کروڑ ہا انسانوں کی معاشی بقا غیر یقینی بنانے کا ذمہ دار کون؟

عالمی میڈیا کے کئی معتبر نام بدھ کی رات سے دعویٰ کررہے ہیں کہ امریکہ اور ایران پاکستان کی کاوشوں سے جنگ بندی کو صلح کے معاہدے میں بدلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ کالم چھپنے تک شاید یہ فیصلہ بھی ہوجائے کہ جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے آئندہ ایک ماہ تک دیرپا امن یقینی بنانے کے لئے امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات بلاتعطل جاری رہیں۔

 ہولناک جنگ سے گریز کی خبروں پر اعتبار کرنا جی کی تسلی کیلئے لازمی ہے۔ چند سوالات اٹھانے میں اگرچہ کوئی ہرج نہیں۔دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد رواں برس کے مارچ تک پاکستان سے ویت نام تک پھیلے جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے تمام ممالک اور کروڑ ہا افراد اپنی ضرورت کا تیل،گیس،کھاد اور بے شمار کیمیائی عناصر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عراق اور بحرین جیسے ممالک سے حاصل کررہے تھے۔ 1979 میں ایران میں اسلامی انقلاب آیا تو وہاں کا تیل اور گیس اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے کھلی منڈی سے غائب ہوکر دونمبری تجارت سے فروخت ہونا شروع ہوگیا۔ خلیجی ممالک سے جدید زندگی کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے تیل اور گیس مگر آبنائے ہرمز کی راہداری سے گزرکر جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے ممالک کو بآسانی میسر رہے۔ دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کا دعوے دار امریکہ تیل اور گیس کی فراہمی کا ضامن تھا۔اسی باعث خلیجی ممالک میں اس کے فوجی جدید ترین ہتھیاروں سمیت کئی دہائیوں سے تعینات ہیں۔

خطے میں امن کا ’’ضامن‘‘  قرار پائے امریکہ نے مگر اسرائیل کے ساتھ مل کر مارچ کے آغاز میں ایران پر حملہ کردیا۔ بلاتعطل فضائی بمباری کے بعددعویٰ کیا کہ ایران کو فوجی اعتبار سے ناکارہ بنادیا گیا ہے۔ غالباًاس دعویٰ نے اسے پاکستان جیسے ملکوں کی جانب سے جنگ بندی کی فریاد تسلیم کرنے کو مائل کیا۔ ایران کی دفاعی قوت تباہ کرنے کے دعویٰ کے باوجود تلخ حقیقت مگر یہ ہے کہ خلیجی ممالک سے جنوبی اور مشرقی ایشیا￿ تک تیل لے جانے والے بحری جہازوں کو اب آبنائے ہرمز کے ان حصوں سے گزرنا پڑتا ہے جن پر ایران مکمل کنٹرول ثابت کرچکا ہے۔ایران کے ساتھ راہداری کی شرائط طے کئے بغیر تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزارے نہیں جاسکتے۔ امریکہ کی ’’ضمانت‘‘ غارت ہوچکی ہے۔ نئے بندوبست نے اس کی جگہ ایران کو خلیج فارس کے ذریعے ہوئی بحری تجارت کا یک وتنہا ضامن بنادیا ہے۔

ریاستی امور کی پیچیدگیوں سے نابلد ہوتے ہوئے مجھ جاہل کو سمجھ نہیں آرہی کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے باوجود کامل کنٹرول حاصل کرلینے کے بعد ایران اس راہداری سے گزرنے والے جہازوں سے ’’چونگی‘‘ وصول نہ کرنے کو رضا مند کیوں ہوگا۔ آبنائے ہرمز کو ماضی کی طرح تجارت کے لئے کھلا چھوڑنے کے لئے وہ امریکہ سے پیشگی اور بھاری بھر کم تاوان کا تقاضہ کررہا ہے۔ امریکہ ’’تاوان‘‘ ادا کرنے کو رضا مند ہوجائے۔ ایران کے منجمد اثاثے بحال کردئے جائیں تب بھی آبنائے ہرمز کی راہداری پر وہ اپنا اجارہ برقرار رکھنا چاہے گا۔اس کا اجارہ تسلیم کرلیا جائے تو خلیجی ممالک امریکہ کو اپنا ’’ضامن اور محافظ‘‘ تسلیم کرنے کا جواز کھودیں گے۔ ایران مشرق وسطیٰ کا حتمی اجارہ دار تسلیم کرلیا جائے گا۔ میری ناقص عقل یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایسے معاہدے پر رضا مند کیوں ہوں گے جو مشرق وسطیٰ میں ان کی چوہدراہٹ کے خاتمے کا اعلان ہوگا۔ عالمی میڈیا کے کئی معتبر نام مگر امید دلائے چلے جارہے ہیں اور جنگوں کے ہولناک نتائج سے خائف میرا دل ان کا دعویٰ ماننے کو مجبور ہے۔

جس معاہدے کی توقع باندھی جارہی ہے، وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے مسلط ہوئے اجارے کا خاتمہ یقینی بنادے تو ذاتی طورپر میں خوش ہوں گا۔ میری خوشی مگر اس امر کو یقینی نہیں بنارہی کہ ایران اور امریکہ کے مابین معاہدے ہوجانے کے بعد ہمارے ہاں تیل کی قیمتیں دھڑام سے گرجائیں گی۔ سستے پٹرول اور ڈیزل سے ہماری معیشت کسادبازاری کے جمود سے آزاد ہوکر شاہراہِ خوشحالی پر سرپٹ دوڑنا شروع ہوجائے گی۔خام تیل اور معیشت کے رشتے پر نگاہ رکھنے والے ماہرین ٹھوس اعدادوشمار کی مدد سے سمجھائے چلے جارہے ہیں کہ خلیجی ممالک سے جنوبی اور مشرقی ایشیاکے ممالک کو تیل کی ترسیل معاہدہ امن کے بعد آئندہ چند دنوں میں بحال ہوجائے تب بھی میرے اور آپ جیسے عام صارف کے لئے پٹرول اور ڈیزل کو قابل برداشت سطح پر لوٹنے کو کم از کم ایک سال کا عرصہ درگار ہوگا۔ سوال اٹھتا ہے کہ پاکستان سے ویت نام تک پھیلے کروڑ ہا انسانوں کی معاشی بقاء￿ غیر یقینی بنانے کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا جائے گا۔ ذمہ داری کے بعد سز اور جبر کا عمل بھی دیکھنا نصیب ہوگا یا نہیں۔ برجستہ جواب میرے سوال کا ’’نہیں‘‘ میں ہے۔ نام نہاد جدید دور میں داخل ہوئے کئی دہائیاں گزرجانے کے باوجود ہم بے اختیار انسانوں کو محض جانوروں کے ریوڑ کی طرح دشوار راستوں پر دھکیل دیا جاتا ہے۔

صنعتی انقلاب کے 300برس گزرجانے کے بعد ہم اس گماں میں مبتلا تھے کہ ’’عالمی ضمیر‘‘ نام کی کوئی شے ہے۔ ایسے ادارے بھی موجود ہیں جو انسانوں کی زندگی مشکل بنانے والوں کا احتساب کرسکیں۔ ’’مہاروس‘‘ کے احیا￿ کے لئے پوتن مگر اپریل 2022میں یوکرین پر حملہ آور ہوگیا۔ ہزاروں انسانوں کی ہلاکت اور نقل مکانی کے باوجود روس-یوکرین جنگ بدستور جاری ہے۔ اکتوبر2023 سے غزہ کی پٹی میں محصور ہوئے فلسطینیوں کا وحشیانہ قتل عام ہوا۔ چند ہی ماہ قبل ٹرمپ نے غزہ امن منصوبے کے نام پر فلسطین میں ’’نئی دنیا‘‘ آباد کرنے کی نوید سنائی تھی۔ نئی دنیا بسانے کے بجائے مگر اسرائیل کے ساتھ مل کر وہ ایران پر حملہ آور ہوگیا اور اب آبنائے ہرمز سے محروم ہوجانے کے باوجود سرجھکاکر حقائق تسلیم کرنے کو رضا مند نہیں۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی سفاک حقیقت دورِ حاضر کی پہچان بن چکی ہے جسے ہم قدیم زمانے کی ’’وحشت وبربریت‘‘ کے مقابلے میں ’’مہذب وپْرامن‘‘ دکھاتے ہوئے شاداں محسوس کیا کرتے تھے۔

(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت )