پہلے پتھر کا انتظار

کل ورجینیا امریکہ سے ناصر محمود شیخ کا فون آیا۔ سیلانی آدمی ہے جب بھی امریکہ جاتا ہے، وہاں کی ترقی نہیں لوگوں کے رویوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ وہ بتا رہے تھے میں نے دیکھا دو کالے پولیس والے کھڑے ہیں اور آگے جس ہال میں اجلاس ہو رہا تھا،وہاں تک نہیں جانے دے رہے۔

 ان کے پاس چلا گیا۔ وہ خاصے ڈیل ڈول والے تھے لیکن میں نے انہیں کہا بہت سمارٹ لگ رہے ہیں، خوش ہوئے۔ میں نے آگے جانے کی خواہش کا اظہار کیا، ان میں سے ایک نے کہا کیوں؟ ناصر محمود شیخ نے اس موقع پر سوچا اگر میں پاکستان میں ہوتا اور ایسے موقع پر اس خواہش کا اظہار کرتا تو وہاں موجود پولیس والوں نے دوچار سنانا بھی تھیں اور لگانی بھی تھیں مگر یہاں جب میں نے کہا پاکستان سے آیا ہوں، صحافی ہوں، دیکھنا چاہتا ہوں،امریکہ میں جمہوریت کیسے چلتی ہے تو انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ پھر مسکرا کے کہا،”گڈ تمہاری وجہ بہت دلچسپ ہے،اس لئے آگے جانے دیتے ہیں“۔

پھر ناصر محمود شیخ نے ایک اور دلچسپ بات بتائی۔ امریکہ میں کسی کی تعریف کرنا کوئی عیب نہیں، نہ اس کا بُرا منایا جاتا ہے۔ آپ راہ چلتے کسی کے لباس، کسی کی مسکراہٹ، کسی کی خوبصورتی کو سراہ سکتے ہیں،وہ جواب میں ویلکم کہے گا یا شکریہ ادا کرے گا۔ میں نے ناصر محمود شیخ سے پوچھا اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ یہاں تو ہم کسی کی تعریف کریں وہ الٹا گلے پڑجاتا ہے۔ وہ کہنے لگے اس کی وجہ میری سمجھ میں تو یہی آئی ہے کہ امریکہ میں لوگ حتیٰ الامکان ایک دوسرے پر شک نہیں کرتے۔ وہ عمل کو دیکھتے ہیں اور اس پر یقین کرلیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی ان کی تعریف کر رہا ہے توواقعی اس نے مجھ میں کوئی خوبی دیکھی ہے۔مشکوک معاشروں میں ہر عمل شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور پاکستان بھی غالباً انہی میں شامل ہے  پھر ناصر محمود شیخ نے ایک اور بات کی۔ اس نے کہا امریکہ آکر اندازہ ہوتا ہے فرد کی آزادی کیا ہے۔ وہ آزادیاں جو امریکی آئین نے دے رکھی ہیں، وہ تو موجود ہی ہیں، تاہم لوگوں نے بھی اس آزادی کے تصور کو اپنی زندگیوں میں ڈھالا ہوا ہے۔ مثلاً امریکہ میں کوئی کسی کی ”ٹوہ“ میں نہیں لگا رہتا۔ سب دوسروں کی آزادی کا احترام اور اپنی آزادی کو انجوائے کرتے ہیں۔ بازاروں میں آپ کسی بھی لباس میں ہوں، کوئی آنکھیں پھاڑ کے نہیں دیکھتا۔ہمسایوں کی آزادی میں کوئی مخل نہیں ہوتا، یہ سب کچھ مل کر ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں، جس میں فرد کی اہمیت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں آکربہت فرق محسوس ہوتا ہے۔

ناصر محمود شیخ کا امریکی سماج کے بارے میں یہ مطالعہ سن کر مجھے تو اپنے ماجھے ساجھے یاد آ جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بازاروں میں پیچھے مڑ کے دیکھنے والے اتنے ہوتے ہیں کہ آگے جانے والوں سے ٹکراتے رہتے ہیں۔ ہمارے گلی محلے جاسوسی کے مرکز ہوتے ہیں،جو ہمسایوں کے اوپر دو ر بین  لگا کر کی جاتی ہے۔ حوصلے اور صبر سے دوسرے کی بات سننا تو ایک خواب ہے، ذرا سی بات پر خنجر نکل آتے ہیں، گولیاں چل جاتی ہیں۔ جب یہ عادت بن جائے کہ دوسرے کو آزادی اور خوشی کے ساتھ جینے نہیں دینا تو پھر یہ باتیں معمول بن جاتی ہیں۔ چند روز پہلے مانسہرہ میں جو واقعہ پیش آیا وہ بھی اسی رویے کی کڑی ہے جس میں بچوں کی لڑائی ہوئی تو بڑے بھی کود پڑے اور سات جانیں چلی گئیں۔ کوئی سمجھانے والا نہیں تھا، کوئی روکنے والا نہیں تھا۔ ایسے واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ہم نے ہر معاملے کو اپنی انا کا مسئلہ بنانا ہوتا ہے، درگزر اور صبر سے کام لینا ہماری سرشت  میں نہیں ہوتا۔

 اب یہ کتنی تکلیف دہ اور احمقانہ بات ہے کہ بچوں کی لڑائی میں بڑے بھی کود پڑتے ہیں۔ اس سے تویہی ظاہر ہوتا ہے کہ ہم بڑوں نے اپنے بچوں کے لئے کوئی اچھی مثالیں قائم ہی نہیں کیں ۔ اگر روکنے کی بجائے بڑے بھی لاٹھیاں بندوقیں اٹھا کر آجاتے ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ بلوغت پر بھی ایک غفلت اور حماقت کا رنگ چڑھا ہوا ہے۔ بچوں کی لڑائی ہوتی کیا ہے۔اک ذرا سی شرارت، اک ذرا سی غفلت، کچھ دیر بعد سب پھر اسی طرح مل کر کھیل رہے ہوتے ہیں مگر جو سات جانیں چلی گئیں، ان کا مداوا کیسے ہوگا۔ وہ دشمنی جو اب نسل در نسل چلے گی، وہ کیسے جینے دے گی۔ ایک آگ جو پانی ڈالنے سے بھی سرد نہیں ہوتی، تربیت کا فقدان ہو تو بچے بھی اسی ڈگر پر چلتے ہیں۔ ایک دوسرے کی آزادی  کا احترام اور اس کی زندگی کی ضمانت اگر انسان بن جائیں تو بیچ بچاؤ ہوتا ہے  اگر صرف خود غرضی آڑے آ جائے یا یہ سوچ غالب ہو جائے کہ میری برتری ضروری ہے، وگرنہ علاقے میں میری عزت نہیں رہے گی تو المیے جنم لیتے ہیں۔

اچھے معاشرے کے فائدے کسی ایک فرد کو نہیں ہوتے بلکہ سبھی کے حصے میں آتے ہیں۔ دوسرے کا احترام درحقیقت اپنے احترام کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ معاشرے میں کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا کیونکہ دل سب کے پاس ہوتا ہے، اگر ہم احترام چاہتے ہیں تو ہمیں دوسرے کا دل جیتنا پڑتا ہے۔ڈنڈے سے عزت نہیں ہو سکتی اُلٹا رسوائی ہوتی ہے۔ ہمارے اندر کشادگی کی سوچ پروان چڑھتی ہے تو معاشرہ پروان چڑھتا ہے۔ معاشرے کی گھٹن کسی اور کی پیدا کردہ نہیں ہوتی، ہمارے انفرادی اعمال سے جمع ہونے والی وہ کثافت ہے جس کی گھٹن اور تپش کا ہم سب شکار ہوتے ہیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے اندر یہ سوچ ہی پروان نہیں چڑھ سکی کہ معاشرے نے تبھی ٹھیک ہونا ہے،جب پہلی اینیٹ ہم نے رکھنی ہے۔ فرشتوں نے نیچے آکر معاشرے کو ٹھیک نہیں کرنا ۔ یہاں گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ ہر کوئی گند پھیلانے کے بعد یہ فتویٰ دیتا ہے کہ معاشرہ بہت گندہ ہے۔ کئی کام یقیناً حکومت نے کرنے ہوتے ہیں لیکن ہمارے رویوں میں تبدیلی تو حکومت بھی نہیں لا سکتی ، وہ تو ہمارے اندر کی آواز پر ہی تبدیل ہوں گے۔

 کیا ہم اپنے اندر کی آواز سننے کے لئے تیار ہیں۔ نہیں ہر گز نہیں،ہر بندہ جب دوسرے کی طرف نظریں جمائے بیٹھا ہو کہ پہلا پتھر برائی کی طرف وہ پھینکے تو اس پہلے پتھر کا انتظار ہی رہ جاتا ہے۔  اگر ہم سب سے پہلے اپنے آپ کو درست کرنے کی راہ اختیار کریں تو ایک کے بعد دوسرا ٹھیک ہوتا جائے گا۔فی الوقت تو ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کی برائی کو اپنے لئے تقلید کی مثال بنا لیتے ہیں۔ اس وقت پورا معاشرہ اس پہلے پتھر کے انتظار میں ہے جو ہر فرد اپنی خامیوں اور برائیوں کی طرف پھینکے، مگر ہمیں دوسروں پر پتھر پھینکنے سے فرصت ملے تو ایسا کریں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)