مناب کی معصوم بچیوں کا قتل اور انسانیت کی خاموشی

28 فروری کو امریکہ۔اسرائیل کے ایران حملے کے دوران مناب کے ایک پرائمری اسکول پر میزائل حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں  110 بچوں سمیت 168 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس واقعے کے بعد گزشتہ تین ماہ میں پینٹاگون کی جانب سے صرف یہ کہا گیا ہے کہ حملے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

ایران کے مناب کے اسکول میں معصوم بچوں کی ہلاکت کی خبر نے دل کو شدید غم اور کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ ننھے پھول جو صبح اپنے خواب، کتابیں اور معصوم مسکراہٹیں لے کر تعلیم حاصل کرنے گئے تھے، چند لمحوں میں جنگ کی بے رحم آگ کا شکار ہو گئے۔ ان بچوں کی چیخیں، خوفزدہ آنکھیں اور ماؤں کی آہیں صرف ایران کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ دکھ ہیں۔ جب سات، آٹھ اور دس برس کے بچے بارود اور بمباری کا نشانہ بننے لگیں تو یہ صرف ایک سانحہ نہیں رہتا بلکہ انسانی ضمیر کی موت بن جاتا ہے۔ دنیا کی ہر ماں آج ان بچوں کے لیے رو رہی ہے جنہوں نے زندگی کی بہار دیکھنے سے پہلے ہی ظلم کی تاریکی میں اپنی جانیں گنوا دیں۔ ان معصوم جانوں کا خون ہمیشہ یہ سوال کرتا رہے گا کہ آخر جنگوں کی قیمت ہمیشہ بچے ہی کیوں ادا کرتے ہیں؟

امریکہ اور اسرائیل کی مسلسل ہٹ دھرمی، طاقت کے بے جا استعمال اور جنگی پالیسیوں نے مشرق وسطیٰ کو خون اور آگ کے میدان میں تبدیل کر دیا ہے۔ انسانی حقوق، انصاف اور امن کے دعوے کرنے والی یہی طاقتیں جب معصوم بچوں کی لاشوں پر خاموش رہتی ہیں تو ان کے تمام دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔ اگر اسکول، اسپتال اور شہری علاقے بھی محفوظ نہیں رہے تو پھر عالمی قوانین اور انسانی اقدار کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ امریکہ اور اسرائیل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے زور پر قائم کیا گیا خوف کبھی پائیدار امن نہیں لا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے مگر معصوموں کے خون کی بازگشت ہمیشہ ظالم قوتوں کا تعاقب کرتی رہتی ہے، اور انسانیت ایک دن ضرور انصاف کا مطالبہ کرتی ہے۔

ایران کے شہر مناب میں ایک اسکول پر ہونے والے ہولناک حملے اور معصوم بچوں کی ہلاکت کی خبروں نے میرے دل کو شدید رنج اور غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ جب انسان یہ سنتا ہے کہ کلاس روم میں بیٹھے بچے، جن کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہئیں تھیں، وہ بارود اور آگ کی لپیٹ میں آ گئے تو انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ دنیا میں شاید اس سے بڑا المیہ کوئی نہیں کہ جنگوں کی آگ میں وہ معصوم جانیں جلنے لگیں جنہوں نے ابھی زندگی کو پوری طرح دیکھا بھی نہیں تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں درجنوں بچے جاں بحق ہوئے، جن میں کم سن بچیاں بھی شامل تھیں۔ یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر پر ایک گہرا زخم ہے۔

یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ جنگ ہمیشہ تباہی لاتی ہے، مگر جب جنگ کی قیمت بچے ادا کریں تو یہ صرف سیاسی یا عسکری تنازع نہیں رہتا بلکہ اخلاقی المیہ بن جاتا ہے۔ مناب کے اسکول میں ہونے والا حملہ اسی اخلاقی زوال کی ایک خوفناک مثال ہے۔ وہ بچیاں جو صبح اپنے والدین سے دعائیں لے کر اسکول گئی تھیں، شاید ان کے والدین نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو دوبارہ زندہ نہیں دیکھ سکیں گے۔ ایک ماں کے لیے اپنے بچے کا بستہ خون میں ڈوبا ہوا دیکھنا، ایک باپ کے لیے اپنی بیٹی کی لاش اٹھانا، اور ایک خاندان کے لیے اپنے مستقبل کو ملبے میں تبدیل ہوتا دیکھنا، یہ سب ایسے مناظر ہیں جو صرف ایران ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے دل کو چیر دیتے ہیں۔بین الاقوامی انسانی قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ اسکول، اسپتال، اور عام شہریوں کی جگہیں جنگی اہداف نہیں ہوتیں۔ بچوں کو خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ مگر افسوس کہ دنیا نے بارہا دیکھا ہے کہ طاقتور ممالک جب جنگی فیصلے کرتے ہیں تو سب سے پہلے انسانی اصول ہی پامال ہوتے ہیں۔ اگر واقعی اس حملے میں امریکی کارروائی یا اس کے اتحادیوں کا کردار شامل ہے تو یہ سوال پوری شدت کے ساتھ اٹھنا چاہیے کہ آخر دنیا کب تک طاقت کے نام پر معصوم جانوں کی قربانی برداشت کرتی رہے گی؟

یوں تو امریکہ خود کو انسانی حقوق کا علمبردار قرار دیتا ہے۔ وہ دنیا بھر میں جمہوریت، انصاف اور آزادی کے نعرے لگاتا ہے، مگر جب مشرق وسطیٰ میں بچوں کے خون سے زمین سرخ ہوتی ہے تو یہی عالمی طاقتیں خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔ عراق، افغانستان، فلسطین، شام اور اب ایران تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں اور بچوں نے اٹھایا۔ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیاں اکثر“سلامتی”اور“دفاع”کے نام پر پیش کی جاتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی سلامتی کی بنیاد معصوم بچوں کی لاشوں پر رکھی جا سکتی ہے؟ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری کارروائیوں پر دنیا پہلے ہی شدید تشویش کا سبب ہے۔ ہزاروں فلسطینی بچوں کی ہلاکت کے بعد عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی تصاویر ابھی ذہنوں سے محو نہیں ہوئیں کہ ایران میں اسکول پر حملے کی خبریں سامنے آ گئی ہیں۔ اگر دنیا واقعی انسانی حقوق اور انصاف پر یقین رکھتی ہے تو پھر اصول سب کے لیے برابر ہونے چاہئیں۔ ایک بچے کی جان فلسطین میں ہو یا ایران میں، اس کی قیمت یکساں ہونی چاہیے۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عالمی برادری کی خاموشی بھی اس سانحے میں کسی حد تک شریک دکھائی دیتی ہے۔ اقوام متحدہ کے بیانات، مغربی طاقتوں کے محتاط ردِعمل، اور بین الاقوامی میڈیا کی محدود توجہ اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا انسانی حقوق بھی جغرافیہ اور سیاسی مفادات کے تابع ہو چکے ہیں؟ اگر یہی واقعہ کسی مغربی ملک میں پیش آتا تو شاید پوری دنیا سوگ میں ڈوب جاتی، عالمی میڈیا دن رات نشریات کرتا، اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا جاتا۔ مگر مشرق وسطیٰ کے بچوں کی چیخیں اکثر عالمی سیاست کے شور میں دب جاتی ہیں۔یہ دوہرا معیار دنیا کے لیے خطرناک ہے۔ جب طاقتور ممالک اپنے اتحادیوں کے جرائم پر خاموش رہتے ہیں تو وہ دراصل عالمی انصاف کے تصور کو کمزور کرتے ہیں۔ اگر عالمی قوانین صرف کمزور ممالک کے لیے ہیں اور طاقتور ان سے بالاتر ہیں، تو پھر انسانیت کے تحفظ کی تمام باتیں کھوکھلی محسوس ہوتی ہیں۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ خاموشی بھی جرم بن سکتی ہے۔ جب معصوم بچے مر رہے ہوں اور عالمی ضمیر خاموش رہے، تو یہ خاموشی ظالم کو مزید طاقت دیتی ہے۔

اس واقعے کی غیرجانبدار، آزاد اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔ اگر واقعی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ذمہ دار عناصر کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ انصاف صرف بیانات سے نہیں ہوتا بلکہ عملی اقدامات سے ہوتا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ، نفسیاتی بحالی، اور انصاف فراہم کرنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ ایسے سانحات کو دوبارہ ہونے سے روکا جائے۔ جنگوں کے حامی اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ ’’قومی سلامتی“کے لیے سخت فیصلے ضروری ہوتے ہیں، مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگیں نفرت کو جنم دیتی ہیں، امن کو نہیں۔ ایک ایسا بچہ جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے دوستوں اور اساتذہ کو مرتے دیکھا ہو، وہ پوری زندگی اس خوف اور صدمے کے ساتھ جیتا ہے۔ جنگ صرف جسموں کو زخمی نہیں کرتی بلکہ نسلوں کے ذہنوں اور روحوں کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔

آج ایران کے مناب میں بہنے والا خون ہم سب سے سوال کر رہا ہے۔ کیا دنیا واقعی انصاف چاہتی ہے یا صرف طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا چاہتی ہے؟ کیا انسانی حقوق صرف سیاسی نعروں تک محدود ہو چکے ہیں؟ اور کیا عالمی ادارے واقعی کمزوروں کی حفاظت کے لیے موجود ہیں یا صرف طاقتوروں کے مفادات کے نگہبان بن چکے ہیں؟ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں۔ یہ وقت ہے کہ دنیا کے باشعور لوگ، انسانی حقوق کی تنظیمیں، صحافی، دانشور، اور عالمی ادارے کھل کر آواز بلند کریں۔ بچوں کے قتل پر خاموشی انسانیت کے مستقبل سے غداری کے مترادف ہے۔ اگر آج دنیا نے اس سانحے پر آنکھیں بند کر لیں تو کل شاید مزید اسکول، مزید بستے، اور مزید معصوم زندگیاں جنگ کی بھینٹ چڑھ جائیں گی۔

ایران کے شہر مناب میں معصوم اسکولی بچیوں کی المناک اموات صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر پر ایک خوفناک سوالیہ نشان ہیں۔ یہ واقعہ اس سفاک حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ جب ریاستیں اپنے بچوں کے تحفظ، تعلیم اور بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت میں ناکام ہو جائیں تو اسکول بھی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہتے۔ ننھی جانوں کا یوں بے بسی کے عالم میں دنیا سے چلے جانا ہر حساس انسان کے دل کو چیر دیتا ہے۔ اس سانحے پر جتنا غصہ، جتنی مذمت اور جتنی بے چینی ظاہر کی جائے کم ہے، کیونکہ یہ صرف چند خاندانوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا نقصان ہے۔ ذمہ دار اداروں کی غفلت، خاموشی اور بے حسی ناقابلِ معافی ہے، اور اگر ایسے واقعات پر بھی دنیا کی طاقتیں اور انسانی حقوق کے علمبردار صرف رسمی بیانات تک محدود رہیں تو پھر انصاف، تحفظ اور انسانیت جیسے الفاظ اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔

مناب کے ان معصوم بچوں کی یاد ہمیں ہمیشہ یہ یاد دلاتی رہے گی کہ جنگ کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔ طاقت کے نشے میں کیے گئے فیصلے وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتے ہیں، مگر وہ انسانیت کے دامن پر ایسے داغ چھوڑ جاتے ہیں جو صدیوں تک نہیں مٹتے۔ دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ انصاف کے ساتھ کھڑی ہے یا طاقت کے ساتھ۔ کیونکہ تاریخ ہمیشہ خاموش تماشائیوں کو بھی یاد رکھتی ہے۔