پاک فوج بیرونی ہی نہیں، اندرونی دشمنوں کی گرفت بھی کرے!
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 19 / مئ / 2026
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پراپیگنڈے ،فیک نیوز یا بیرونی سرپرستی میں دہشتگردی سے پاکستان کی ترقی نہیں روکی جا سکتی۔ فیلڈ مارشل کی اس بات پر یقین کرنے کے باوجود ملک میں سیاسی بے یقینی، عدم اعتماد اور عوام کے ساتھ فاصلے کی موجودہ صورت حال ملکی ترقی و خوشحالی کے بارے میں متعدد سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ان حالات کومحض خوشنما نعروں کے زریعے تبدیل کرنا ممکن نہیں ہے۔
ڈیفنس فورسز کے سربراہ پر اگرچہ اس سیاسی بے یقینی کی ذمہ داری عائد نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ان سے تقاضہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ حالات بہتر بنانے کے لیے اقدام کریں ۔لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات میں بھی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ پاک فوج اس وقت قومی امور میں موجودہ حکومت کے شانہ بشانہ کام کررہی ہے۔ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی اس بات سے اتفاق کے باوجود کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، حکومت میں شامل اہم اہلکار موجودہ نظام کو ہائبرڈ قرار دیتے ہیں۔ زیادہ دور جانے کی بجائے ملک کے آئینی انتطام میں مسلح افواج کے نگران وزیر دفاع خواجہ آصف خود بھی دعویٰ کرچکے ہیں کی موجودہ حکومت ہائیبرڈ نظام کے تحت کام کررہی ہے۔
بدقسمتی سے کسی ذمہ دار لیڈر یا دانشور نے ابھی تک ’ہائیبرڈ نظام‘ کی کوئی ایسی شفاف تشریح پیش نہیں کی جس کی بنیاد پر یہ مانا جاسکے کہ اس اصطلاح کا حوالہ دیتے ہوئے در حقیقت ملکی آئین کے تحت قائم حکومتی نظام کی بات ہی کی جاتی ہے۔ بلکہ کوئی شفاف وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے یہ شبہ یقین میں تبدیل ہو جاتا ہے کہ جب حکومت بظاہر عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر قائم ہوئی ہو لیکن اس کا اختیار صرف منتخب نمائیندوں کے پاس نہ ہو تو ایسے انتظام کو ہائیبرڈ کہا جاتا ہے۔ اس تفہیم کی روشنی میں فطری طور سے سوال ابھرتا ہے کہ اگر حکومت یا پارلیمنٹ حتمی فیصلہ ساز ادارہ نہیں ہے تو پھر اصل اختیار کہاں پر ہے۔ ایسے میں لامحالہ فوج کی طرف خیال جاتا ہے۔ یادش بخیر اس اصطلاح کا پہلے پہل استعمال تحریک انصاف کی حکومت میں ہؤا تھا جب عمران خان اور ان کے ساتھی فخر سے ایک پیج کی حکومت یا سیاسی امور میں عسکری قیادت کی سرپرستی کا حوالہ دیتے تھے۔
گزشتہ چند برس کے دوران یہ اصطلاح ملکی سیاسی مباحث کا غیر متنازعہ حصہ بن چکی ہے۔ نہ کسی حکومت نے یہ وضاحت کی ہے کہ اس کے فیصلے خود مختاری سے طے پاتے ہیں اور فوجی لیڈر محض حکومت کی دعوت پر ’مشاورت‘ کا فرض ادا کرتے ہیں۔ اور نہ ہی کبھی فوجی ترجمانوں نے یہ ضرورت محسوس کی ہے کہ جب سیاست سے فوج کی لاتعلقی کا ذکر کیا جاتا ہے تو یہ بھی واضح کردیا جائے کہ ملکی معاملات اور قومی فیصلوں میں فوج کی حصہ داری محض منتخب حکومت کی مرضی و منشا کے مطابق طے پاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں جب حکومت ضرورت محسوس کرتی ہے، وہ فوجی لیڈروں کو سفارت کاری یا معاشی و انتظامی امور میں کچھ کردار ادا کرنے پر مامور کردیتی ہے۔ اور جب یہ کام پورا ہوجاتا ہے تو فوجی لیڈر دوبارہ اس معاملہ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
اس غیر واضح اور پراسرار صورت حال میں عام تاثر یہی قائم ہؤاہے کہ اس وقت ملکی اقتدار منتخب ارکان اور فوجی لیڈروں کی شراکت سے انجام دیا جارہا ہے۔ یقینی طور پر معاملات کا یہ انداز وزیر اعظم اور حکومت کی رضامندی سے اختیار کیا گیا ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ کرنے کے باوجود کہ فوج کا ملکی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، فوج تمام امور مملکت میں حصہ دار بنی ہوئی ہے۔ جمہوری آئینی انتظام میں وزیر اعظم اپنی کابینہ کے ساتھ تمام اہم قومی فیصلے کرنے میں خود مختار ہوتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی وزیر اعظم کسی امن سفارت کاری پر چیف آف آرمڈ فورسز کو مامور کرتے ہیں تو کوئی اس پر انگلی نہیں اٹھاسکتا لیکن یہ سوال بہر طور کیا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم کو کل اختیارات پارلیمنٹ میں اکثریت کی وجہ سے حاصل ہوتے ہیں۔ اسی لیے حکومت اور وزیر اعظم کو وقتاً فوقتاً پارلیمنٹ سے اپنے فیصلوں کی تائید کروانا پڑتی ہے۔ البتہ دیکھا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم ہی نہیں بلکہ ان کے وزرا بھی کئی کئی ماہ اسمبلی فلور پر نہیں آتے۔ پارلیمنٹ سے حکومتی و سفارتی امور میں عسکری قیادت کی حصہ داری کی منظوری لینا تو بہت دور کی بات ہے۔ ایسے میں اسمبلیاں بیکار ڈبیٹنگ کلب یا ارکان اسمبلی اور ان کے اہل خاندان کے لیے مراعات اور پروٹوکول کا ذریعہ تو ضرور ہیں لیکن وہاں پر کسی اہم قومی مسئلہ پر کوئی صحت مند گفتگو سننے میں نہیں آتی۔
اس ماحول میں بعض لوگ صرف سوال کرکے رہ جاتے ہیں جبکہ بعض کو اس بات کا قوی یقین ہے کہ اختیارات کا آئینی منبع اگرچہ پارلیمنٹ ہے لیکن اسے فیصلوں میں شراکت دار بنانے کا رواج ختم ہوچکا ہے۔ سالانہ بجٹ منظور کرانے یا کسی آئینی ترمیم کے موقع پر ارکان کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر ضرور لایا جاتا ہے اور مرضی کا ’ووٹ ‘ لینے کے بعد انہیں پھر سے ’آزاد‘ کردیا جاتا ہے۔ س لیے جب فیلڈ مارشل عاصم منیر انتہائی دردمندی سے قومی ترقی کا ذکر کرتے ہیں اور بیرونی سازشوں اور پروپیگنڈے کو ناکام بنا کر ملکی خوشحالی کی راہ ہموار کرنے کی نوید دیتے ہیں تو ان سے دست بستہ یہ کہنا بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ملک کے اندرونی سیاسی انتشار اور بے یقینی ختم کرانے میں بھی کردار ادا کریں۔ ایران امریکہ کے درمیان سفارتی مصالحت کا محیر العقل کارنامہ انجام دینے والے فیلڈ مارشل اگر اس طرف توجہ دیں تو ضرور ملکی سیاسی لیڈروں کو معاملات طے کرنے اور تنازعات ختم کرنے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔
یہ توجہ نہ ہونے کی وجہ سے حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کبھی 28 ویں آئینی ترمیم کے نام سے ملک میں نظام میں اکھاڑ پچھاڑ کی خبریں پھیلائی جاتی ہیں، کبھی اس ترمیم پر ساتھ دینے پر بلاول بھٹو زرداری کو وزیر اعظم بنوانے کا چرچا ہوتا ہے اور کبھی اس معاملہ پر ایوان صدر میں جاری سیاسی دنگل کے بعد صدر زرداری کی علیحدگی کی نوید دی جاتی ہے۔ کبھی وزیر اعظم کا مشیر قومی ٹیلی ویژن پر ووٹر کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کردینے کے حق میں دلائل کا انبار لگاتا ہے اور کبھی اسی حکومت کا وزیر قانون کہتا ہے کہ ابھی تو کسی نئی ترمیم کی کوئی بات ہی زیر غور نہیں۔ اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین کو یہ بیان دینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کہ انہیں حکومت نے کسی نئی آئینی ترمیم کے بارے میں مطلع نہیں کیا۔
اس کے باوجود ملک کا ہر نمایاں صحافی اور ٹاک شو کا میزبان نئی آئینی ترمیم اور اس میں شامل کی جانے والی نت نئی تبدیلیوں کے بارے میں مو شگافیاں کرنے میں مصروف ہے۔ ان میں صرف وہی مبصر شامل نہیں جو بظاہر موجودہ نظام کے خلاف ہیں بلکہ موجودہ حکومت سے فیضیاب ہونے والے صحافی و تجزیہ نگار بھی شامل ہیں۔ گویا چہار طرف آگ برابر لگی ہوئی ہے اور ہر کوئی نت نیا تماشہ لگانے کی دوڑ میں مشغول ہے۔ ایسے میں پاک فوج دشمن کی سازشوں کو ناکام بنا لے گی مگر درون خانہ بیٹھ کر نظام میں نقب لگانے والوں کو روکنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ بوجوہ موجودہ حکومت یا تو یہ پریشان خیالی عام کرنے میں شامل ہے یا وہ حقائق عوام کے سامنے لانے کا حوصلہ نہیں کرتی۔
ایسے میں قو ی مفاد کے ’حقیقی محافظ‘ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہی اپیل کی جاسکتی ہے کہ وہ صرف بیرونی دشمنوں کا ہی پیچھا نہ کریں بلکہ درخت کی شاخ پر بیٹھ کر آری چلانے والوں کی طرف بھی توجہ دیں۔ یا تو اعلان کیا جائے کہ فوج ہی اس ملک کی مالک و مختار ہے ۔ کسی بھی ملک دشمن کے ساتھ وہی سلوک کیاجائے گا جس کا سزاوار بیرونی دشمن ہیں۔ یا پھر عوام کو ان کا حق واپس دے کر کر فوج اس بات کی ضمانت فراہم کرے کہ ملک کا کوئی فیصلہ ان کی مرضی و شراکت کے بغیر نہیں ہوگا۔
بظاہر اس ملک کو کسی مشکل سے بچانے کا یہی راستہ باقی بچا ہے۔ پاک فوج اسی طرح وطن کا حق نمک اداکرسکتی ہے۔