ٹرمپ کا سعودیہ، قطر اور یو اے ای کی درخواست پر ایران پر حملہ مؤخر کرنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر طے شدہ امریکی حملہ دو سے تین دن مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ قطر، سعودیہ، یو اے ای نے درخواست کی کہ ہم ایران پر حملے کا منصوبہ مؤخر کردیں، عرب ممالک کی درخواست پر حملے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ عرب رہنما سمجھتے ہیں اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ان کی رائے میں ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو دنیا بھر کے لئے قابل قبول ہوگا۔ رہنما سمجھتے ہیں معاہدے میں نہایت اہم نکتہ یہ ہوگا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم آج ایران پر طے شدہ حملہ نہیں کریں گے، میں نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ اگر کوئی قابلِ قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو ایران پر مکمل اور بڑے پیمانے پر حملے کے لئے کسی بھی لمحے تیار رہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملہ دو سے تین دن کیلئے مؤخر کیا، تہران کے پاس وقت بہت کم ہے، اگر ایسی ٖڈیل ہو کہ ایران نیو کلیئر ہتھیار حاصل نہ کرے تو ہم شاید مطمئن ہو جائیں۔ ایسا لگتا ہے ایران سے ڈیل ہونے کا اچھا موقع ہے۔
رپورٹر کے اس سوال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’دوسرے ملکوں نے مجھے اس سے روکا۔ ہم کل ایران پر ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہے تھے۔ میں نے اس منصوبے کو روک دیا ہے، شاید ہمیشہ کے لیے۔ لیکن ممکنہ طور پر کچھ دیر کے لیے۔‘ اس بارے میں ٹرمپ نے پہلے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ انہوں نے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کی درخواست پر اس ’بڑے حملے‘ کا منصوبہ موخر کیا ہے۔ ٹرمپ کے بقول فی الحال مذاکرات کا ’سنجیدہ‘ مرحلہ جاری ہے۔
ٹرمپ نے خبردار بھی کیا ہے کہ اگر قابل قبول معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ ’کسی بھی لمحے ایران پر مکمل، بڑے پیمانے کے حملے کے لیے آگے بڑھنے کو تیار ہوگا۔‘
اسرائیلی اور امریکی افواج نے 28 فروری کو ایران پر بڑے فضائی حملے شروع کیے تھے۔ جبکہ تہران نے خلیج کے مختلف ممالک میں اسرائیل اور امریکی اہداف پر ڈرونز اور میزائل داغ کر جواب دیا تھا۔