الطاف حسن قریشی: بس یادیں رہ جاتی ہیں
- تحریر محمد مہدی
- ہفتہ 23 / مئ / 2026
الطاف حسن قریشی سے آخری ملاقات چند ایام قبل ان کے دولت خانے پر ہوئی تھی کہ جس میں وہ بے سدھ پڑے ہوئے تھے اور ان کی زبانی تاریخ میں جھانکتے ہوئے آج کے مسائل کو سمجھنے کے لئے بے قرار دل بے تاب تھا۔ جب ان کے پاس سے روانہ ہوا تو شدت غم آنکھوں سے روا ہو چکا تھا۔
مگر دل کو آس تھی کہ نہیں کچھ نہیں ہو گا اور قریشی صاحب پھر رونق محفل ہوں گے مگر جو مشیت خدا کہ اب صرف یادیں ہی اثاثہ بن چکی ہیں۔ میری ان سے نیاز مندی کو کوئی ڈیڑھ عشرہ ہوا ہوگا۔ ان کو ایک صحافت کے لیجنڈ کے طور پر تو بچپن سے جانتا تھا کہ اردو ڈائجسٹ ہمارے گھر ضرور آتا تھا۔ کوئی عشرہ قبل ایک روز موبائل کی گھنٹی بجی تو دوسری طرف خود الطاف حسن قریشی تھے، انہوں نے مجھے پائینا کے پروگرام میں شرکت کی دعوت دی۔ میں تو خوشی سے جھوم اٹھا کہ اردو صحافت کی اتنی بڑی شخصیت نے مجھے دعوت دی اور یہ میرا ان سے پہلا رابطہ تھا اور پھر یہ تعلق ان کی زندگی کے آخری لمحوں تک قائم رہا۔ اس پروگرام کے بعد انہوں نے اپنے گھر آنے کی دعوت دی اور پھر میں گاہے بگاہے ان کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔ ٹیلی فون پر تو کم و بیش ہر روز ہی ان سے بات ہوتی اور بہت کچھ سیکھنے کو ملتا رہتا۔
جب ان کی وفات پر اپنے جذبات تحریر کرنے بیٹھا تو ان کی اعلیٰ نثر اور صحافی زندگی پر کوئی کلام نہ کرنے کا سوچا کہ میں بھلا کیا سورج کو چراغ دکھاؤں گا۔ بس یادوں کا ایک ہجوم ہے کہ جو آ سامنے کھڑا ہو رہا ہے۔ وہ یقینی طور پر متحرک صحافیوں میں سب سے سن رسیدہ تھے مگر اس کے باوجود اپنے نظریات سے لگن اور ان کے حصول کے لئے زندگی کے آخری ایام تک مگن رہے اور اس سبب سے ہی ان کا احترام ہر طبقہ میں موجود ہے۔ جب محترم نواز شریف اپنے وزارت عظمیٰ کے دور میں بیمار ہوئے اور اس وجہ سے ان کو کچھ عرصے لندن میں مقیم رہنا پڑا تو میں ان کی عیادت کے لئے لندن پہنچا۔ جب میں لندن روانہ ہو رہا تھا تو قریشی صاحب نے مجھے یہ ذمہ داری ادا کرنے کا کہا کہ میں ان کی جانب سے بھی محترم نواز شریف کی عیادت کروں۔ میں نے محترم نواز شریف کو قریشی صاحب کا دعاؤں بھرا پیغام دیا تو انہوں نے مجھ سے ان کی صحت کے متعلق استفسار کرنا شروع کر دیا۔ اور مجھے خصوصی طور پر کہا کہ میں ان کا سلام قریشی صاحب کو پہنچا دوں۔
قریشی صاحب کی صحافتی زندگی میں قید و بند کی صعوبتیں تو آتی رہیں مگر ان کو ایک وقت میں اس وقت سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے شیخ مجیب الرحمٰن کا انٹرویو ڈھاکہ میں کیا اور اس انٹرویو کو جولائی انیس سو انہتر کے شمارے میں شائع کر دیا گیا مگر قریشی صاحب اس وقت شدید حیرت میں مبتلا ہو گئے جب اس انٹرویو کے کچھ مندرجات سے شیخ مجیب الرحمٰن نے انکار کر دیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے اس انٹرویو میں یہ تسلیم کر لیا تھا کہ انیس سو چھپن کے دستور کو بحال کر دیا جائے تو دستور سازی میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔ ایک صحافی کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی واقعات کو، انٹرویو کو شائع کرتے ہوئے دیانت ہوتی ہے اور شیخ مجیب الرحمٰن نے انٹرویو کے کچھ مندرجات کا انکار کر کے قریشی صاحب کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ مجھے انہوں نے بتایا تھا کہ اس موقع پر ان کو بہت پریشانی لاحق ہو گئی تھی مگر غیبی مدد کے طور پر دھان منڈی ڈھاکہ میں لئے گئے اس انٹرویو کے وقت حسین شہید سہروردی کی صاحب زادی بیگم اختر سلیمان بھی موجود تھیں۔ انہوں نے کراچی سے پریس ریلیز جاری کی کہ میں اس انٹرویو میں موجود تھی اور مجیب نے وہ ہی کچھ کہا جو اردو ڈائجسٹ میں شائع ہوا ہے۔ پریس ریلیز میں یہ بھی درج تھا کہ تم نے یہ بھی کہا تھا کہ چھ نکات قرآن ہے نہ بائبل، اور ان پر بات ہو سکتی ہے۔ قریشی صاحب کہا کرتے تھے کہ شیخ مجیب کے انٹرویو کے اختتام پر میں نے تحریر کیا تھا کہ نور جہاں کے ہاتھ سے دوسرا کبوتر بھی اڑ گیا ہے۔ اور جب شیخ مجیب نے یہ حرکت کی تو میرے اس تاثر کو تقویت ملی کہ دوسرا کبوتر حقیقت میں ہی اڑ گیا ہے۔
ان کا ایک فقرہ جو مشرف کے تازہ تازہ مارشل لا کے زمانے میں انہوں نے تحریر کیا تھا، دستور کی اہمیت پر کمال روشنی ڈالتا ہے کہ دستور کی حیثیت جسم میں دوڑتے ہوئے خون کی مانند ہوتی ہے۔ وہ دستور کے حوالے سے اتنے حساس تھے کہ جب کچھ عرصہ قبل ان کو سٹروک ہوا تو مجھے کوئی رات ایک بجے علم ہوا، فوری ان کے صاحب زادے کامران الطاف کو فون کیا اور رہا نہ گیا اسی وقت میں اور میرا چھوٹا بھائی ظفر ہسپتال پہنچ گئے۔ گفتگو ہونے لگی وہ بالکل چپ چاپ لیٹے ہوئے تھے کہ میرے بھائی نے اچانک ان کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے انیس سو تہتر کے آئین کے حوالے سے ایک سوال کر دیا ۔ نہایت خلاف توقع انہوں نے اس سوال کا جواب بھی دینا شروع کر دیا۔ کامران الطاف نے بتایا کہ آپ آئے ہیں تو یہ بولے ہیں اور وہ بھی دستور کے مسئلے پر۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ان کا دماغ، یادداشت آخر دم تک توانا تھی۔
ان کے بیٹے کامران الطاف، دونوں پوتوں، بھتیجوں طیب قریشی، ذکی قریشی کو ہمیشہ ان کی خدمت میں ہی منہمک پایا۔ خدا ان تمام اور میرے جیسے ان کے چاہنے والوں کو یہ غم برداشت کرنے کی توفیق نصیب فرمائے کہ بس یادیں رہ جاتی ہیں۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)