آبنائے ہرمز پر تول کا نفاز قابل قبول نہیں ہوگا: مارکو روبیو
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں ٹول لینے کا نظام نافذ کرتا ہے تو امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی معاہدہ ممکن نہیں رہے گا۔
روبیو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی اس طرح کے نظام کے حق میں نہیں ہے اور یہ ناقابلِ قبول ہوگا۔ خبر رساں ادارے روئٹر کے مطابق امریکہ وزیر خارجہ نے کہا کہ ’اگر ایران اس راستے پر چلتا رہا تو یہ نہ صرف معاہدے کو مشکل بنا دے گا بلکہ عالمی سطح پر خطرہ بھی بن جائے گا اور یہ مکمل طور پر غیرقانونی عمل ہوگا۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔
روبیو نے مزید کہا کہ کچھ مثبت اشارے ضرور نظر آ رہے ہیں، لیکن وہ زیادہ پُرامید ہونے سے گریز کر رہے ہیں اور آئندہ چند دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔
اس دوران ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس مرحلے پر مذاکرات کا مرکز صرف لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر ہے‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ جوہری مسائل کے بارے میں میڈیا میں کیے جانے والے دعوے، بشمول افزودہ مواد یا افزودگی کی بحث، محض میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں اور ان میں خام خیالی ہے۔
بقائی نے واضح کیا کہ مذاکرات کی تفصیلات کے بارے میں درست معلومات مجاز حکام اور مذاکراتی ٹیم کے ترجمان فراہم کریں گے۔
امریکی صدر نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے بارے میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا تھا کہ ’ہمیں یہ مل جائے گا، ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ ہمیں یہ نہیں چاہیے۔ ہم اسے حاصل کرنے کے بعد شاید اسے تباہ کر دیں گے لیکن ہم انہیں حاصل نہیں کرنے دیں گے۔‘