صنم سعید تو ٹھیک ہے پر عمران خان کب رہا ہو گا؟
- تحریر وسعت اللہ خان
- جمعرات 21 / مئ / 2026
میں بھی ایک ادنیٰ سا انٹرنیٹ صارف ہوں۔ پر یہ بات اُن لوگوں اور اداروں کو یاد دلانا ضروری ہے جو ہم جیسے کروڑوں انٹرنیٹ صارفین یا نیٹزئینز کو ہلکے میں لیتے ہیں (صارف اور نیٹزئین میں بس بن کباب اور برگر جتنا فرق ہے۔)
اگر دنیا کی فارغ ترین مخلوق کی بات کی جائے تو وہ ہم ہیں اور اس کمپیٹیشن (مقابلے) میں اگلے آٹھ درجے تک بھی کوئی اور برادری ہماری ٹکر پر نہیں۔ ایک نارمل انسان یا تو پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے یا ناخواندہ ۔ مگر ہم صارفین میں ناخواندگی کی لال، نیم خواندگی کی زرد اور علمیت کی سبز تار سر تا پا اعصابی نظام کے متوازی چلتی ہے۔ کب کون سی تار کتنی دیر کے لیے ارتھ ہو جائے؟ عموماً تب تک پتہ نہیں چلتا جب تک برادری کے دیگر معززین اِس کی نشاندہی نہ کر دیں۔ یہ نشاندہانہ اصلاح ’جناب والا، یہ بات درست نہیں ہے‘ سے لے کر ہر طرح کی فحش ڈکشنری تک پھیل سکتی ہے۔
اس اصلاحی لہجے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ تبصرہ یا نشاندہی کرنے والے فرد کا شجرہ، زبان پر گرفت اور علمی و سماجی پسِ منظر کا ہماری برادری کے دیگر بھائیوں بہنوں کو سکین کے مافق ترنت اندازہ ہو جاتا ہے۔ ایسے جذباتی صارفین جو پہلی فرصت میں پوری بات پڑھے، سُنے اور اُس پر دھیان دیے بغیر یہ پوسٹ لگانے والے کے خاندان سے غیر مناسب رشتہ جوڑنے کی کوشش پر اتر آتے ہیں مگر وہ من کے ہرگز بُرے نہیں ہوتے۔ چنانچہ انہی کی لفظیات میں ترکی بہ ترکی جواب دینے کے بجائے اُن کی مجبوری سمجھئے کہ اُن کی کُل کائنات میں کوئی تو ایسی جگہ ہے جسے بیت الخلا سمجھ کر وہ خود کو ہلکا کر لیتے ہیں۔ گھر میں تو یہ سہولت ملنے سے رہی۔ اگر ہم اپنی لمبی چوڑی صارف برادری کو سب سیکشنز میں تقسیم کریں تو ایک بکھری وکھری دنیا کی ایسی سیر ہو گی جیسے ’ایلس اِن ونڈر لینڈ۔‘
میری برادری کا ایک حصہ مستوں پر مشتمل ہے۔ اگر کوئی فیس بُک یا ایکس پر یاد دلا دے کہ آج وہ دن ہے جب مرزا غالب دنیا سے رخصت ہو گئے۔ بہت سے مست قلندر صارفین آر آئی پی (ریسٹ اِن پیس) لکھ کے آگے بڑھ سکتے ہیں یا پھر ’بہت افسوس ہوا۔ خدا غالب بھائی کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔‘ ایسے میں چند افلاطونی صارف اِس مست ڈیجیٹل ہجوم کی اصلاح کے لیے تلوار بھی سونت لیتے ہیں، ’ابے جاہلو، غالب کی وفات کو 157 برس گزر چکے ہیں۔ کچھ تو خدا کا خوف کرو۔‘ اس تاریخی اصلاح کے نیچے عموماً پہلا ہی کمنٹ پاپ اپ ہوتا ہے ’ماشااللہ۔ کیا بات ہے۔ لگے رہو بیٹے۔‘ اور دوسرا کمنٹ آتا ہے ’یارو غالب کی شہرت تاریخِ وفات کی وجہ سے نہیں شاعری کی وجہ سے ہے۔‘
اسی پوسٹ پر کوئی ڈیجیٹل جیالا ’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی‘ جڑ کے حاضری لگوانا ایک الوہی فرض سمجھتا ہے۔ درجنوں صارفین بات تو سچ ہے والا مصرعہ وینزویلا پر امریکی قبضے کی خبر سے غالب کے یومِ وفات تک کہیں بھی فٹ کر سکتے ہیں اور کوئی ایسا قانون بھی نہیں جس کے تحت اس جراتِ رندانہ پر ایف آئی آر کٹ سکے۔ ہماری برادری میں ایک پورا غول ہے جو کسی بھی وائرل خبر، کمنٹ یا تصویر کے نیچے اپنی کاروباری پبلسٹی کا موقع ضائع نہیں کرتا۔ اُن کی بلا سے کہیں ایٹم بم گر پڑے یا زلزلہ آ جائے۔ وہ ہر تکلف سے آزاد ہیں۔ مثلاً یہ پوسٹ کہ ٹرمپ نے ایران کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دے دی۔ عین اس کے نیچے کمنٹ آ سکتا ہے کہ ’ہمارے سٹور پر ایک نمبر عجوہ کھجوریں دستیاب ہیں۔ ابھی اسی نمبر پر واٹس ایپ کر کے آرڈر بُک کروائیں۔ ادائیگی ہوم ڈلیوری کے بعد۔ شکریہ۔‘
صارفین عرف نیٹزئینز کی ایک کلاس وہ ہے جس کا لگ بھگ ہر دوسری، تیسری بات پر دل ٹوٹ سکتا ہے۔ مثلاً اگر انہیں کسی کی بھی کوئی ٹیگڈ تحریر پسند نہ آئے تو کچھ یوں اظہار ہوتا ہے ’برادرم کم ازکم آپ سے یہ امید نہیں تھی‘ یا ’میں تو آپ سے بہت متاثر تھا مگر آج کے بعد میں آپ کی کوئی تحریر نہیں پڑھوں گا۔‘ یا ’میں آپ کو اسی وقت ان فرینڈ کر رہا ہوں‘ یا ’آپ کب تک یہود و نصاری و ہنود کے گن گاتے رہیں گے‘ یا ’پاکستان سے آپ کو اتنی نفرت کیوں ہے‘ وغیرہ وغیرہ۔ ان نازک دل صارفین کو تحریر کا کون سا جملہ کیوں بُرا لگا؟ اس کا حوالہ دینے کا کبھی تکلف نہیں ہوتا، بس دل چٹاک سے ٹوٹ سا جاتا ہے۔
ایک ڈیجیٹل فرقہ وہ ہے جو واٹس ایپ یونیورسٹی سے گریجویٹ ہے اور فیس بُک سمیت کسی بھی پلیٹ فارم پر جنم لینے والی ہر تحریر، اطلاع، قول، شعر یا نثرپارے کو بلا تصدیق فارورڈ کرنے کی خدائی خدمت پر مامور ہے۔ اگر کسی جان پہچان والے فارورڈین کو سمجھایا بھی جائے کہ بھائی یہ تحریر غیر مستند ہے، یہ معلومات مشکوک ہیں، یہ قول جعلی ہے، یہ شعر جون ایلیا کا نہیں پشپک جھنجھوٹوی کا ہے یا اس نثر پارے سے مشتاق یوسفی کا کوئی لینا دینا نہیں تو بھی فارورڈین کو ککھ فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ وہ آپ کی تصیح کو بھی اسی مشکوک مواد کے ساتھ ایمان داری سے فارورڈ کر دیتا ہے۔
سوشل میڈیا ایسا بحرِ نمکین ہے جس میں کوئی بھی تحریر، تصویر یا جملہ غرق نہیں ہوتا بلکہ لاشے کی طرح پانی پر تیرتا رہتا ہے اور ہر تین چھ ماہ بعد اچانک کسی سوشل میڈیائی کے جال میں پھنس جاتا ہے اور وہ اس یقین کے ساتھ اسے فارورڈ کرتا ہے گویا کوئی تازہ ترین دریافت ہتھے چڑھ گئی۔ مسئلہ صرف لاکھوں کروڑوں معصوم، خواندہ یا نیم خواندہ صارفین کا ہی نہیں بزعمِ خود طرم خانوں اور ہر ڈیجیٹل آئٹم کی اصلاح کا خدائی ٹھیکہ اٹھانے والے نامی گرامیوں کا بھی یہ حال ہے کہ جب بھی ان کی نیند ٹوٹتی ہے تو پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ جو بھی آئٹم سامنے آ جائے اس پر کمنٹ ہونا ہی ہونا ہے۔ دانت برش کرنا یا حوائج ضروریہ سے فراغت بہت بعد کا مرحلہ ہے۔
غیر ابلاغی ہونا کوئی عیب نہیں بلکہ ایسی کیفیت ہے جو کسی پر بھی آ سکتی ہے۔ ایسے بھی مہربان ہیں جو کسی بھی نئی تحریر کے پیج پر نمودار ہونے کے صرف پانچ سیکنڈ کے اندر اندر لائک کا بٹن دبا کے نہ صرف اس تحریر کو پورا اور دھیان سے پڑھنے کے عذاب سے خود کو بچا لیتے ہیں بلکہ صرف ٹائیٹل یا نام دیکھ کے فی سبیل اللہ آگے بڑھا دیتے ہیں:
مجھ پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا۔
بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ڈیجیٹل بازار ہیں جہاں سے ہر طرح کا مرد و زن و طفل گزرتا ہے۔ بہت سوں نے تو اس بازار کی فٹ پاتھ پر بستر بھی لگا لیے ہیں۔ اس بازار میں سنجیدہ خریداروں سے کہیں زیادہ ونڈو شاپرز کی آمد و رفت ہے۔ پہلے کے فارغ البال جوان اور بزرگ تھڑوں پر یا چائے ہوٹل پر ٹائم پاسی کرتے تھے۔ اب تھڑا بھی ڈیجیٹل ڈومین کھا گئی ہے۔ بھلا یہ سہولت تب کہاں میسر تھی کہ کسی بھی جنس یا نام سے اکاؤنٹ بنا کر کوئی بھی کمنٹ اچھال سکو۔ آج اپنے لیپ ٹاپ یا موبائل کے ساتھ آپ جانگیہ پہن کے بھی بیٹھے ہوں تو بھی یہ بن داس تبصرہ کر سکتے ہیں کہ ’صنم سعید نے کانز فلمی میلے میں جو کپڑے پہنے ہیں، وہ پاکستانی ثقافت کی نمائندگی نہیں کرتے۔‘
اسی کے نیچے ’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی‘ ٹائپ کوئی نہ کوئی کمنٹ ضرور پاپ اپ ہو جائے گا اور کمنٹس کے اس جنگل میں سیاق و سباق سے آزاد کوئی نہ کوئی دل جلا یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ ’صنم سعید تو ٹھیک ہے پر عمران خان کب رہا ہو گا؟‘
(بشکریہ: بی بی سی اردو)