سوال کرنا کیوں ضروری ہے؟

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی  کے دورہ ناروے کے دوران ناروے کی صحافی ہیلے لینگے سوندسن کے ایک سوال نے نہ صرف نریندر مودی کو بدحواس کیا، وزارت  خارجہ کے ترجمانوں کو ان کی پریس کانفرنس میں لاجواب کردیا بلکہ بھارت میں آزادی رائے ، جمہوری معاشرے میں سوال کی اہمیت اور  خود مختار  صحافت پر  جاندار مباحثہ کا   آغاز  ہؤا۔ یہی سوال کی طاقت  ہے۔

کوئی صحافی اپنے سوال کے ذریعے نہ تو کسی سیاسی لیڈر کی رائے تبدیل کرسکتا ہے اور نہ ہی  وہ کسی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود جب نریندر مودی جیسے نام نہاد جمہوری لیڈر  میڈیا کے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کرتے ہیں تو اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ خود جانتے ہیں کہ  وہ اپنی اصول پسندی کے جو بلند بانگ دعوے کررہے  ہیں ، ان کی حقیقت ان کہے گئے الفاظ سے زیادہ نہیں ہے۔ زمینی حقائق اور ان لیڈروں کی پالیسیاں ان کے خوبصورت دعوؤں سے قطعی مختلف ہوتی ہیں۔  نریندر مودی اسی لیے کسی سوال کا جواب  نہیں دیتے کہ ان کی قیادت  آمرانہ طرز عمل کی آئینہ دار ہے اور وہ جمہوریت کو درحقیقت بھارت جیسے  کثیر الثقافتی معاشرے میں ایک عقیدے اور گروہ کی بالادستی نافذ کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہیلے لینگے  نے یہ جاننے کے باوجود کہ  بھارتی وزیر اعظم پریس کانفرنس میں سوالوں کے جواب نہیں دیں گے ، عین اس وقت اس بارے میں سوال پوچھا جب وہ ہندی میں یک طرفہ بیان سناکر کمرے سے باہر جارہے تھے۔ لیکن ان کے نارویجئن ہم منصب یوناس گار ستورے وہیں موجود رہے اور  صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیے۔

ایک ہی پریس کانفرنس کے دوران سامنے آنے والا یہ تضاد درحقیقت  حقیقی جمہوریت اور جمہوریت کے نام پر ڈھونگ کے فرق کو واضح کرتا ہے۔ ہیلے لینگے کے سوال نے کہ  ’جناب وزیر اعظم ! آپ دنیا کےآزاد ترین میڈیا کے سوالوں کا جواب کیوں نہیں  دیتے؟‘  اس موقع پر اگر ہیلے سوال نہ پوچھتی تو نریندر مودی کے جمہوری ڈھونگ کا پردہ فاش نہ ہوتا۔  بھارت  کے انتہاپسند عناصر کو ناروے جیسے چھوٹے ملک کی ایک صحافی کو ہراساں کرنے، اس کا پتہ اور  فون نمبر عام کرکے  انتہاپسند عناصر کو انہیں پریشان کرنے  پر آمادہ کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔   ان ہتھکنڈوں سے  ہیلے لینگ کے سوال کی اہمیت اور ضرورت مزید نمایاں ہوئی ہے۔ اس سے واضح ہؤا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم درحقیقت کیا چھپانے کے لیے سوالوں کے  جواب نہیں دیتے ۔ اس سے یہ بھی  پتہ چلا کہ ایک سادہ سوال بعض اوقات دینا کے بڑے اور طاقت ور لیڈر کو بدحواس کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اسی لیے بھارت کی کانگرس پارٹی نے مودی کے طرز عمل کو شرمناک  قرار دیا اور اسی لیے بنگال کی ترنمول کانگرس پارٹی کو یہ کہنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ’محترمہ ہیلے لینگ، انڈیا کی اپوزیشن اور لاکھوں انڈین شہریوں کی جانب سے شکریہ۔ آپ نے وہ کیا جو ہمارا اپنا میڈیا مسلسل کرنے میں ناکام رہا، یعنی اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے سوال کرنا اور جواب دہی کا مطالبہ کرنا۔ پریس بریفنگ ہو یا پریس کانفرنس، فرق صرف نام کا ہے۔ نہ جواب ہیں اور نہ سچ‘۔

بی بی سی سے   بات کرتے ہوئے ہیلے لینگے نے واضح کیا کہ  ’میرے وزیر اعظم کل بہت مصروف تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے وزیر اعظم مودی کے جانے کے بعد ناروے کے بڑے میڈیا اداروں کے سوالات کے جواب دیے‘۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ انہیں عجیب لگا کہ بھارتی صحافی  ناروے کے وزیر اعظم سے سوال پوچھ رہے تھے لیکن اپنے وزیراعظم سے سوال نہیں کرتے؟  ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے حیرت نہیں ہوئی بلکہ یہ تشویش کا باعث ہے۔ مجھے اس بات کی فکر ہے کہ اگر آپ اپنے رہنماؤں اور ان کی پالیسیوں سے براہ راست سوال نہیں کر سکتے تو انڈیا میں آپ لوگ کس طرح بحث کو آگے بڑھاتے ہیں‘۔ اسی انٹرویو میں ہیلے لینگے  نے یہ بھی کہا کہ ’میرا ماننا ہے کہ صحافی کے طور پر سوال کرنا ہمارا کام ہے۔ جب ایک طاقتور ملک کا لیڈر ہمارے چھوٹے ملک میں آتا ہے اور ہم سے تعلقات مضبوط کرنا چاہتا ہے تو ایسے میں سوال کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔  اس حقیقت  کے باوجود کہ مودی سوال نہیں لیتے ، سوال کرنا میرا فرض تھا۔ ہمیں معلوم  تھا کہ وہ سوال نہیں  لیں گے  اور یہی چیز میرے کام کو مزید اہم بناتی ہے کیونکہ ہم کسی غیر ملکی رہنما کو اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ یہاں آ کر جمہوریت کی تعریف خود کرے۔ بھارت کے وزیر اعظم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی بات کرتے ہیں لیکن  یہ کیسی جمہوریت ہو گی اگر  اس ملک کے سب سے طاقتور شخص سے سوال پوچھنے کی گنجائش ہی نہ ہو‘؟

تصور کیا جائے کہ  ہیلے لینگے کے اچانک اور غیر متوقع سوال پوچھنے پر مودی مسکرا کر ڈائس کی طرف واپس آجاتے اور کہتے  کہ پروگرام میں سوالوں کی گنجائش نہ ہونے کے باوجود وہ اس  صحافی کو ضرور مطمئن کریں گے۔ اور وزارت خارجہ کے سیکرٹری ویسٹ سبی جارج کی طرح  مہان بھارت کا قصہ سنانے کی بجائے سادہ الفاظ میں بتاتے کہ  ’بھارت، ناروے کے مقابلے میں  آبادی کے لحاظ سے  تین سو گنا بڑا ملک ہے۔  وہاں اوسط آمدنی کی شرح ناروے کے مقابلے میں تیس گنا کم ہے ۔ اس تفادت کے باوجود وہ خود اور ان کی پارٹی بھارت میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کررہی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ جلد ہی ہم اس مقصد میں کامیاب ہوں گے‘۔ ایسے کسی جواب سے  نریندر مودی کا قد چھوٹا نہ ہوجاتا بلکہ انہیں دنیا بھر میں ایک بڑے اور حقیقت پسند لیڈر کے طور پر  پہچانا جاتا۔ وہی لوگ جو آج مودی کے تکبر کی مثال دے کر بھارت میں جمہوریت کی حقیقت پر سوال اٹھا رہے ہیں،  ان کی بڑائی ، بے تکلفی اور دیانت داری کی تعریف کررہے ہوتے۔ پھر مباحثہ بھارت میں پریس پر پابندی کے بارے میں نہ ہوتا بلکہ یہ کہا جاتا کہ مودی جیسے لیڈر کیسے  بڑی آبادی  کے ایک غریب ملک کو نمایاں کرنے کے لیے خلوص دل سے کام کررہے ہیں۔ لیکن  جمہوریت کو ایک  خاص انتہا پسند ایجنڈے کے لیے عذر کے طور پر استعمال کرنے والے کسی لیڈر میں اتنی اخلاقی جرات نہیں  ہوسکتی تھی۔

بدنصیبی سے بھارت میں پھیلنے والی ا نتہا پسندی نے وہاں کی بیوروکریسی کو بھی  اسی  رنگ میں رنگ دیا ہے۔ وہ بھی سوال کو چیلنج اور کسی کمزوری کی نشاندہی کو خود پر حرف زنی سمجھتی ہے۔ اس کا مظاہرہ بھارتی وزارت  خارجہ کے عہدیداروں سبی جارج اور رندھیر جیسوال  نےاوسلو میں ہی منعقد ہونے والی ایک پریس کانفرنس  میں کیا اور سامعین کو بھارت  کامثبت چہرہ دکھانے  کی بجائے، یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ بھارتی عہدیدار سوالوں کا سامنا نہیں کرسکتے۔ ہیلے لینگے نے انڈین سفارت خانے کی دعوت پر  اس پریس کانفرنس میں شرکت کی تھی ۔ وہاں انہوں نے بھارت کی صورت حال پر ایک ہی سوال کیا کہ ’انڈیا اور ناروے ایک مضبوط شراکت داری قائم کر رہے ہیں لیکن ہم آپ پر اعتماد کیوں کریں؟ کیا آپ اپنے ملک میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کا وعدہ کرتے ہیں؟ آپ کے وزیرِ اعظم کب مشکل سوالات کے جواب دینا شروع کریں گے‘؟

کوئی بھی ہوشمند بیوروکریٹ اس سوال کا متوازن اور غیر جذباتی جواب دے سکتا تھا لیکن سبی جارج نے دفاعی پوزیشن اختیار کی اور صحافی کے بار بار پوچھنے پر بھی اس سوال کا جواب نہیں دیا۔ بلکہ مشتعل ہوکر یہ ’حکم‘ صادر کیا کہ یہ ’میری پریس کانفرنس ہے، میں فیصلہ کروں  گا کہ کیسے اور کیا جواب دینا ہے۔ آپ میں جواب سننے کا حوصلہ ہونا چاہئے‘۔ ہیلے لینگے  کہتی ہیں کہ ’انڈیا بہت اچھا کام کرتا ہے لیکن میں عام طور پر کسی ملک کی تعریف سننے کے لیے پریس کانفرنس میں نہیں جاتی۔ میں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں سوال کیا لیکن انہوں نے اس حصے کا جواب نہیں دیا۔ مجھے میرے سوال کا جواب نہیں ملا‘۔

جب صحافی کے سوال کا اطمینان بخش جواب سامنے نہ آئے تو سوال اور اس کے غیر متعلقہ جواب، مباحث کا حصہ بنتے ہیں۔ ہیلے لینگے کے سوال پر سبی  جارج کے جواب کا بھی یہی حشر ہؤا۔  اب غیرجانبدار لوگ بھارت کی جمہوریت اور پریس فریڈم کے بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں اور مودی سرکار اپنے انتہا پسند سوشل میڈیا ٹرولز کے ذریعے ایک چھوٹے ملک ناروے کی صحافی  کو ہراساں کرکے   اپنی بے بسی کو چھپانے کوشش کررہی ہے۔