کس کس بات کا رونا روئیں

میں ذاتی طور پر ہر ذمہ داری حکومت کے کندھوں پر لادنے کا قائل نہیں ہوں۔ اس ملک کی بہت سی خرابیوں میں سے ایک بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو بطور شہری ہر قسم کی ذمہ داری سے آزاد سمجھ لیا ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ ہمارا ہر کام حکومت کرے۔

 شکر ہے ابھی یہ مطالبہ کوئی نہیں کرتا کہ حکومت اس کے گھر کے اندر کی صفائی کا ٹھیکہ بھی اٹھائے۔ تاہم گھر کا تمام کوڑا کرکٹ دروازے کے عین سامنے پھینکنے کے بعد ہم سرکار سے گلہ کرتے ہیں کہ صفائی کا نظام ٹھیک نہیں۔ ٹھیک ہے صفائی کا انتظام بھی کچھ خاص ٹھیک نہیں  تاہم دوطرفہ ذمہ داریاں نبھائے بغیر اسے آئیڈیل بنانا بہرحال ممکن نہیں ہے۔ حکومتِ پنجاب کے حالیہ اقدامات سے صفائی کی صورتحال گو کہ کچھ بہتر ہوئی ہے لیکن اب بھی اس میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔ اس میں بہتری کیلئے دوطرفہ تعاون اور کاوشیں درکار ہیں کیونکہ خرابیاں بھی دو طرفہ ہیں۔

پنجاب میں صفائی کا حالیہ نظام یوں ہے کہ کوڑا اٹھانے اور اسے ٹھکانے لگانے کیلئے منتخب پرائیویٹ کمپنیوں کو ٹھیکہ دیا گیا ہے جبکہ اس ٹھیکیدار کے کام کی نگرانی اور اس ادائیگی کا ذمہ سرکار نے اپنے افسروں کے سپرد کر رکھا ہے۔ سابقہ نظام میں سرکاری صفائی کا عملہ دیگر سرکاری محکموں کی طرح اپنے ذمہ لگائے گئے صفائی کے کام کے علاوہ باقی ہر کام کرتا تھا اور اس سے تنگ آکر صفائی کا سارا نظام پرائیویٹائز کر دیا گیا۔ لیکن یہ پرائیویٹ کمپنیاں کون سی جاپان سے آئی ہیں لہٰذا اسی نظام میں پروان چڑھنے والے نجی سیکٹر سے منتخب کیے جانےوالے کنٹریکٹرز نے قدیمی قومی عادات و خصائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر شے میں کھانچہ لگانا شروع کر دیا ہے۔

سرکار نے اس نظام میں کوڑا اٹھانے والی کمپنیوں کو ادائیگی کا جو میکانزم بنایا ہے اس کے تحت کوڑا اٹھانے والی کمپنی کو عوضانے میں ادا کی جانے والی رقم کو اٹھائے جانے والے کوڑے کے وزن سے منسلک کر رکھا ہے۔ یعنی ادائیگی کی رقم کوڑے کے وزن کے حساب سے کی جاتی ہے۔ بہت سے شہروں سے صرف شکایت ہی نہیں ملی بلکہ یہ بات ثابت ہوئی کہ کوڑے کی ٹرالی یا لوڈر گاڑی جب وزن کیلئے کنڈے پر پہنچی تو اس میں لدے ہوئے کوڑے کے نیچے کل کوڑے کے وزن سے بھی زیادہ مٹی تھی۔ یعنی کوڑے کے نیچے مٹی ڈال کر کوڑے کا وزن بڑھایا ہوا تھا اور حکومت سے اس کوڑے کی مٹی والے وزن کے حساب سے وصولی کی گئی۔ اٹھائے جانے والے کوڑے کی فی ٹن کے حساب سے ادائیگی کی جاتی ہے۔ کھانچہ باز کمپنیوں نے کہیں سرکاری افسروں کے تعاون سے اور کہیں خود ساختہ چالاکیوں سے سرکار کو چونا لگانا شروع کر دیا۔ جہاں جہاں یہ نظام ٹھیکیدار کمپنیوں اور ادائیگی کی نگرانی پر مامور سرکاری افسران کی ملی بھگت سے چل رہا ہے، وہاں تو راوی بہرحال چین لکھتا ہے۔ ہاں البتہ جہاں ان کمپنیوں نے چالاکی دکھاتے ہوئے اوپر کی ساری فالتو والی ادائیگی اکیلے ہضم کرنے کی کوشش کی ،وہاں سرکاری افسروں کی ایمانداری جاگ پڑی اور اکیلے اکیلے سارا مال ہڑپ کرنے والا معاملہ چوپٹ ہو گیا۔

اس کے علاوہ بھی شکایات ہیں کہ صفائی کمپنیاں ان پوش علاقوں میں صفائی پر زیادہ توجہ دیتی ہیں جہاں متمول، بااثر، پڑھا لکھا اور باحیثیت طبقہ رہائش پذیر ہے۔ اس کے علاوہ علاقے کی مرکزی گزرگاہوں اورسڑکوں کی صفائی پر خاص توجہ دی جاتی ہے جہاں سے سرکاری افسر گزرتے ہیں تاکہ آنے جانے والے متعلقہ افسر اس صفائی ستھرائی سے مطمئن ہو جائیں۔ اس کے علاوہ باقی جگہوں پر صفائی روزانہ یا ایک دن کے وقفے کے بجائے کئی کئی دن بعد کی جاتی ہے۔ البتہ اس دوران کوئی شہری پورٹل پر شکایت کر دے تو تھوڑی پھرتی دکھائی جاتی ہے۔ وگرنہ تب تک آنکھ بند رکھی جاتی ہے جب تک کہیں سے کوئی شکایت نہ آ جائے۔ دور کیوں جائیں میں خود اس چیز کا عینی شاہد ہوں کہ ہماری گلی میں گلی کے رہائشیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت گلی (گرین لین) کی صفائی، تزئین و آرائش اور سکیورٹی کا بندوبست کیا ہوا تھا۔ یہ گلی پورے زکریا ٹاؤن میں اپنی مثال آپ تھی اور لوگ اس گلی کی خوبصورتی، حسنِ انتظام اور صفائی پر رشک کرتے تھے۔ گرین لین کے تمام معاملات خصوصاً صفائی کا معاملہ نہایت شاندار طریقے سے چل رہا تھا۔ تاہم بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر کچھ عرصہ پہلے یہ بندوبست اختتام پذیر ہوا تو معلوم ہوا کہ گلی کی صفائی کا انتظام حکومتی سرکاری کارکردگی کا مرہونِ منت نہیں تھا بلکہ گلی والوں کی قائم کردہ انتظامی کمیٹی کا کارنامہ تھا۔

 گلی کے باقی معاملات سے قطع نظر جب سے صفائی والا کام سرکار کے ذمے پڑا ہے تو گلی میں بچے ہوئے گنتی کے دو چار ڈسٹ بن کئی کئی دن تک خالی کرنے والوں کے منتظر رہتے ہیں۔ گلی کے مکینوں نے بھی قومی عادت سے مغلوب ہو کر گلی میں ہی ایک جگہ پر کوڑا پھینکنا شروع کر دیا ہے۔ کوڑے کے اس ڈھیر نے حکومتِ پنجاب کے قائم کردہ نئے نظام کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ کئی کئی دن تک صفائی کمپنی کے ملازم شکل تک نہیں دکھاتے۔ تین چار بار ایسا ہوا کہ جب اس کوڑے کو اٹھانے کیلئے سات آٹھ دن تک کوئی نہ آیا تو میں نے ایک انتظامی افسر کو کوڑے کے اس ڈھیر کی گزشتہ پانچ دنوں میں روزانہ کی بنیاد پر کھینچی گئی تصویریں جو اس کوڑے کے ڈھیر میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے اضافے کی منظر کشی کرتی تھیں،  وَٹس ایپ کر دیں۔ اسی روز کوڑا اٹھانے والی کمپنی کی گاڑی آئی اور صفائی کر کے چلی گئی۔ تقریباً ہر مہینے ایک دو بار ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تین چار بار تصویریں بھیجنے اور فون کرنے کے بعد معاملات میں تھوڑی بہتری آئی لیکن اتنی ہی کہ اب صفائی کی ٹھیکیدار کمپنی کے ملازمین چار پانچ دن بعد بہرحال کوڑا اُٹھا کر لے جاتے ہیں۔

اس میں ایک قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ گلی سے محض چالیس پچاس گز کی دوری پر کوڑا ڈالنے والا کنٹینر پڑا ہوا ہے لیکن دروازے کے ساتھ لگے ڈسٹ بن میں کوڑا پھینکنے کے عادی گلی کے رہائشی اور ان کے ملازمین چالیس پچاس گز دور کوڑا پھینکنے کی مشقت کرنے کے بجائے گلی میں بنی گرین بیلٹ میں ایک جگہ پر کوڑا پھینک دیتے ہیں۔ یعنی خرابی دو طرفہ ہے۔ مکین اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے اور سرکار صفائی کے نظام کو ٹھیکیداروں کے حوالے کر کے اپنی ذمہ داریوں سے ہاتھ چھڑا چکی ہے۔

صفائی کے اس نئے نظام میں پیسہ بنانے کے بڑے مواقع پوشیدہ ہیں اور جہاں پیسے بنانے کے امکانات ہوں، بڑے بڑے معزز نام اس بات کی پروا کیے بغیر کہ یہ ان کا کام ہے یا نہیں، نہ صرف اس کام میں کود پڑتے ہیں بلکہ اسے اُچک بھی لیتے ہیں۔ کوڑا اٹھانے والے اس کام میں بھی یہی ہوا اور بڑی بڑی کمپنیاں بڑے بڑے مگر مچھ اس معاملے میں کود پڑے۔ پنجاب میں صفائی کے اس ٹھیکیداری نظام کیلئے مختص 150 ارب روپے پر مشتمل بجٹ کی رقم کا سُن کر بڑوں بڑوں کے منہ میں پانی آ سکتا ہے۔ بڑے بڑے زورآوروں نے اس کام میں ہاتھ ڈال رکھا ہے اور صفائی کے نام پر نہایت ہی صفائی سے واردات ڈال رہے ہیں۔ دیہات، قصبوں اور یونین کونسلوں تک پھیلے ہوئے اس نظام سے پہلے کی نسبت بہت بہتری دکھائی دے رہی ہے لیکن سرکار جتنے پیسے اس پر لگا رہی ہے اس کے نتائج اس طرح دکھائی نہیں دے رہے اور اس کی بنیادی وجہ پرائیویٹ کمپنیوں کی بد نیتی اور بے ایمانی کے ساتھ ساتھ نگرانی کرنے والے سرکاری افسروں کی پیداگیری پر مبنی پرانی عاداتِ بد ہیں۔

عوامی شکایات پر بصد مشکل کئی قصبوں،شہروں اور تحصیلوں میں ان کنٹریکٹرز کے کنٹریکٹ منسوخ کرنے کی کارروائی کی گئی تاہم ایسی بیشتر کارروائیاں عدالتی حکم امتناع کی نذر ہو چکی ہیں۔ مجھے اس قسم کے امتناعی احکامات پر اب کوئی حیرت نہیں ہوتی۔  مملکتِ خداداد کا سارا نظام ایک عرصے سے عدالتی و غیر عدالتی حکم امتناع پر ہی چل رہا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)