسٹیبلشمنٹ پر ڈال دیتے ہیں اور وہاں سے ذمہ داری بیورو کریسی کی ناکامی پر منتج ہوتی ہے تاہم جب کوئی شفاف ماضی رکھنے والا ذمہ دار فرد اپنے تجربے کی بنیاد پربات کرے تو تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ میں نے دو روز پہلے سابق وفاقی مشیر اور سٹیٹ بنک کے گورنر ڈاکٹر عشرت حسین کا انٹرویو سنا تو ایسا لگا جیسے وہ نظام کا پوسٹ مارٹم کر رہے ہوں۔خاص طور پر انہوں نے بیورو کریسی کے بارے میں جو باتیں کیں،وہ اس لئے دِل کو لگیں کہ بیورو کریسی کا زوال دیکھ کر لگ تو ایسا ہی رہاہے کہ لٹیا ڈبونے میں ان کا کردار بہت زیادہ نہیں تو بہت کم بھی نہیں ہے۔ جب ڈاکٹر عشرت حسین نے یہ کہا ”پاکستان بننے کے بعد تو ہمارے پاس لکھنے کے لئے کاغذ اور سیاہی بھی نہیں ہوتی تھی، مگر ہمارے پاس جذبہ تھا۔1990 تک ہماری گروتھ 6فیصد،انڈیا کی تین اور بنگلہ دیش کی ایک فیصد تھی۔ لوگ پاکستان یہ دیکھنے آتے کہ یہ ملک تیز رفتار ترقی کیسے کر رہا ہے۔ اُس وقت کے بیورو کریٹس پاکستان کے لئے کام کرتے تھے، لیکن آج کے بیورو کریٹس اپنے پلاٹس، پرس اور تنخواہوں کے لئے کام کرتے ہیں“۔
آگے چل کر انہوں نے ایک اور اہم بات کی ”مجھے شرم آتی ہے جب میں پاکستانی بیورو کریسی سے ملتا ہوں تو اُن کا سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے فلاں پوسٹ میں الاؤنسز کتنے ہیں، نئی بڑی گاڑی آ رہی ہے یا نہیں،اس پوسٹ کے نیچے کتنے کیمپ آفس ہیں اور کتنے بیرونی دوروں کا امکان ہے، جب آپ کا معیار یہ ہو تو ملک کے لئے آپ خاک سوچیں گے؟“۔ یہ بدعت تو عام رہی ہے کہ من پسند پوسٹنگ کے لئے بیورو کریٹس سیاسی لوگوں کے گھروں کا طواف کرتے رہے ہیں۔پنجاب میں رہنے کے لئے ہر حد تک جاتے تھے۔ اس وقت ارکان اسمبلی کی وقعت کچھ گھٹ گئی ہے اور وزیراعلیٰ مریم نواز تقرریاں خود کرتی ہیں مگر پھر بھی بیورو کریٹس کی کوششیں جاری رہتی ہیں۔ میرٹ پر صلاحیت کے مطابق تقرری کا خود کار نظام نہ ہونے کے باعث افسروں کے اندر میرٹ پر کام کا جو جذبہ ہونا چاہئے وہ ماند پڑتا گیا۔ مصلحت سے کام لینے کی ایک ایسی خو پیدا ہو گئی جو اُن بیورو کریٹس کی نسبت جو غلط کام پر حرفِ انکار زبان پر لاتے تھے،جی حضوری کی بیورو کریٹک کلاس پیدا ہو گئی جو یہ کہتی ہے ہم نے فلاں کام حکمران کے ویژن کے مطابق کیا ہے ۔ اگر ان کا ویژن بھی نہیں ہے تو کون سا بڑا کام کر سکتے ہیں۔
میرے کئی جاننے والے دوست بیورو کریسی میں ہیں۔ وہ کھڈے لائن پوسٹ سے اتنا خوفزدہ رہتے ہیں کہ بس نوکری کر رہے ہوتے ہیں۔فیلڈ پوسٹنگ یا مین سٹریم کی پوسٹنگ جیسے سیکرٹری، ادارے کا سربراہ اور کسی خود مختار محکمے کا سربراہ بننا اُن کی خواہش ہوتی ہے لیکن اگر کسی چھوٹے سے محکمے کا ممبر بنا دیا جائے یا افسر بکارِ خاص کی حیثیت سے سیکرٹریٹ میں حاضری کے آرڈر جاری ہو جائیں تو انہیں غشی کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ محکمے بھی محدود ہیں اور ڈویژن و اضلاع بھی زیادہ نہیں جبکہ اس کے مقابلے میں افسروں کی تعداد دو تین گنا زیادہ ہوتی ہے جہاں میرٹ کی شفافیت نہ ہو تو ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کسی بھی طرح کوئی کروفر والی پوسٹ حاصل کی جائے، کیونکہ جتنا وقت او ایس ڈی کی حیثیت سے ضائع ہوتا ہے، اتنی ہی مراعات اور من و سلویٰ کے مواقع بھی ضائع ہو رہے ہوتے ہیں۔ایک بار میرے او ایس ڈی بیورو کریٹ دوست مجھے ملنے آئے، باتوں باتوں میں جب میں نے کہا آج کل تو موج ہو گی، نہ کوئی ذمہ داری، نہ کوئی پریشر، تنخواہ بھی پوری۔ تو اُن کا جملہ تھا، زخموں پر نمک چھڑک رہے ہو۔انہوں نے کہا سب سے بڑی ذلت یہ ہوتی ہے کہ سیکرٹریٹ میں سیکشن افسر کے پاس جا کر حاضر لگواؤ۔ کہاں پوسٹنگ کی شان و شوکت اور کہاں فراغت کی یہ ذلت۔
ڈاکٹر عشرت حسین جیسی بڑی شخصیات جب کبھی زبان کھولتی ہیں تو ہمیں اُن کی باتیں غور سے سننا چاہئیں۔ باقی باتیں تو چھوڑیں،اس کا جواب کسی کے پاس ہے کہ عوام کو دفتروں،تھانوں،مال خانوں، ہسپتالوں خود اس نظام سے ریلیف کیوں نہیں مل رہا، رکاوٹ کیا ہے؟ ایک ڈپٹی کمشنر تو اقتدار کا آج بھی گھنٹہ گھر ہے، پھر اُس کے ضلع میں مخلوقِ خدا ماری ماری کیوں پھرتی ہے۔کیا خوف ہے کہ اپنے نظام کے نیچے عوام کو تنگ کرنے والوں کے خلاف آہنی شکنجہ نہیں کستا۔ اُن کے اندر کا جو یہ خوف کہ کہیں مجھے ٹرانسفر نہ کرا دیا جائے، مصلحت پسند اور کمزور بنا دیتا ہے۔ بات وہی ہے کہ اُس کی نظر میں اپنے منصب کی توقیر اور تقاضے نہیں، بلکہ وہ مراعات، سہولتیں اور مستقبل سنوارنے کے مواقع ہوتے ہیں، جنہیں وہ کھونا نہیں چاہتا۔اس کے بعد تو زوال ہی آنا ہے جواب ہمارے گرد تار عنکبوت بن چکا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)