نریندر مودی کا یورپی دورہ:آزادی رائے کی بحث میں نسل پرستی کے شکوے

نریندر مودی نیدرلینڈ، سویڈن، ناروے اور اٹلی کا دورہ مکمل  بھارت  واپس پہنچ چکے ہیں لیکن ناروے   میں دو روزہ قیام کے دوران ایک سوال اور اس کے نامکمل جواب نے مودی اور ان کے ساتھیوں کو بدحواس کیا ہے۔ اب بھارت  کا مودی نواز میڈیا کسی بھی طرح ناروے کے میڈیا کو بدنام کرکے اس ہزیمت کا انتقام لینا چاہتا ہے جو  بھارت میں  انسانی حقوق کی صورت حال اور  اس کے لیڈروں  کےغیر جمہوری رویہ کی وجہ سے سامنے آئی ہے۔

دو روز پہلے ا وسلو میں   وزیر اعظم یوناس گار ستورے کے ساتھ  پریس کانفرنس کے بعد جب مودی نے سوالوں کے جواب دینے کی بجائے وہاں سے جانے کو ترجیح دی تو ایک نوجوان  نارویجئن صحافی کے لیے یہ رویہ ناقابل فہم تھا۔ اس نے بے ساختہ پوچھ  لیا ’جناب وزیراعظم ! آپ سوالوں کا جواب کیوں نہیں دیتے‘۔ مودی تو خاموشی سے چلے گئے لیکن اگلے ہی روز بھارتی وزارت خارجہ کے سیکرٹری  سبی جارج نے ایک پریس کانفرنس میں نارویجئن صحافیوں کو  بھارت کی تاریخ، ایجادات کے بارے میں دعوؤں اور   کورونا کے دوران دنیا کے لیے  بھارت کی ’خدمات‘ کی تفصیل بتا کر متاثر کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ ہیلے لینگے کے اس سوال کا جواب نہیں  دے سکے کہ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا کیسے خاتمہ ہوگا اور دنیا ایک ایسے ملک پر کیوں اعتبار کرے جس کا وزیر اعظم سوالوں کے جواب ہی نہیں دیتا۔

یہ سوال چونکہ ایک سادہ جمہوری اور مسلمہ عالمی  اصول پر استوار ہے اور بھارت  دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اس لیے اس سوال نے ناروے ہی نہیں بلکہ بھارت میں بھی ایک سنجیدہ  بحث کا آغاز کیا ۔ جسے اپوزیشن کانگرس پارٹی اور بنگال کی اپوزیشن پارٹی ترنمول کانگرس نے بھی  نمایاں کیا ہے۔ ان دونوں پارٹیوں نے اپنے وزیر اعظم کے اس  طرز عمل کو مسترد کیا کہ وہ غیر ملکی  دوروں کے دوران  آزاد میڈیا کے سادہ سوالوں کا جواب دینے پر بھی آمادہ نہیں ہوتے۔ بھارت میں بی جے پی کے حامی ا نتہا پسند عناصر اور مودی نواز میڈیا نے  سوال کا جواب دینے کی بجائے اس صحافی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جس نے سادہ لوحی  میں وہی بنیادی سوال پوچھا تھا جو کوئی بھی آزاد صحافی کسی بھی لیڈر سے پوچھتا جو پریس کانفرنس میں تقریر کرکے سوالوں کا جواب دینے سے انکار کرتا ہو۔   شروع میں ہیلے لینگے کو  پاکستان اور چین کا ایجنٹ قرار دینے کی کوشش کی گئی اور  پر اسرار طور پر ’میٹا‘ نے اس کے انٹا گرام اور فیس بک اکاؤنٹ بند کردیے۔ اس کے باوجود بھارت کا  مشہور زمانہ   ’گودی میڈیا‘ اس بنیادی اعتراض کا  شافی جواب نہیں دے سکا کہ ڈیڑھ ارب آبادی کے بڑے ملک کا لیڈر سوالوں کے جواب دینے کا حوصلہ کیوں نہیں کرتا ۔ اگر بھارت میں مذہبی انتہا پسندی عام ہے، وہاں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک ہورہا ہے یا جرائم کی شرح زیادہ ہے تو ان حقائق  کے بارے میں  سوالوں کا سامنا کیے بغیر  انہیں کیسے حل کیا جائے گا، جمہوری ادارے قابل اعتبار کیوں کر ہوں گے اور ایسے لیڈروں کی کارکردگی پر کیسے اعتبار کیا جائے گا۔

نریندر مودی اور ان کے ترجمانوں کے علاوہ بھارت میں مودی نواز میڈیا اور بی جے پی کے سوشل  میڈیا مباحث میں نفرت پھیلانے والے عناصر اس بحث کو  کوئی من پسند رخ دینے میں کامیاب نہیں ہوئے لیکن ناروے ہی کے ایک دوسرے بڑے اخبار ’آفتن پوستن‘ میں مودی کے دورہ سے قبل دونوں ملکوں کے تعلقات کے حوالے سے شائع ہونے والے  ایک مضمون میں شامل کیے گئے ایک  کارٹون  کو  اچک کر ، اسے ناروے کی نسل پرستی اور نوآبادیاتی  ذہنیت کا شاخسانہ قرار دیا جانے لگا۔  یہ مضمون ناروے  کی بائیں بازو کی جماعت سوشلسٹ وینسترے (ایس وے) سے وابستہ ایک محقق فرینک روسا ویک نے لکھا تھا۔ اس مضمون میں بنیادی طور پر   یہ نکتہ اٹھایا گیا تھا کہ نریندر مودی  درحقیقت امریکہ کے ساتھ دوری کی وجہ سے یورپی بلاک میں نئے دوست تلاش کرنے کی خواہش میں ناروے آرہے ہیں اور نارڈک ممالک کے ساتھ تجارتی و سائنسی تعلقات کو فروغ دے کر بھارت کی عالمی پوزیشن مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ مضمون نگار نے بھارت کی طرف سے روسی تیل  خریدنے کا خاص طور سے حوالہ دیا   حالانکہ ناروے سمیت پورا یورپ،  یوکرین پر روسی حملے کے خلاف ہے اور کسی بھی طرح روس کو یہ جنگ بند کرنے اور یوکرین کی خود مختاری قبول کرنے پر آمادہ کرنا چاہتا ہے ۔جبکہ مودی حکومت نے بھارتی مفاد کو  ایک ملک کی خود مختاری کے اصول پر ترجیح دی۔ اسی طرح نریندر مودی اسرائیل  سے پینگیں بڑھا رہے ہیں حالانکہ اسرائیل نے دو سال تک غزہ پر جنگ مسلط رکھی اور وہ اب بھی فلسطینی عوام کو بنیادی انسانی حقوق دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس مضمون  میں  کارٹونسٹ مارون  ہالےراکر کا ایک کارٹون شامل کیا  گیا تھا۔ اس کارٹون میں  مودی کو ایک سپیرے کے روپ میں دکھایا گیا تھا جو بین بجا رہا ہے جبکہ اس کے سامنے جو ’سانپ‘ سر اٹھا رہا ہے، اس کا سر پیٹرول پمپ پر استعمال ہونے والا نوزل ہے۔ یوں  علامتی طور سے   بھارت کی  تجارتی تعلقات وسیع کرنے کی خواہش  کو تعبیر کیا گیا تھا۔   یہ مقصد  بجائے  خود قابل  اعتراض نہیں ہوسکتا کیوں کہ اس وقت دنیا کا ہر ملک دوسرے ممالک کے ساتھ مراسم کی بنیاد تجارت اور مالی مفادات پر  رکھتا ہے۔ نریندر مودی کے ناروے و دیگر ممالک کے دورے کا بھی یہی مقصد تھا۔  لیکن بھارتی معترضین کو اس کارٹون کے ذریعے  ایک سوال سے پیدا ہونے والی مشکل صورت ھال سے نکلنے کا راستہ دکھائی دیا۔

پہلے یہ بات پھیلانے کی کوشش کی گئی کہ یہ کارٹون نسل پرستی کا نمونہ ہے۔ لیکن کسی بھی طرح اس مؤقف کے لیے کوئی دلیل نہیں لائی جاسکتی تھی۔ نسلی امتیاز نہ تو مضمون کا موضوع تھا اور نہ ہی اس کارٹون میں اس کا شائبہ ملتا تھا۔ اس مؤقف کے بودا ثابت ہونے پر کوئی برجمہر یہ دور کی کوڑی نکال کر لایا کہ یہ درحقیقت ناروے کی سفید فام برتری اور نوآبادیاتی ذہنیت کا عکاس ہے جو بھارت کی قدیم تہذیب اور  جدید دور میں سائنسی و معاشی ترقی کو مسترد کرنے کے لیے بھارتی عوام  کی توہین  کا سبب بنا ہے۔  اوّل تو ناروے کبھی کالونیل پاور نہیں رہا۔ اس نے کسی ملک کو اپنی نوآبادی نہیں بنایا۔  دوسرے معاشی معاملات کی عکاسی کرنے والے ایک کارٹون کو تاریخی ظلم و ناانصافی کی علامات بناکر دکھانا  ، اس کارٹون یا  اس  مضمون کو غلط انداز میں پیش کرنے  کی  واضح کوشش  ہے۔ شاید یہی بھارتی تجزیہ کاروں اور معترضین کا مقصد بھی تھا۔

’مودی سوالوں کا جواب کیوں نہیں دیتے‘  والا  سوال ، ایک ایسا ہتھوڑا ثابت ہؤا کہ بھارت میں تمام انتہاپسند عناصر اس کی  ضرب سے  تلملا رہے ہیں۔ اب ایک غیر متعلقہ مضمون اور اس میں شامل ہونے والے کارٹون کو بنیاد بنا کر بھارتی عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ناروے میں بھارت میں انسانی   حقوق کے بارے میں کیے جانے والے سوال درحقیقت سفید فام اور نوآبادیت کی ذہنیت کا عکاس ہیں۔  اس طرح نریندر مودی کی ناکامی، بھارت میں اقلیتوں کے  ساتھ ہونے والی ناانصافی اور  میڈیا فریڈم انڈیکس پر بھارت کی ناقص کارکردگی کو چھپانے کی بھونڈی کوشش کی جارہی ہے۔