ناروے کا بابا مستان شاہ!
- تحریر عطاالحق قاسمی
- جمعرات 21 / مئ / 2026
پرسوں ایک بابا جی میرے پاس تشریف لائے ۔ فقیری چوغا پہنا ہوا، گلے اور ہاتھوں میں منکے، ملگجی داڑھی ، سر پر سندھی ٹوپی ، ہاتھ میں ایک نوٹ بک جس کے متعلق یہ بھی پتا چلا کہ اس میں مختلف افسروں نے بابا جی کے ولی اللہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے آتے ہی اپنا عصا زمین پر مارا اور کہا ’میں ہوں بابا مستان شاہ! پاکپتن شریف سے تمہیں دعا دینے آیا ہوں۔ اللہ تمہیں کسی کا محتاج نہ بنائے تم ترقی کرو‘۔ میں ان کی ہر دعا پر آمین کہتا رہا۔ وہ اپنی ہر دعا کے آخر میں کہتے ’پر تم غصہ نہ کیا کرو، ان دِنوں بے شمار لوگوں کا بلڈ پریشر ہائی رہتا ہے، چنانچہ ان کے رویوں میں جھنجھلاہٹ آجاتی ہے۔ اگر میرا بلڈ پر یشر بھی ہائی ہوتا یا طبیعت میں غصہ ہوتا تو میری نظروں میں باباجی کی ’ولایت ‘ پکی تھی مگر اتفاق سے میرا بلڈ پریشر نارمل رہتا ہے اور حُسنِ اتفاق سے طبیعت میں غصہ بھی بہت کم ہے۔ چنانچہ بابا جی کا وار خالی گیا۔
اپنی گفتگو کے دوران بابا جی بغور میرے چہرے کی طرف دیکھتے رہے۔ وہ میرے تاثرات کا جائزہ لے رہے تھے اور اندازہ لگا رہے تھے کہ ان کی روحانیت مجھ پر کس حد تک اثر انداز ہو رہی ہے۔ میرے چہرے کے تاثرات سے انہیں شاید مایوسی ہوئی، چنانچہ وہ دعاؤں کے بجائے پیش گوئیوں پر اتر آئے۔ انہوں نے کہا ’اللہ تیری پریشانیاں دور کرے گا‘ اب دنیا میں کون ہے جسے کوئی پریشانی لاحق نہ ہو مگر اس سو فیصد صحیح تشخیص پر بھی مرعوب ہونے کے بجائے جب میں نے صرف ان شا اللہ کہا تو بابا جی نے مایوس ہو کر وہ نوٹ بک میرے سامنے رکھ دی جو انہوں نے بائیں ہاتھ میں تھامی ہوئی تھی اوراِس میں سے صرف افسروں کے ریمارکس مجھے دکھانے لگے جو انہوں نے ’بابا جی‘ کی ولایت کے حوالے سے دیئے تھے۔ میں نے سوچا کیا زمانہ آگیا ہے، اب اللہ والوں کو بھی دنیا والوں سے اپنی بزرگی کا سرٹیفکیٹ لینا پڑتاہے۔
’جب موصوف نے دیکھا کہ کوئی سند بھی انکے کام نہیں آ رہی تو انہوں نے اپنا عصا زور سے زمین پر مارا اور گرجدار آواز میں کہا بابا مستان شاہ جا رہا ہے، کل پھر اسی وقت آئے گا‘۔ مگر کل میں ان کا انتظار ہی کرتا رہا، وہ تشریف نہ لائے۔ اور آج جب میں یہ کالم لکھ رہا تھا تو اچانک مجھے یاد آیا کہ یہ تو وہی بابا مستان شاہ تھا جو تقریباً بارہ چودہ برس قبل ہم چند دوستوں کو ایک دفتر میں ملا تھا اور اس نے تقریباً یہی باتیں کی تھیں اور میں نے ’ریت کی دیواریں‘ کے عنوان سے اس پر ایک کالم بھی لکھا تھا جس پر کئی قارئین کے خط مجھے آئے، جس میں انہوں نے ان باباجی کی وہ کرامتیں بیان کیں کہ میں لرز کر رہ گیا تھا۔
آج بھی وہی مستان شاہ ہے ، صرف عمر کے فرق سے اس کے خدو خال میں تھوڑی سی تبدیلی ہوئی ہے۔ ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، مریض سسک سسک کر مر رہے ہیں، بیروزگاری کا عفریت کئی جوانوں کو ہڑپ کر چکا ہے، حالات ایسے ہو چکے ہیں کوئی نہیں جانتا کہ وہ یا اس کا عزیز شام کو بخیریت گھر واپس آئے گا کہ نہیں۔ آج بھی اگر کوئی شخص پریشان ہے اور پریشانی کے ان لمحات میں کوئی بابا مستان شاہ آپ کے پاس آتا ہے، فقیری چوغے میں ملبوس، گلے میں منکے پہنے ہوئے، ہاتھ میں درویشی عصا لیے اور کہتا ہے تمہاری پریشانی دور ہو گی، ہر پریشان شخص کو ان کلمات کی ضرورت ہے۔ اور یوں بابا مستان شاہ بھی اس معاشرے کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے اصول کے عین مطابق اس وقت شہر میں ہزاروں کی تعداد میں مستان شاہ موجود ہیں۔ یہ نقلی مستان شاہ اس وقت تک ہمارے درمیان رہیں گے جب تک معاشرے کی پریشانیاں دور کرنے والا اصلی مستان شاہ نہیں آتا۔
البتہ ایک بابا مستان شاہ میں نے ناروے میں بھی دیکھا تھا۔ وہ یہ نہیں بتاتا تھا کہ آپ کی ہر پریشانی دور ہوگی ، پریشانی آپ بتاتے تھے، دور وہ کرتا تھا۔ اگر کوئی بیمار پڑتا تھا تو بابا مستان شاہ اس کا علاج معالجہ کرتا تھا۔ اگر اسپتال میں داخلے کی ضرورت ہوتی تو وہ اسپتال میں بھی ایڈمٹ کرا دیتا تھا۔ ان خدمات کے عوض وہ آپ سے کوئی رقم طلب نہیں کرتا تھا بلکہ سب کچھ اپنے پلے سے کرتا تھا۔ اگر آپ بےگھر ہوتے تو وہ آپ کو رہنےکیلئے گھر دیتا تھا ، اگر آپ بیروز گار ہوتے تو روزگار پر لگنے تک وہ ہر ماہ آپ کو ایک معقول رقم دیتا تھا۔ آپ کے ہاں بچہ پیدا ہوتا تو اس کا خرچہ وہ اٹھانے لگتا تھا۔ ناروے کا بابا مستان شاہ آپ کی جان و مال کا بھی محافظ تھا۔ مجال ہے کوئی آپ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ بھی سکے۔ بابا جی کی نگاہِ دور رس یہ بھی بھانپ لیتی تھی کہ کوئی آپ کی نجی زندگی میں مداخلت تو نہیں کر رہا، چنانچہ ایسے شخص سے بابا جی خود نمٹ لیتے تھے۔ بابا جی کا ایک عجیب و غریب کمال یہ تھا کہ وہ کسی کو نظر نہیں آتے تھے مگر ہر معاملے پر ان کی نظر ہوتی تھی۔
میں نے اسی طرح کے ایک بابا جی کے بارےمیں یہ بھی سنا تھا کہ وہ صرف ناروے نہیں سویڈن، ڈنمارک، فن لینڈ اور یو کے وغیرہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ مگر وہاں بھی وہ کسی کو نظر نہیں آتے ۔ بس ان کے کمالات نظر آتے ہیں۔ بالآخر مجھے پتا چلا کہ بابا مستان شاہ کسی شخص کا نام نہیں، یہ ان ملکوں کی فلاحی ریاست ہے جو اپنے باشندوں کیلئے ماں کا درجہ رکھتی ہے۔ ہمارے بابائے قوم قائد اعظم نے بھی اسی قسم کی ریاست کا خواب دیکھا تھا مگر ان کے بعد آنےوالےبیشتر حکمران وہ بابا مستان شاہ بن گئے جن سے ان دنوں ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر قصبے میں ہماری ملاقات ہوتی ہے۔ ہمیں قائد اعظم والے بابے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ ہمارے درمیان پیدا ہو گیا اور کسی نے شب خون مار کر اسے رستے سے نہ ہٹایا تو پھر ہمیں کسی دوسرے ملک کی مثال دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ لوگ کہیں گے پاکستان کا بابا مستان شاہ دوسرے ملکوں کے مستان شاہوں سے بہت آگے ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)