مسجد و خانقاہ کی تشکیلِ نو

مسلم تہذیب کا فروغ، تسلسل اور ارتقا دو اداروں کا مرہونِ منت ہے: مدرسہ اور خانقاہ۔اس تہذیب کے دو ستون ہیں: علم اور تزکیہ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے دو بڑی نعمتوں سے نوازا ہے۔ ایک عقل اور دوسری اپنی ہدایت۔

 عقل کی مدد سے کئی عقدے حل ہو سکتے ہیں۔ معیشت چل سکتی ہے، سیاست پنپ سکتی ہے۔ ایک خاص مفہوم میں علم بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔ فنونِ لطیفہ بھی اپنا رنگ دکھا سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ ممکن ہے۔ یہ سب اس نعمت کے کمالات ہیں جسے عقل کہتے ہیں۔ جس ہستی نے انسا ن کو زندگی عطا کی ہے، اس نے عقل بھی دی ہے۔ انسانی تاریخ اس کے کارناموں سے مملو ہے اور ہر صاحبِ عقل اس کا معترف ہے۔ اس میں مسلم یا غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں۔

انسان کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ اس پر تباہی کے جو پہاڑ ٹوٹے، اس کی عزت جس طرح سرِ بازار پامال ہوئی‘ اس کی زندگی میں جو دکھ اور تکلیفیں آئیں، اس میں بڑا دخل اس عقل کا ہے۔ اسی نے اُسے ظلم کا راستہ دکھایا۔ چال بازیاں سکھائیں۔ اس کے لیے ایٹم بم بنائے اور پھر انسانی بستیوں پر برسائے۔ انسانوں کو غلام بنانے کے نئے نئے طریقے ایجاد کیے۔ اس کے استحصال کے لیے نظریات اور نظاموں کا تانا بانا بُنا۔ اس لیے لازم تھا کہ اس نعمت کی آفات سے محفوظ رکھنے کے لیے،انسان کو کچھ مزید عطا کیا جاتا۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جو پیغمبروں کی وساطت سے ملی۔ یہ علم وعمل کا تزکیہ کرتی ہے۔ علم کا تزکیہ ہو جائے تو وہ علمِ نافع بنتا ہے۔ عمل کا تزکیہ ہو جائے تو انسان خیر کی علامت بن جاتا ہے۔ مسلم تہذیب ان دونوں کاموں کا اہتمام کرتی ہے۔

علم کی دو صورتیں ہیں۔ ایک خود اس ہدایت کا علم اور دوسرا اس کائنات کا علم جس میں انسانی سماج بھی شامل ہے۔ اس ہدایت کے علم کو درست بنیادوں پر کھڑا کرنا لازم ہے۔ یہ اس لیے کہ انسان میں پائے جانے والا شر کا شعور اور پھر جبلی تقاضے اس علم سے بھی شر دریافت کر لیتے ہیں۔ ہم اس کے گواہ ہیں کہ کیسے اس دین کے علم سے وہ فکری اور عملی فتنے پیدا ہوئے جنہوں نے مسلمانوں کو بالخصوص اور دنیا کو بالعموم برباد کر ڈالا۔ اسی نے مسلمانوں کی تکفیر کا راستہ کھولا۔ اسی سے معصوم انسانوں کو قتل کرنے کا جواز تلاش کیا گیا۔ اسی سے ترقی کے راستے روکے گئے۔ اس لیے لازم ہے کہ اس علم کو صحیح خطوط پر استوار کیا جاتا رہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی لازم تھا کہ سماج اور کائنات کے علم کو بھی درست سمت دی جائے تاکہ وہ انسانوں کے لیے باعثِ خیر بنے نہ کہ باعثِ آزار۔

اس کے لیے ضروری تھا کہ انسان کے اخلاقی وجود کی اصلاح کی جائے۔ اس میں چھپے خیر کو نمایاں کیا جائے تاکہ وہ اس کے اعمال کے لیے قوتِ متحرکہ بن جائے۔ یہی قوتِ متحرکہ طے کرتی ہے کہ اس کا کردار کیا ہو گا۔ اگرعلم شعورِ خیر سے پھوٹا ہے تو انسانوں کے لیے نافع ہے۔ بصورتِ دیگر وہ انسانی زندگی کو عذاب بنا سکتا ہے۔ علم کے فروغ کا کام مسلمانوں کے مدارس نے کیا اور اس کی اخلاقی تطہیر کا اہتمام خانقاہی نظام نے کیا۔ مسلم سماج میں یہ دونوں ادارے اسی مقصد کے لیے قائم کیے گئے تھے۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے مدارس اور خانقاہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں تھے۔ ہر مدرسے کے ساتھ مسجد ضروری تھی۔ یہ اس لیے تھا کہ علم پروردگار کی موجودگی کے احساس سے جڑا رہے۔
مسلم سماج میں زوال اس وقت آیا جب ان اداروں نے اپنے اصل کردار سے انحراف کیا۔ علم اور اخلاق میں طلاق ہو گئی۔ لوگ دینی علوم پر بحث کر ر ہے ہوتے ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہر اخلاقی تقاضے سے بے نیاز ہیں۔ انہیں یہ اندازہ ہی نہیں کہ بحث مباحثے کے بھی اخلاقیات ہوتے ہیں جو دین نے بیان کیے ہیں۔ وہ بلاتکلف منبر پر بیٹھ کر دوسروں کو گالیاں دے سکتے ہیں۔ خانقاہی نظام کا معاملہ بھی ناگفتہ بہ ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا ادارہ ہو جس کی طرف اصلاحِ نفس کے لیے رجوع کیا جا سکے۔ مسلم تہذیب کے احیا کے لیے ناگزیر ہے کہ ان اداروں کی تشکیلِ نو ہو۔ اس کے لیے دین کے علم سے وابستہ افراد کو اس جانب متوجہ کرنا لازم ہے۔ امید کی بات یہ ہے کہ اس بات کا احساس اہلِ علم کو ہونے لگا ہے اور حکومت کو بھی۔

یہ بات میں ان مشاہدات کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں جو مجھے لاہور کے دو روزہ قیام کے دوران میں ہوئے۔ ایک دن منہاج یونیورسٹی میں گزرا جہاں اہلِ علم کو اس کے لیے جمع کیا گیا تھا کہ وہ سماج میں پھیلتی دہشت گردی کا حل تلاش کریں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم دہشت گردی کو مذہبی تناظر میں موضوع بنانے پر مجبور ہیں کیونکہ اس نے مذہب کی غلط تعبیرات سے جنم لیا ہے۔ منہاج یونیورسٹی میں یہی تعبیرات زیرِ بحث رہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے 1986 میں اس جامعہ کی بنیاد رکھی تھی۔ آج یہ ایک توانا درس گاہ ہے جس میں وہ تمام ذرائع میسر ہیں جو علم وتحقیق کی ضرورت ہیں۔ ان کے صاحبزادے ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اس موقع پر فکر انگیز مقالہ پڑھا۔ خود ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے مذہب کی غلط تعبیر کی کوکھ سے جنم لینے والی فتنے کے خلاف چھ سو صفحات پر مشتمل ایک کتاب بھی تصنیف کی ہے۔ اس کانفرنس میں فوج، پولیس اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے وابستہ افراد شریک ہوئے۔ انہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں بتایا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیا عملی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔

دوسرا اجتماع علما اور مشائخ کا تھا۔ اس میں بھی بنیادی سوال یہی تھا کیسے مسجد وخانقاہ کو اس کے اصل کردار کی طرف لوٹایا جائے۔ اس اجتماع کا اہتمام حکومتِ پاکستان کے ادارے 'سنٹر آف ایکسیلنس برائے انسدادِ دہشت گردی نے کیا تھا۔ یہ ادارہ منہاج یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے شریک معاونین میں شامل تھا۔ علماو مشائخ کو جمع کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ مسجد وخانقاہ کے اداروں کو سماج میں امن کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ محراب ومبنر سے بھائی چارے کی آواز ابھرے۔ یہ پنجاب حکومت کے ان اقدامات کا تسلسل ہے جن کا مقصد صوبے میں مذہبی اداروں کو ایک نظم کے تابع کر نا ہے تاکہ ان کے سوئے استعمال کو رو کا جا سکے۔

یہ درست سمت میں ایک اقدام ہے۔ مسلم دنیا میں مذہبی سرگرمیاں ایک نظم کے تحت ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ مسجد کے خطیب کے لیے کوئی معیار مقرر ہے نہ مسجد بنانے کے لیے قانونی ضابطہ ہے۔ اگر حکومت اور علما مل کر ایک نظام وضع کر سکیں تو اس میں دونوں کا فائدہ ہے اور ساتھ عوام کا بھی۔ ضرورت یہی ہے کہ مدرسہ، مسجد اور خانقاہ، پھر سے علم اور تزکیہ کے مراکز بنیں۔ علما ہمیشہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ جب ہر معاملے میں ماہرین سے رجوع کیا جاتا ہے تو علمِ دین کے باب میں کیوں نہیں۔ اس دلیل میں وزن ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ خطیب اور امامِ مسجد کے لیے بھی کوئی معیار ہونا چاہیے۔ علمِ دین کی سند کے ساتھ، اس کے پاس ابلاغ کی مہارت ہونی چاہیے اور سماج کا شعور بھی۔ اسے معلوم ہو کہ اس کا مخاطب کس طرح کے افراد ہیں اور اسے کس اسلوب میں بات کرنی چاہیے۔ اللہ کرے کہ یہ سنٹر آف ایکسیلنس ان اہم سماجی اداروں کی تشکیلِ نو میں کوئی کردار ادا کرے۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)