الطافِ صحافت
- تحریر حامد میر
- سوموار 18 / مئ / 2026
الطاف حسن قریشی صاحب کو دیکھ کر مجھے اپنا بچپن یاد آ جاتا تھا۔ ہمارے والد صاحب بچوں کے دو جرائد ’’نونہال‘‘ اور ’’تعلیم و تربیت‘‘ ہمیں پڑھنے کیلئے دیتے تھے لیکن میں ان جرائد سے زیادہ ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ اور’’سب رنگ ڈائجسٹ‘‘میں دلچسپی لیتا۔
الطاف حسن قریشی صاحب سے پہلا تعارف اردو ڈائجسٹ کے ذریعے ہوا تھا۔ جب میں نے میدان صحافت میں قدم رکھا تو وہ ان بزرگوں میں سے ایک تھے جنہوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی۔ جب بھی مجھ پر کوئی مشکل وقت آتا تو وہ فون کرکے ہمت دیتے۔ 2014 میں مجھ پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا تو وہ مجیب الرحمان شامی صاحب اور کچھ دیگر صحافیوں کے ساتھ وفد کی صورت میں عیادت کیلئے آئے، کافی دیر تک میری دلجوئی کرتے رہے اور میرے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔ میں اُنہیں اکثر کہتا کہ آپ ہماری بچپن کی محبت ہیں۔ 16مئی کو اُن کے انتقال کی خبر ملی تو پہلا خیال یہ آیا کہ اب وہ فون پھر کبھی نہیں آئے گا جس میں وہ کہا کرتے کہ میں آپ کے بارے میں بڑا فکرمند رہتا ہوں۔ کہا کرتے کہ آپ سچ ضرور بولئے لیکن ذرا احتیاط بھی کیجئے۔
الطاف حسن قریشی کا تعلق دائیں بازو سے تھا لیکن وہ ہر قسم کی حکومتوں کے دور میں گرفتار ہوتے رہے۔ انہیں ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت نے بھی گرفتار کیا اور جنرل ضیاالحق کی فوجی حکومت نے بھی گرفتار کیا۔ بھٹو صاحب کے ساتھ اُن کے اختلاف کا قصہ بڑا دلچسپ ہے۔ 1966 میں ذوالفقار علی بھٹو وزیر خارجہ تھے۔ تاشقند معاہدے پر فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت کےساتھ بھٹو کا اختلاف ہو گیا ۔ ایک دفعہ ہوائی جہاز میں کراچی سے اسلام راولپنڈی آتے ہوئے وزیر خارجہ کی قریشی صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ بھٹو صاحب نے انہیں بتایا کہ تاشقند معاہدے پر اُن کے کیا تحفظات ہیں، قریشی صاحب نے بھٹو کے ساتھ گفتگو اُردو ڈائجسٹ میں شائع کردی۔ جس پرفیلڈ مارشل اپنے وزیر خارجہ سے ناراض ہو گئے۔ بھٹو صاحب نے الطاف حسن قریشی سے تقاضا کیا کہ آپ میری تردید شائع کردیں۔ اس سے قبل کہ تردید شائع ہوتی بھٹو صاحب کو وزارت خارجہ سے نکال دیا گیا۔ پھر انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور پاکستانی سیاست کا رخ ہی بدل دیا۔
کچھ سال کے بعد بھٹو صاحب کی حکومت ختم کرکے جنرل ضیاالحق نے اقتدار پر قبضہ کیا تو الطاف حسن قریشی نے جنرل ضیاالحق کا ایک انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو اُردو ڈائجسٹ میں شائع ہوا تو فوجی ڈکٹیٹر بھی اُن سے ناراض ہو گیا کیونکہ قریشی صاحب کے کچھ سوالات اور اُن کے جواب سے جنرل ضیا کا بھٹو سے ذاتی عناد سامنے آ رہا تھا۔ 20اکتوبر 1977 کو الطاف حسن قریشی کو گرفتار کرکے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں بند کر دیا گیا جہاں بھٹو صاحب پہلے سے قید تھے۔ الطاف حسن قریشی صاحب نے 2017 میں عطاالحق قاسمی کو پی ٹی وی پر انٹرویو میں بتایا کہ ایک دفعہ بھٹو صاحب نے جیل میں اپنے مشقتی کے ذریعے مجھ سے اُردو ڈائجسٹ کا وہ شمارہ مانگا جس میں جنرل ضیا کا انٹرویو شائع ہوا تھا ۔ قریشی صاحب نے کسی نہ کسی طریقے سے یہ شمارہ بھٹو صاحب کو فراہم کر دیا اور پھر بھٹو صاحب نے اس انٹرویو کا ذکر اپنی کتاب ’’اگر مجھے قتل کر دیا گیا‘‘ میں کیا جو انہوں نے جیل میں لکھی تھی۔
یہ الطاف حسن قریشی کی اعلیٰ ظرفی وصحافتی دیانت تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں اُنہیں اور اُن کے بھائی اعجاز حسن قریشی کو ایک دفعہ نہیں بار بار گرفتارکيا لیکن الطاف حسن قریشی نے بھٹو کےساتھ اختلاف کو ذاتی دشمنی نہیں بنایا بلکہ جیل میں بھی ان کے ساتھ تعاون کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دائیں اور بائیں بازو کے صحافی اپنے سیاسی و نظریاتی اختلافات کے باوجود آزادی صحافت پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو جاتے تھے۔ بھٹو دور میں الطاف حسن قریشی، اعجاز حسن قریشی ، مجیب الرحمان شامی، حسین نقی اور مظفر قادر گرفتار ہوئے تو دائیں بائیں بازو کے صحافیوں نے مل کر اُن کی رہائی کیلئے مہم چلائی۔ جنرل ضیا کے دور میں الطاف حسن قریشی اور حسین نقی دوبارہ گرفتار کئے گئے تو جنرل ضیا نے صحافیوں کا اتحاد توڑنے کیلئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس میں ایک نیا گروپ کھڑا کر دیا۔ اس گروپ بندی نے صحافت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ مجید نظامی کا تعلق دائیں بازو سے تھا اور اے پی پی کے ڈائریکٹر جنرل احمد بشیر (بشریٰ انصاری کے والد) کا تعلق بائیں بازو سے تھا۔ الطاف حسن قریشی اور دیگر صحافیوں کی گرفتاری کے خلاف یہ سب وفد بنا کر وزیراعظم بھٹو سے ملنے گئے۔ بعد میں احمد بشیر سرکاری ملازمت سے برطرف کر دیئے گئے۔ 1996 میں ایک اُردو اخبار کا ایڈیٹر بننے کے بعد مجھے کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای )اور اے پی این ایس کے اجلاسوں میں مدعو کیا جانے لگا۔ الطاف حسن قریشی صاحب کے ساتھ ملاقاتوں کا نیا سلسلہ چل نکلا۔ وہ مجھ سے سی پی این ای یا اے پی این ایس کے معاملات پر کم اور میرے کالموں کے بارے میں زیادہ گفتگو کرتے ۔ بعض معاملات پر اُن کا نقطہ نظر مجھ سے مختلف ہوتا لیکن آئین کی بالادستی پر ہمیشہ مجھ سے اتفاق کرتے۔
وہ مارشل لاکے سخت خلاف تھے ۔ مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے 1999 میں اقتدار پر قبضہ کیا تو کچھ دنوں بعد الطاف حسن قریشی کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ لیفٹیننٹ جنرل خالد مقبول کور کمانڈر لاہور تھے۔ انہیں کہا گیا کہ الطاف حسن قریشی کو گرفتار کرلیا جائے کیونکہ وہ 12اکتوبر 1999 کی فوجی بغاوت کی مخالفت کر رہے تھے۔ خالد مقبول صاحب کے علاوہ اُس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس میجر جنرل احسان الحق نے بھی قریشی صاحب کی گرفتاری کے خلاف رائے دی اور پھر مشرف نے اپنا فیصلہ بدل دیا ۔ جب جنرل پرویز مشرف اپنے اقتدار کے جوبن پر تھے توان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بھوت سوار ہوا۔ الطاف حسن قریشی ان صحافیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مخالفت کی۔ 2019 میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس پرانے پراجیکٹ کو دوبارہ شروع کیا تو میں نے روزنامہ جنگ میں کالم لکھا۔ الطاف حسن قریشی صاحب نے بھی میری تائید میں کالم لکھا
2022 میں انہوں نے بنگلہ دیش کے بارے میں اپنی تمام پرانی تحریروں اور انٹرویوز کو ’’مشرقی پاکستان ۔ ایک ٹوٹا ہوا تارا‘‘ کے نام سے ایک کتاب کی صورت میں یکجا کر دیا ۔ ایقان حسن قریشی نے اس علمی خزانے کو مرتب کیا۔ اس کوشش کا واحد مقصد یہ تھا کہ آج کے پاکستان میں وہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں جن کے باعث مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بن گیا۔ الطاف حسن قریشی صاحب کی یہ کتاب پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے 1964 میں بنگالی بھائی بہنوں میں پائی جانے والی بے چینی کی نشاندہی شروع کی لیکن اس وقت فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے توجہ نہ دی ۔ اس سیاسی بے چینی اور محرومیوں کا علاج بندوق سے ڈھونڈنے کی کوشش میں 1971 میں پاکستان توڑ دیا گیا ۔
الطاف حسن قریشی نے 15سال کی عمر میں پاکستان بنتے دیکھا اور 94سال کی عمر میں پاکستان ٹوٹنے کا غم لئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وہ پاکستانی صحافت کا فخر تھے۔ ہر پاکستانی کا فخر تھے۔ مجیب الرحمان شامی انہیں پاکستانی صحافت کا داتا گنج بخش کہتے تھے جن کے ارد گرد ہر وقت زائرین کا جمگھٹا رہتا ۔ ڈاکٹر طاہر مسعود نے ’’الطاف صحافت‘‘ کے نام سے کتاب مرتب کرکے اپنے پیر و مرشد کو خراج تحسین پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ الطاف حسن قریشی صاحب کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے راستے پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)