استحصالی نظام، ذمہ دار کون، عوام یا سیاستدان؟
- تحریر نسیم شاہد
- منگل 19 / مئ / 2026
یہ بحث تو ازل سے جاری ہے کہ پہلے مرغی آئی تھی کہ انڈہ۔ ژاں پال سارتر جیسے فلسفی یہ دور کی کوڑی لائے تھے کہ یہ کائنات پہلے سے موجود تھی بس انسان نے اسے آکر دریافت کیا۔ وہ اس وجودی فلسفے کے بہت بڑے مبلغ تھے، کسی چیز کا خیال پہلے نہیں آیا بلکہ کسی بھی چیز کو دیکھ کے خیال انسان کے ذہن میں آتا ہے۔
خیر وہ اس نظریے کو ثابت کرنے کے لئے کئی جگہ بھٹکا۔ موضوع آج یہ نہیں تاہم اس سے ملتا جلتا سوال یہ ہے ہمارے ملک میں اشرافیہ پہلے ٹھیک ہوگی یا عوام پہلے سیدھی راہ پر چلنا شروع کریں گے۔ اکثر لوگ عوام کو طعنے دیتے ہوئے کہتے ہیں جیسا منہ ویسی چپیڑ یا جیسی قوم ویسے فرشتے۔ اب یہ نظریہ بھی دنیا میں زیرِ گردش رہا ہے کہ کسی قوم کے عوام پہلے درست ہوتے ہیں تو ان کا نظام ٹھیک ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف اسے نظریے کے دعویدار بھی بہت ہیں کہ اچھا نظام اچھی قوم بناتا ہے۔
اب ہم اس بحث میں پڑے رہیں تو یہاں صدیوں تک کوئی تبدیلی نہیں آسکتی، کیونکہ اچھے افراد نظام میں نہیں آئیں گے تو نظام کیسے بہتر ہوگا، اب اچھے لوگ کیسے آئیں؟ دنیا کے ممالک نے اس ڈیڈ لاک کا توڑ یہ نکالا کہ جمہوریت کو شفاف بنیادوں پر کھڑا کر دیا، اس کے نظام انتخاب پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے اور کوئی ایسا خلا بھی نہ رہے جو انتخابات کی شفافیت پر شکوک پیداکرے۔ جب انہوں نے اس کام کو مکمل کرلیا تو سارا بار عوام پر آگیا، اب ان کے پاس کوئی عذر نہ بچا کہ وہ نظام کے بگاڑ کا طعنہ اپنے سوا کسی اور کو دے سکیں۔ان کے نمائندے کہیں سے مسلط نہیں کئے جاتے بلکہ خود ان کا انتخاب ہوتے ہیں۔ گویا یہ فیصلہ ہو گیا کہ ذمہ دار کون ہے۔ آج جمہوریت اور انتخاب کو شفاف بنانے والے ممالک، حکومت اور عوام کے درمیان اتنے بڑے فاصلے کے شکار نہیں کہ حکمران من مانی کر سکیں اور عوام نظام پر انگلیاں اٹھائیں۔ ہمارا مسئلہ کچھ اور ہے۔ ہم اپنے عوام کو یہ تک یقین نہیں دلا سکے کہ وہ جسے ووٹ ڈالتے ہیں پرچی اسی کے نام کی نکلتی ہے۔ خود انتخابات میں حصہ لینے والوں کو علم ہوتا ہے کہ عوام کی ضرورت جلسوں میں بندے دکھانے تک ہے، جہاں تک ووٹوں کا تعلق ہے وہ کسی اور طرف سے بھی آ سکتے ہیں۔ ایک ہوتی ہے جمہوریت اور دوسری ہوتی ہے جوابدہ جمہوریت۔ ہم آج تک جوابدہ جمہوریت سے محروم رہے ہیں۔ منتخب ہونے والے نمائندے اپنے وعدے بھلا دیتے ہیں۔ بننے والی حکومتیں بھی اپنے منشور کو پس پشت ڈال دیتی ہیں۔ جس استحصالی نظام کے خلاف نعرہ لگا کر عوام کو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں وہ ہر بار کچھ اور مضبوط ہو جاتا ہے۔ یہ پہیہ برسہا برس سے کولہو کے بیل کی طرح چل رہا ہے، اب ایسے میں کیا عوام کو یہ الزام دیا جا سکتا ہے کہ اس ساری صورتِ حال کے ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے ایسے نمائندے منتخب نہیں کئے جو ان کے خوابوں کو تعبیر بخش دیں۔
جہاں تک میری تاریخ پر نظر رہی ہے، اس سارے عمل میں قصووار عوام نہیں۔ وہ خوابوں کے پیچھے ایسے دوڑتے رہے ہیں، جیسے بچے کٹی ہوئی پتنگ کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ ان پر ذمہ داری کیسے ڈالی جا سکتی ہے جس نے بھی عوام کے حقوق کا نعرہ لگایا، وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔ جس نے بھی کہا یہ استحصالی نظام نہیں چل سکتا ،اسے لوگوں نے کندھوں پر اٹھا لیا۔ بھلا کون سی سیاسی جماعت ایسی ہے جس نے عوام کے اس مطالبے کو رد کیا کہ انہیں سستا و فوری انصاف، صحت و روزگار کی سہولتیں، اوپر سے نیچے تک پھیل جانے والی کرپشن سے چھٹکارا دلایا جائے۔ میری عمر کے لوگ تو یہ تماشا چھوٹی عمر سے دیکھتے آئے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی تقریریں بھی سنیں، کیا جوشیلا خطاب ہوتا تھا اور کیسے وہ وڈیرانہ، سرمایہ دارانہ اور استحصالی نظام کورگڑ دینے کی باتیں کرتے تھے۔ عوام ان کی باتیں نہ سنتے، انہیں ووٹ نہ دیتے، تب تو کہا جا سکتا تھاکہ عوام تبدیلی کے حق میں نہیں۔ مگر ہوا کیا۔ خود بھٹو دور میں استحصال مزید بڑھ گیا۔ ناانصافی مزید عام ہو گئی، وڈیرے اور سرمایہ دار مزید طاقت بن کے ابھرے۔ گورننس کے حالات اس زمانے میں بھی نہ سنور سکے۔کہنے کو ایک عوامی حکومت آئی تھی اور ایک بڑا سیاسی رہنما وزیراعظم پاکستان بن گیا۔ قصہ مختصر یہ سلسلہ چلتا رہا اور آج تک چل رہا ہے۔ عوام کی خواہشات اوران کے نہ پورے ہونے کی محرومیاں اپنی جگہ ہیں، اب اگر اس بنیاد پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پاکستانی عوام لائی لگ ہیں باربار دھوکہ دینے والوں کو بار بار منتخب کرتے ہیں، تو یہ زیادتی ہوگی۔ کوئی بتائے تو سہی عوام کے پاس چوائس ہی کہاں ہوتی ہے؟ انہیں دو جھوٹے وعدہ فروشوں میں سے ایک کو منتخب کرنا ہوتا ہے۔
البتہ ایک اور سطح ایسی ہے جس میں عوام معاشرے کو بہتر بنانے کے لئے اپنی اپنی جگہ پر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مثلاً وہ تہیہ کرلیں کہ اپنے گلی محلے کو صاف ستھرا رکھنا ہے۔ کچرا پھیلانا نہیں مخصوص جگہوں پر پھینکنا ہے۔ آپس میں لڑنا نہیں بلکہ افہام و تفہیم سے رہنا ہے۔ بے ایمانی،ملاوٹ اور دھوکہ دہی کے بچنا ہے۔ تحمل برداشت اور رواداری کو اپنے علاقے میں فروغ دینا ہے۔ رشوت نہیں دینی بلکہ اس کے خلاف مشترکہ آواز بلند کرنی ہے۔ آپس میں بات بات پر مشتعل ہو کر لڑنا نہیں بلکہ امن و آتشی کے ساتھ مسائل کو حل کرنا ہے۔ گلی محلوں میں آئے روز جو قتل کے واقعات ہو رہے ہیں، یہ آپس میں مل بیٹھ کربات نہ کرنے کا نتیجہ ہیں، انہیں بآسانی روکا جا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ بیگانگی نہ ہو جو ہمارے سماج میں جڑ پکڑ چکی ہے۔ گلیوں، محلوں اور علاقوں میں عوام کے اندر اتحاد اور یکجہتی ہوگی تو نمائندگی کے مراکز اور براجمان شخصیات بھی اپنا قبلہ درست کرلیں گی۔ مثلاً کسی علاقے کا ایس ایچ او اس علاقے کے عوام کی اجتماعی آواز کے آگے کیسے کسی مظلوم کے خلاف ظالم کا ساتھ دینے کی جرائت کر سکتا ہے۔
عوام کو کم از کم ایک کام تو ضرور کرنا چاہیے کہ کسی نمائندے کی بڑی گاڑی اور گن مینوں کو دیکھ کر متاثر ہونے کی بجائے ، اس کا گریبان پکڑیں اور اسے مجبور کریں کہ وہ ان کے مسائل حل کرائے۔ عوام اگر اتنی سی تبدیلی بھی لے آئیں تو میں سمجھتا ہوں ایک بڑی تبدیلی سماج کے دروازے پر دستک دینے لگے گی۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)