خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد

لاہور میں تھانہ شاہدرہ نے چار پولیس والوں کے خلاف گداگری ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کی تفصیل کے مطابق چاروں کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی کہ وہ جرائم پیشہ افراد پر نظر رکھیں، مگر انہوں نے آنے جانے والوں سے عیدی وصول کرنا شروع کر دی۔

ایک شخص نے پولیس تھانہ شاہدرہ کو بتایا اُس سے ان پولیس اہلکاروں نے6500روپے عیدی کی مد میں لئے ہیں اس پر تھانہ شاہدرہ میں گداگری ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ۔یہ لاہور ہی نہیں پورے پنجاب یا شاید پورے پاکستان میں اپنی نوعیت کاپہلا پرچہ ہے۔ عید کے دِنوں میں پولیس والوں،بلکہ دیگر محکموں کے کارندوں کی طرف سے عیدی وصولی کی باتیں ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں ۔خاص طور پر ٹریفک پولیس کی جانب سے اس موقع پر خصوصی مہم دیکھی جاتی تھی، تاہم اُن میں سے کسی کے خلاف ایسا کوئی پرچہ درج نہیں ہوا۔ زیادتی یہ کی گئی ہے کہ عیدی لینے پر پرچہ درج کرنے کی بجائے گداگری ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔ گویا اب پولیس والوں کو بھکاری بھی بنا دیا ہے اور وہ بھی اُن کے اپنے محکمے نے۔ ڈی آئی جی آپریشن لاہور فیصل کامران بھی بتا چکے تھے کہ پولیس والوں نے عیدی وصول کرنے کی کوشش کی تو گدا گری کے الزام میں ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

اب یہ بہت آگے کی چیز ہے، پہلے ایسے ملازمین کو معطل کر دیا جاتا تھا جو پولیس والوں کے نزدیک نوکری کا زیور سمجھی جاتی ہے۔اب یہ پرچے درج کرنے کی نئی روایت خاصی چونکا دینے والی ہے۔ یقینا ًپولیس والوں کیلئے کسی تازیانے سے کم نہیں کیونکہ مار دھاڑ یا تشدد نیز رشوت لینے کے مقدمات اُن کیلئے کوئی نئی بات نہیں،مگر یہ بھکاری کا لیبل یقیناً  اُن کیلئے چیز دگر ہے۔ ہم کئی دہائیوں سے سنتے آئے ہیں کہ پولیس والے اپنے پیٹی بھائیوں کا اس لئے خیال کرتے ہیں تاکہ اس فورس کا مورال ڈاؤن نہ ہو لیکن  اب تو لٹیا  ہی ڈبو دی گئی ہے، سرکاری ڈنڈا بردار افسر ہی کو جب گدا گر میں تبدیل کر دیا جائے تو اس سے بڑی سزا کیا ہو سکتی ہے۔ ان بے چارے پولیس والوں کی لاج رکھنے کیلئے اگر اختیارات کے بے جا استعمال یا رشوت لینے کے الزام کا پرچہ درج کر لیا جاتا تو ان کی کم از کم دھاک تو بیٹھ جاتی،کیونکہ یہ الزام تو تمغے سمجھے جاتے ہیں گداگری یعنی بھیک مانگنا تو ایک قیمت ہے  اس الزام کا سامنا کیسے کریں گے۔

جب میں نے یہ خبر اپنے محلے کے ایک بزرگ کو سنائی جو پندرہ سال پہلے پولیس کے محکمے سے ریٹائر ہوئے تھے تو اش اش کر اُٹھے۔کہنے لگے ویسے اس میں بدنامی تو ضرور ہے تاہم گداگری ایکٹ ایک بہت نرم قانون ہے۔ دو چار دن میں ضمانت ہو جاتی ہے،اگر پولیس والوں نے بدنامی اور نیک نامی کا چغہ اتار پھینکا اور اس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج  ہونے کو اپنی عادت بنا لیا تو پھر ہر چوک چوراہے پر وہ لوگوں کو روک کر یہ ”بھیک“ مانگتے نظر آئیں گے۔افسروں نے شاید اپنے تئیں ماتحتوں کو عیدی یا رشوت لینے سے روکنے کا اچھا حل نکالا ہو، لیکن انہوں نے ایک اور راہ بھی دکھا دی ہے۔میں نے سوال کیا حضرت جی،پولیس والے جو زبردستی ر قوم نکلواتے ہیں کیا انہیں بھیک میں شمار کیا جا سکتا ہے؟ کہنے لگے بھائی خیرات یا بھیک تو اپنی مرضی سے دی جاتی ہے، ڈنڈے کے زور پر تو بھتہ وصول کیا جاتا ہے۔کوئی پاگل ہی ہو گا جوکہ ہٹے کٹے پولیس والوں کو بھیک دے گا۔ یہ طریقہ اگر پولیس اہلکاروں کی غیرت جگانے کی کوئی نئی کوشش ہے تو دیکھتے ہیں کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ مگر جو اہلکار رشوت خور کہلوانے سے نہیں چوکتے، وہ گدا گر کہلانے سے کیا  غیرت میں آ جائیں گے ؟

اُن کی باتوں سے مجھے لگا وہ اس پرچے سے خوش نہیں ہیں،حالانکہ میری نظر میں لاہور پولیس کے شہ دماغوں نے ایک سافٹ تھراپی کے ذریعے اپنے اہلکاروں کو احساس دلایا ہے وہ کرگس نہیں شاہین بنیں۔ رزقِ حلال پر قناعت کریں وگرنہ اس سے سوا جو کچھ بھی ہے وہ بھیک ہے،گداگری ہے۔ یہ پیغام اگر درست طور پر سب پولیس والوں تک پہنچ جائے تو تھانوں کے حالات بھی بدل سکتے ہیں اور انصاف کی صورتِ حال بھی بہتر ہو سکتی ہے ،اگر ہر تھانے کا ایس ایچ او یہ بات جان لے کہ وہ انصاف کے ترازو میں ڈنڈی مارتے ہوئے جو اوپر کی آمدنی حاصل کرتا ہے وہ اور کچھ نہیں سوائے بھیک اور خیرات کے تو شاید اسے اُن پیسوں سے گھن آنے لگے۔ کیونکہ کوئی بھی اَنا پرست، خود دار یہ نہیں چاہتا اُس کے بچے خیرات پر پلیں،خاص طور پر وہ لوگ جنہیں منصب اور اختیار ملا ہوا ہے۔ وہ اگر اپنے بچوں کو رشوت سے لی ہوئی رقم جسے اب خود پولیس کے محکمے نے بھیک قرار دیا ہے، پالتا ہے تو گویا وہ اُن کے اندر خوئے غلامی اور خود داری سے محرومی کا بیج بو رہا ہوتا ہے۔

ابھی تو لوگ سرکاری افسروں اور اہلکاروں کو یہ طعنہ دیتے ہیں کہ ہمارے ٹیکسوں پر  پلنے والے ہمی پر ظلم کرتے ہیں اب اگر انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہماری خیرات پر پلنے والے ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں تو کیا بنے گا؟ ہم نے رزقِ حلال کی اہمیت اور برکت کے بارے میں سمجھانے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا، حتیٰ کہ کرنسی نوٹوں پر بھی لکھوا دیا ”حقوق رزقِ حلال عین عبادت ہے“ پھر اُس کے بعد مٹوا بھی دیا جیسے پوری قوم رزقِ حلال کی اہمیت کو سمجھ گئی ہو۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہم الٹ چلنے کے عادی ہیں۔ آج کل جب یہ منظر نظر آتا ہے کہ محکمہ انٹی کرپشن پنجاب نے کسی سرکاری بندے کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے اور اُس کی جیب سے نشان زدہ نوٹ نکلوا لئے ہیں تو لگتا ہے اُس سے بڑا گھامڑ کوئی نہیں تھا۔آج کل جو شاطر  ہیں، وہ اپنے نام سے وصول تو کرتے ہی نہیں، کسی کے نام کا ایزی پیسہ اکاؤنٹ دیتے ہیں اور جب اُس اکاؤنٹ سے میسج آ جائے تو کام ہو جاتا ہے۔

کئی ایک نے تو پہلے ہی رشوت کا نام ڈونیشن رکھا  ہوا ہے۔اب کوئی بعید نہیں کہ اُن کا نام خیرات رکھ دیا جائے،یعنی ثواب کا ثواب اور انعام کا انعام۔یہ آئے روز کے نت نئے اقدامات، طریقے اور فیصلے اِس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ہم بے بس ہو گئے ہیں۔ ہم ایک ایسا شفاف نظام بنا ہی نہیں سکے جو ہمیں ایک ایسا معاشرہ بنا سکے جہاں عدل و انصاف، خوفِ خدا، احتساب کا ڈر اور قانون کی حکمرانی موجود ہو، ہم ایک سر پٹ دوڑتے گھوڑے کی مانند ہیں، جس کی باگیں کسی کے ہاتھ میں نہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)