جھاڑو کون پھیرے گا؟
- تحریر خالد مسعود خان
- جمعرات 21 / مئ / 2026
اس ملک میں چٹپٹی خبروں کی کبھی کوئی ’تھوڑ‘ نہیں پڑی۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی گرما گرم اور مسالے دار خبر ہمارا دل لگائے اور ذہن بھٹکائے رکھتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ چار دن بعد وہ چٹ پٹی خبر کسی سرکاری فائل کی طرح داخلِ دفتر ہو جاتی ہے اور وقت کی گرد اسے ہمارے ذہن سے بھلا دیتی ہے۔
لیکن قوم اس سلسلے میں کبھی فکرمند نہیں ہوئی کیونکہ اس خبر کے مدہم پڑنے سے پہلے کوئی اور دھواں دھار خبر ہمارا دل بہلانے کیلئے مارکیٹ میں آ جاتی ہے۔ بقول شاہ جی یہ سب خبریں ’سموک سکرین‘ ہیں جو ہمیں ہمارے اصلی مسائل سے بھٹکانے کیلئے،ہمارا ذہن منتشر کرنے کیلئے اور ہماری سوچ کو کسی ایک طرف یکسو ہونے سے روکنے کیلئے چھوڑی جاتی ہیں۔ کبھی دبئی لیکس آ جاتا ہے۔ کبھی پاناما لیکس اپنی شکل دکھا دیتا ہے۔ کبھی ایان علی کی خبر اخبار کی زینت بنتی ہیں۔ اس کی عدالت میں پیشی کو کیٹ واک سے تشبیہ دے کر خبر کو مسالے دار بنایا جاتا ہے۔ اسلام آباد ایئرپورٹ سے 506800 کے کڑکتے امریکی ڈالروں سے بھرے ہوئے بیگ سمیٹ پکڑی جانے والی ایان علی اب کدھر ہے؟ نہ کسی کو خبر ہے اور نہ ہی کسی کو کوئی فکر ہے۔ غلط ایئرپورٹ کا انتخاب کر کے پکڑی جانے والی ماڈل ممکن ہے اب کسی ایسے ایئرپورٹ سے،جہاں اس کے مہربانوں کا زور چلتا ہے، اپنے مہربانوں اور سرپرستوں کی حلال کی کمائی کی منی لانڈرنگ کر رہی ہو۔
اب خبروں میں بھی ریٹنگ اور ویوز جیسا مسئلہ در آیا ہے۔ خبر کو رنگین اور چٹخارے دار بنا کر قارئین اور ناظرین کو گھیرا جاتا ہے۔ اس دوران بہت سے اہم موضوعات پسِ پردہ چلے جاتے ہیں۔ اس قوم کو اوّل تو ویسے ہی سنجیدہ معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اوپر سے سیاسی پارٹیوں کی باہمی دشمنی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ایک دوسرے کی مخالفت نے قومی سطح کے ہر معاملے کو متنازع بنا کر رکھ دیا ہے۔ اگر ایک طرف ہر حکومتی اقدام پر حکومتی چمچہ گیر طبلچی چاپلوسی کی دھنوں پر مبنی بینڈ اپنے پورے زور و شور سے بجاتے ہیں تو دوسری طرف راندۂ درگاہ پارٹی کے فدائین ہر حکومتی قدم کی،خواہ وہ غلطی سے درست ہی کیوں نہ ہو، مخالفت کرنا اپنا مذہبی اور اخلاقی فریضہ سمجھتے ہیں۔ ایسے حالات میں عام آدمی کے پاس سوائے کنفیوز ہونے کے اور چارہ نہیں ہے۔ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے اراکینِ اسمبلی باقی ہر معاملے پر باہم دست و گریبان ہیں لیکن متحارب سیاسی پارٹیوں کے یہی ارکانِ اسمبلی اپنے ذاتی فائدوں اور مراعات کیلئے اس طرح شیر و شکر ہوتے ہیں کہ یک جان دو قالب کا محاورہ عملی تصویر بن کر ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ سوائے اپنی ذاتی مفادات کے یہ سب لوگ ہمہ وقت باہم دست و گریبان رہتے ہیں۔ مخالفت برائے مخالفت کا یہ عالم ہے کہ سنجیدہ سے سنجیدہ قومی نوعیت کا مسئلہ بھی انہیں ایک نکتے پر متفق نہیں کر پاتا۔ تاہم اگر معاملہ تنخواہوں میں اضافے،بلیو پاسپورٹ کے حصول اور مراعات میں بہتری کا ہو تو پھر یہ تمام لوگ ایک دوسرے کے دست و بازو بن جاتے ہیں۔
ممکتِ خداداد میں قوم کا دل لگائے رکھنے کیلئے ہر چوتھے دن کوئی نئی خبر ملکی منظر نامے پر دھواں دھار انٹری دیتی ہے۔ اب آپ سے کیا پردہ، یہ قوم بنیادی طور پر تماش بین ہے اور محض اپنے اس شوق کی تکمیل کی خاطر اپنے سارے دھندے چھوڑ کر ہر نئی آنے والی خبر کے پیچھے پڑ جاتی ہے۔ اس طرح نہ صرف اس خبر اور قوم کے چار چھ دن اچھے گزر جاتے ہیں بلکہ خبر کے محرکین کو بھی دلی سکون اور راحت ملتی ہے۔ جب کوئی خبر اپنی کشش کھونے لگتی ہے کوئی نئی خبر دھم سے کودتی ہے اور قوم کو دلچسپی کا نیا محور مل جاتا ہے۔ یہ سلسلہ عشروں سے اسی طرح چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ بقول شاہ جی اس قسم کی خبروں کی ساری منصوبہ بندی بھی بڑے گھر سے جڑی ہوئی ہے اور اس کا کھرا بھی وہیں جا کر ختم ہوتا ہے۔ عشروں سے باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قوم کو رنگین اور چٹخارے دار خبروں کا عادی بنا دیا گیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ قوم کا دل لگا ہوا ہے اور منصوبہ سازوں کی چاندی ہے۔ عشروں سے چلنے والے اس ڈرامے کا تازہ ترین ایپی سوڈ انمول عرف پنکی ہے۔ بقول ہمارے ایک دوست کے،انمول کا عرف پنکی کے بجائے سوئی ہوئی ریاست ہوتا تو زیادہ مناسب اور معنی خیز ہوتا۔ اس ملک میں بھی کیا عجیب و غریب ادارے ہیں کہ دکھائی دینے پر آئے تو انہیں شیر پاؤ برج کے نیچے سے ڈاکٹر یاسمین راشد کا پھینکا ہوا لکڑی کا ڈنڈا چھ ماہ بعد لاہور کی مصروف ترین سڑک پر دکھائی دے جاتا ہے، نہ دکھائی دے تو عین ناک کے نیچے گزشتہ 20سال سے منشیات فروشی کا گینگ چلانے والی ڈرگ کوئین اور کوکین کی چلتی پھرتی فیکٹری دکھائی نہ دے۔
چمک اور سرپرستی کا یہ عالم ہے کہ کوکین تیار کرکے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے فروخت کرنے والی خاتون کو پولیس پورے پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیش کرتی ہے اور عدالت پہلے مرحلے پر اس کا ریمانڈ دینے کے بجائے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیتی ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال میں ہزار قباحتیں ہوں گی لیکن بہرحال بعض معاملات میں اس کے طفیل کچھ ایسی چیزیں بھی سامنے آ جاتی ہیں جو نہ تو اخبارات میں آتی ہیں اور نہ ٹیلی ویژن پر۔ سوشل میڈیا پر آنے کے بعد پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا ایسی خبروں کی کوریج پر مجبور ہو جاتا ہے۔ عام آدمی کو بہت سے واقعات سے آگاہی اس لیے ہو رہی ہے کہ وہ موبائل فون کے کیمرے کی وساطت سے گھومتی ہوئی دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے۔
اب جس طرح معاملات سامنے آ رہے ہیں اس سے یہ بات صاف دکھائی دیتی ہے کہ موصوفہ ڈرگ کوئین نہ صرف ایلیٹ کلاس کو منشیات سپلائی کرتی تھی بلکہ اس کا یہ بھی الزام ہے کہ منشیات کی روک تھام پر مامور ادارے اور سرکاری افسران اس کی سرپرستی کرتے تھے۔ سرکاری افسران اور اداروں کی سرپرستی کے بغیر یہ کام جس کا دائرہ کار لاہور سے کراچی تک پھیلا ہوا تھا اور عرصہ بیس سال تک اس طرح بخیر و خوبی چل ہی نہیں سکتا تھا۔ سرکار کیلئے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ایک گینگ عرصہ دراز سے کوکین بنانے سے لے کر سپلائی کرنے تک کا دھندہ کر رہا ہے۔ آن لائن آرڈر بکنگ ہو رہی ہے۔ رائیڈر مال گھروں میں ڈِلیور کر رہے ہیں۔ بینکوں میں ٹرانزیکشنز ہو رہی ہیں۔ کوکین کی ڈبیوں پر ٹریڈ مارک چھپے ہوئے ہیں اور کسی کو کچھ خبر نہیں۔ ہمارے انسدادِ منشیات کے ادارے دو چار گرام والے منشیات فروشوں کو تو جھٹ سے پکڑ لیتے ہیں مگر اتنا پرانا اور وسیع نیٹ ورک ان کو دکھائی ہی نہیں دے رہا۔
اگر ملک میں منشیات کے سدباب پر مامور اداروں کی یہی کارکردگی ہے تو بہتر ہو گا کہ یہ ادارے بند کر دیے جائیں۔ سکولوں میں استاد نہیں پڑھاتے تو سکول پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کی کارکردگی خراب ہے تو ہسپتال آہستہ آہستہ پرائیویٹ تنظیموں کو دیے جا رہے ہیں۔ کامرس کالجوں کے حالت خراب ہے تو انہیں پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے سپرد کرنے کے باتیں چل رہی ہیں۔ زرعی تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی ناگفتہ بہ ہے تو انہیں بند کر کے ان کی زمین جمخانہ بنانے والوں کو دی جارہی ہے۔ انسدادِ منشیات کے ادارے اگر کام نہیں کر رہے تو ان کو بھی پرائیوٹائز کر دیا جائے۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ سرکار کو اگر تعلیم، صحت اور تحقیق جیسے اداروں پر خرچہ کرنا پڑے تو وہ یہ ادارے بند کر دے یا پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کر دے اور جہاں بے پناہ مال پانی بنتا ہو افسران موج میلے کریں اور گلچھرے اڑائیں۔ یہ ادارے نااہلی‘ کرپشن اور بدانتظامی کی جس حد تک پہنچ چکے ہیں وہاں مکمل جھاڑو پھیرے بغیر بہتری کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا۔ لیکن جھاڑو کون پھیرے گا؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)