ایران نے آبنائے ہرمز کی نگرانی کے لیے اتھارٹی قائم کردی

  • جمعرات 21 / مئ / 2026

خلیج فارس واٹر وے مینجمنٹ اتھارٹی نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک نگرانی زون (سرویلنس ایریا) قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایکس پر اتھارٹی کے سرکاری اکاؤنٹ کے مطابق ایران نے باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز کے انتظامی اور نگرانی کے علاقے کا تعین کر دیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق اس علاقے کی حد مشرقی جانب ایران کے جبلِ مبارک اور متحدہ عرب امارات کے جنوبی فجیرہ کو ملانے والی سرحد سے شروع ہوتی ہے، جبکہ مغربی جانب ایران کے جزیرہ قشم کے آخری حصے سے امارات کے ام القوین تک پھیلی ہوئی ہے۔

اس ادارے کے مطابق اس علاقے سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ’پرشین خلیج واٹر وے مینجمنٹ‘ کے ساتھ پیشگی رابطہ کریں اور اس ادارے سے اجازت حاصل کریں۔ یاد رہے کہ خلیج فارس واٹر وے اتھارٹی ایران۔عراق جنگ اور آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد قائم کی گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے، جس کے باعث عالمی بحری تجارت شدید متاثر ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

اس دوران پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی نے جمعرات کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ تہران میں ملاقات کی ہے۔ ایران کی حکومت کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری خبر میں اس ملاقات کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مستقل جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی ثالثی میں پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔

ایرانی حکومت کے بیان کے مطابق وزیرِ خارجہ’ کے ساتھ محسن نقوی کی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی۔ یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی بدھ کے روز تہران پہنچے تھے۔

اس سے قبل مئی کے دوسرے ہفتے میں حسن نقوی تقریباً چار روز ایران میں گزار کر گذشتہ روز منگل کو ہی پاکستان پہنچے تھے۔