ملتان میوزیم، ایک ثقافتی شناخت
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- منگل 19 / مئ / 2026
ملتان اور دمشق دو ایسے زندہ شہر ہیں جن کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ زندہ قومیں ہمیشہ اپنی تہذیب و ثقافت کی شناخت پر ہی زندہ رہتی ہیں۔
ایک عرصے سے اس شہر کی قدامت اور تاریخی حیثیت اس بات کی متقاضی تھی کہ ملتان کی تاریخ و ثقافت کو نمایاں کرنے کے لئے اس خطے میں ایک میوزیم قائم ہو جو ملتان کی اقدارو روایات اور تہذیب و ثقافت کا ائینہ دار ہو۔ الحمد للہ عالمی یوم عجائب گھر کے موقع پر ملتان میوزیم کا افتتاح کردیا گیا ہے۔ 111.70 ملین روپے کی لاگت سے 10 کنال پر تعمیر ملتان میوزیم جنوبی پنجاب کی تاریخ و ثقافت کا نیا مرکز بن گیا ہے۔ ڈی جی آثارِ قدیمہ پنجاب ظہیر عباس ملک نے کمشنر عامر کریم خاں کے ہمراہ ملتان میوزیم کا افتتاح کیا۔ اہل ملتان کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں عامر کریم خان کی صورت ایسی شخصیت میسر ہے جو صحیح معنوں میں Son of Soil کی حیثیت سے خطہ ملتان کی تعمیر و ترقی کے لئے بحثیت کمشنر دن رات کوشاں ہیں۔
ملتان میوزیم میں وادی سندھ تہذیب سے لے کر جدید دور تک کی تاریخ کو محفوظ کیا گیا ہے۔ محکمۂ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر پنجاب کے زیر اہتمام عالمی یومِ عجائب گھر پر ملتان میوزیم عوام کیلئے کھول دیا گیا ہے جو یقیناً اس تاریخی شہر کے باسیوں کے لئے ایک یادگار دن ہے۔ میوزیم میں گندھارا تہذیب، مغلیہ دور اور ملتان کی تاریخی و ثقافتی جھلکیوں کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ قدیم سکے، تاریخی کرنسی اور مختلف ادوار میں رائج مالی نظام کو بھی میوزیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔
میوزیم میں سکوں کی تیاری کے قدیم طریقوں اور تاریخی نوادرات کو جدید انداز میں ڈسپلے کیا گیا ہے۔ بلیو پوٹری، کاشی گری، کیمل سکن آرٹ اور ملتان کی روایتی دستکاریوں کو خصوصی گیلریز میں جگہ دی گئی ہے جس سے اس شہر کی ثقافت مزید نمایاں ہوگی۔ میوزیم قوموں کی تہذیبی شناخت اور تاریخی ورثے کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ افتتاح کے موقع پر کمشنر ملتان عامر کریم خان کا کہنا تھا کہ ملتان میوزیم میں جنوبی پنجاب کی صدیوں پر محیط تاریخ، ثقافت اور فنون ایک چھت تلے اکٹھا کردی گئی ہے۔ جنوبی پنجاب میں اب تک کوئی میوزیم موجود نہیں تھا، ملتان میوزیم اس کمی کو پورا کرے گا۔
حکومت پنجاب کی جانب سے ملتان میوزیم جنوبی پنجاب کی عوام
کیلئے ایک اہم ثقافتی تحفہ ہے۔
ملتان میوزیم خطے کی تہذیبی شناخت، ثقافتی ورثے اور تاریخی شعور کو نئی نسل تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ڈی جی آ ثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے مطابق ملتان میوزیم شہریوں کیلئے مثبت، معلوماتی اور ثقافتی تفریح کا نیا مرکز ثابت ہوگا۔ ۔عالمی یومِ عجائب گھر کے موقع پر ملتان میوزیم میں عوام کیلئے داخلہ بھی مفت رکھا گیا تھا۔ کمشنر ملتان کی یہ خوبی ہے کہ وہ ملتان کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختلف طبقات سے مشاورت بھی کرتے ہیں، ان کو معاونت کی ترغیب بھی دیتے ہیں اور منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر میڈیا اور اہل قلم کو مدعو بھی کرتے ہیں۔
کمشنر ملتان عامر کریم خان کی دعوت پر برطانیہ ہونے کی وجہ سے اس اہم موقع پر شرکت نہ ہو پائی مگر ملتان میوزیم کے قیام اور افتتاح کے حوالے سے لکھے اس کالم کے ذریعے شرکت کر کے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ خوش قسمتی سے گزشتہ دنوں لندن میں برطانیہ کے ہزاروں سال پرانے برٹش میوزیم کو دیکھنے کا اتفاق ہوا تو عقل دنگ رہ گئی کہ ہزاروں سال پرانی مختلف ادوار کی تہذیب و ثقافت کو کس قدر جان کاری اور مہارت سے محفوظ کیا گیا ہے۔ مختلف قوموں اور مختلف ادوار اس کے ذریعے اجاگر کئے گئے ہیں۔ رومن، مصر ی اور برطانوی تہذیب و ثقافت پوری طرح نمایاں نظر آ تی ہے۔
ملتان ایک قدیم زندہ شہر ہے اس لئے ملتان میوزیم کو صرف جنوبی پنجاب ہی نہیں بلکہ قومی اور عالمی سطح کا میوزیم بنانا ہوگا۔
جنوبی پنجاب میں رہنے والی مختلف قوموں زبانوں ادب اور ثقافتی حوالوں کو محفوظ کرنا ہوگا۔ محمد بن قاسم اور ملتان کے دیگر حکمرانوں اور اس تاریخی شہر پر حملہ آ وروں کی تاریخ مرتب کرنا ہوگی۔
کمشنر ملتان عامر کریم خان کو چاہئے کہ میڈیا، اہل قلم، دانشوروں اور تاریخ دانوں پر مشتمل اہل بصیرت کی فعال کمیٹی تشکیل دی جائے۔ یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے قابل افراد کی معاونت حاصل کی جائے تاکہ ملتان میوزیم اس قدیم تاریخی اور ثقافتی شہر کا اہم مرکز سیاحوں کے لئے مرکز نگاہ اور اس خطے کا آئینہ دار ثابت ہو۔ چونکہ ملتان دنیا کے قدیم زندہ شہروں میں شمار ہوتا ہے، اس کے عجائب گھر میں ایسی چیزیں ہونی چاہئیں جو اس کی تاریخ، تہذیب، مذہبی ورثے اور ثقافت کو واضح کریں۔ مثال کے طور پر قدیم نوادرات، پرانے سکے، برتن، ہتھیار، زیورات، مہریں اور روزمرہ استعمال کی اشیا جو قدیم ملتان کی زندگی دکھائیں۔
ملتان قلعہ اور تاریخی عمارتوں کے آثار ان کے نقشے، تصاویر، ماڈل اور کھدائی سے ملنے والی اشیا اور صوفیائے کرام سے متعلق مواد۔ ملتان “مدینۃ الاولیا” کہلاتا ہے، اس لیے حضرت شاہ رکن عالم رح، حضرت بہاوالدین زکریا رح ملتانی، حضرت شاہ شمس سبزواری رح اور دیگر بزرگان کے مخطوطات، تصاویر، استعمال کی اشیا اور ان کی تعلیمات۔
قدیم مخطوطات اور کتب، عربی، فارسی اور سرائیکی زبان کے نایاب نسخے، تاریخی نقشے اور دستاویزات اور مختلف ادوار میں ملتان کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت دکھانے کے لیے ملتان کی تہذیبی و ثقافتی جھلکیاں، سرائیکی ثقافت، روایتی لباس، موسیقی کے آلات، اور میلوں ٹھیلوں کی نمائندگی ہونی چاہئے۔
ملٹی میڈیا گیلری اور ایسی جدید ڈیجیٹل نمائشیں جو زائرین کو ملتان کی تاریخ کو دیکھنے اور سمجھنے میں مدد دیں۔ حکومت کو بھی چاہئے کہ ملتان میوزیم کے لئے وافر فنڈز مہیا کرے۔ مختصر یہ کہ ملتان کے عجائب گھر میں وہ سب کچھ ہونا چاہئے جو یہ بتا سکے کہ ملتان صرف ایک شہر نہیں بلکہ ہزاروں سالہ تہذیب، علم، تصوف اور ثقافت کا مرکز ہے۔