سرکار کا سونا اور جاگنا
- تحریر خالد مسعود خان
- منگل 26 / مئ / 2026
گزشتہ سال سرکار نے 3900روپے فی من گندم خریدنے کا اعلان تو کر دیا لیکن جب فصل کٹی تو علم ہوا کہ 3900روپے فی من گندم کی خریداری کا اعلان کرنے والی حکومت پنجاب کے پاس اپنی دیگر گوناگوں مصروفیات کی بنا پر گندم کی خریداری جیسا عامیانہ کام کرنے کیلئے فرصت نہیں ہے۔
کاشتکار کا المیہ یہ ہے کہ نہ تو اُس کے پاس سٹوریج کا کوئی باقاعدہ انتظام ہے اور نہ ہی وہ اپنی فصل کو کھلے کھیت میں موسم کے حوالے کر سکتا ہے۔ سرکار نے جیسے ہی خریداری کے وعدے سے ہاتھ کھینچا‘ فلور ملز مالکان‘ آڑھتی‘ ذخیرہ اندوز اور انویسٹر میدانِ عمل میں کود پڑے۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے ’چوراں دے کپڑے تے ڈانگاں دے گز‘ یعنی کپڑا چوری شدہ ہو تو خریدے والا اس کی پیمائش اپنے خود ساختہ گزوں میں کرتا ہے۔ کھیت میں پڑی لاوارث گندم کی خریداری کیلئے مارکیٹ میں موجود لٹیرے خریداروں نے ایکا کر لیا۔ گندم کا ریٹ گر کر 2000روپے من تک آ گیا۔ سیزن کے اختتام پر حساب کیا تو معلوم ہوا کہ کاشتکار کو اپنی فصل پر اوسطاً 2200روپے من ملے۔ اس قیمت فروخت پر کاشتکار کی لاگت بھی پوری نہ ہوئی۔ یہ ان کاشتکاروں کی بات ہو رہی ہے جنہوں نے گندم اپنی زمین پر کاشت کی تھی جن کاشتکاروں نے زمین ٹھیکے پر لے کر گندم کاشت کی تھی اُن کا نقصان ناقابلِ برداشت تھا۔
گندم کے کاشتکار کے لٹنے پر حکومتی بزرجمہروں نے خوشخبری سنائی کہ گندم کی کم قیمت پر خریداری سے کاشتکار تو متاثر ہوا ہے لیکن سستی گندم کی خریداری کے مثبت اثرات سے پورا ملک فائدہ اٹھائے گا اور عوام کو سستا آٹا دستیاب ہوگا۔ ویسے تو یہ تبصرہ ہی نہایت دلدوز، نامعقول اور احمقانہ تھا تاہم تھوڑے ہی عرصے کے بعد یہ دعویٰ بھی ہوا ہو گیا۔ کاشتکار سے اونے پونے داموں خریدی گئی گندم ملز مالکان، آڑھتیوں‘ ذخیرہ اندوزوں اور سرمایہ کاروں کے گوداموں سے پسائی کیلئے نکلی تو اس کی قیمت چار ہزار روپے فی من کے لگ بھگ ہو گئی۔ یعنی کاشتکار سے دو ہزار روپے فی من خریدی گئی گندم چار ہزار روپے من اور اس سے تیار ہونے والا آٹا جب بازار میں آیا تب اس کی قیمت پانچ ہزار روپے فی من سے بھی زیادہ ہو چکی تھی۔ یعنی نہ کاشتکار کو اس کی محنت کا معاوضہ ملا اور نہ ہی عوام کو سستا آٹا میسر آیا۔ البتہ گندم کی ذخیرہ اندوزی کرنے والے لوگوں کو چند ہی ماہ میں لگ بھگ دو ہزار روپے فی من کا نفع ہو گیا۔
اس سال سرکار نے گندم کی خریداری وغیرہ سے اپنا پلہ صاف چھڑاتے ہوئے ایک نیا نظام وضع کیا۔ کیونکہ اب موجودہ حکومت ہر معاملے میں ہائبرڈ نظام کی دلی اور دماغی طور پر قائل ہو چکی ہے اس لیے انہوں نے ہر مسئلے کا حل ہائبرڈ نظام میں ڈھونڈ لیا ہے۔ ماضی کے برعکس پنجاب حکومت نے اس سال کاشتکار سے گندم خریدنے کا ٹنٹنا ہی سرے سے ختم کر دیا۔ پہلے صوبائی حکومت پنجاب فوڈ ڈپارٹمنٹ اور وفاقی حکومت پاسکو کے ذریعے گندم کی امدادی قیمت پر خریداری کیلئے مارکیٹ میں آ جاتی تھیں۔ سرکاری ادارے گو کہ ساری گندم نہیں خریدتے تھے تاہم سب سے بڑے خریدار ہونے کی وجہ سے مارکیٹ لیڈر ہوتے تھے اور ان کی جانب سے امدادی قیمت پر خریداری کی وجہ سے مارکیٹ میں گندم کی قیمت کسی حد تک مستحکم رہتی تھی۔ مقابلے کی فضا میں گندم کی خرید کا کم از کم ریٹ طے ہو جاتا تھا اور جب تک صوبائی اور وفاقی محکمے مارکیٹ میں موجود رہتے تھے ملز مالکان، آڑھتی،پرائیویٹ انویسٹر اور بیوپاری انکی پیروی کرنے پر مجبور تھے۔ گزشتہ سال اُن کو کھلی چھوٹ مل گئی اور گندم کی قیمت کو مارکیٹ میں مستحکم رکھنے والے میکانزم کی غیر موجودگی نے کاشتکاروں کا دھڑن تختہ کر دیا۔
یہ تو مختصراً گزشتہ سال کی واردات تھی اب ہم ذرا اس سال کا جائزہ لیتے ہیں۔اٹھارہویں ترمیم کو بہانہ بناتے ہوئے جس کے تحت زراعت اب وفاقی نہیں صوبائی معاملہ ہے حکومت نے پاسکو کا پکا بندوبست کرتے ہوئے بستر ہی لپیٹ دیا۔ باقی بچے ہوئے پنجاب فوڈ ڈپارٹمنٹ نے جو ملک بھر میں گندم کا سب سے بڑا خریدار ہوتا تھا‘ امسال خود گندم خریدنے کے بجائے 11 یا 12 پرائیویٹ پارٹیوں کو اس کام کا ٹھیکہ یا اجازت دے دی۔ ان پرائیویٹ پارٹیوں کو سہولت فراہم کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے فوڈ ڈپارٹمنٹ کے گندم ذخیرہ کرنے والے تمام گودام مفت الاٹ کر دیے۔ مزید برآں انہیں گندم کی خریداری کیلئے بار دانے کی مفت فراہمی جیسی سہولت بھی عطا کر دی۔ گزشتہ سال کی نسبت اس سال دیگر تمام اشیائے صرف کی طرح گندم کے پیداواری مداخل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا تھا لیکن حکومت نے جو اَب خود خریدار نہیں تھی، اپنے منتخب کردہ پرائیویٹ خریداروں کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے گندم کا ریٹ 3500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کر دیا جو پچھلے سال کی قیمت سے 400 روپے کم تھا۔
صورتحال یہ ہے کہ سندھ میں گندم کی اوسط پیداوار گزشتہ سال کی نسبت کچھ بہتر ہے، پنجاب میں بھی بالکل آخری دنوں میں جنوبی پنجاب میں ہونے والی تباہ کن ژالہ باری اور بارشوں میں گندم کی فصل کو کافی نقصان پہنچایا تاہم دیگر علاقوں میں بہتر اوسط پیداوار کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ گندم کی کل ملکی پیداوار میں بہت زیادہ کمی نہیں آئی۔ ابھی تک کل ملکی پیداوار کے حتمی اعدادو شمار سامنے نہیں آئے تاہم فصلات کے بارے میں بہتر علم رکھنے والے ایک دوست کا خیال ہے کہ امسال گندم کی پیداوار کم وبیش گزشتہ سال جتنی ہی ہوئی ہے۔
گزشتہ سال گندم کے کاشتکار کو سرکار نے بیچ منجھدار بے آسرا چھوڑ دیا۔ اس کسمپرسی کے عالم میں آڑھتیوں، انویسٹروں، ملز مالکان اور ذخیرہ اندوزوں نے پہلے کاشتکار کو اور بعد ازاں عوام کو جی بھر کر لوٹا۔ اس سال سرکار نے گندم کی قیمتِ خرید 3500 روپے فی چالیس کلو گرام مقرر کر دی۔ اندازہ لگائیں کہ گزشتہ صرف ایک سال میں پٹرول اور دیگر اشیائے صرف بشمول زرعی مداخل کے تقریباً ہر چیز کی قیمت دو گنا نہیں تو ڈیڑھ گنا بڑھ چکی ہے مگر سرکار نے گندم کی قیمت گزشتہ سال کی نسبت دس فیصد کم مقرر کر دی۔ بارہ تیرہ ارب روپے جہازپر خرچ کئے جاسکتے ہیں مگرایسے معاملات میں بچت یاد آجاتی ہے۔
اس سال ان چنیدہ بااختیار کمپنیوں کو گندم کے کاشتکار کے استحصال کا سرکاری اجازت نامہ عطا کرتے ہوئے گندم کے کاشتکاروں پر چھوڑ دیا گیا۔ تاہم ان سرکاری مقرر کردہ پرائیویٹ کمپنیوں کے متحرک ہونے سے پہلے ہی فریق ثانی یعنی آڑھتی، ملز مالکان، انویسٹرز اور گندم ذخیرہ کرنے والے جیب میں نوٹ ڈال کر مارکیٹ میں آگئے اور گندم کا مارکیٹ ریٹ سرکاری ریٹ سے اوپر چلا گیا۔ اس مافیا کے میدان میں آنے اور گندم خریدنے میں سبقت لے جانے کے کئی دوررس منفی نتائج کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے تاہم اس سے کم از کم کاشتکار کو تو چار پیسے زیادہ مل رہے تھے۔ اپنے نامعقول مقرر کردہ ریٹ پر خریداری میں ناکامی پر مارکیٹ بیسڈ اکانومی کی دعویدار سرکار کے پیٹ میں اپنی مقرر کردہ پرائیویٹ کمپنیوں کے درد کا مروڑ اٹھنا شروع ہو گیا اور اس نے کاشتکار سے زیادہ قیمت میں خرید کردہ گندم کی پکڑ دھکڑ کرتے ہوئے اس کی نقل وحمل کرنے والے ٹرکوں کو پکڑنا اور ایسی خرید کردہ گندم کے گوداموں پر چھاپے مارنے شروع کر دیے۔
گزشتہ سال جب یہی مافیا کاشتکار کی گندم 3900 کے بجائے 2200 روپے میں خرید کر لُوٹ رہا تھا سرکار سب کچھ دیکھ کر خوش اور مطمئن تھی۔ اب جب کاشتکار کو گندم کا ریٹ 3500 کے بجائے 3800 ملنا شروع ہوا تو سرکار متحرک ہو گئی۔ المیہ یہ ہے کہ جاگنے کا وقت ہو تو سرکار سو جاتی ہے اور سونے کے وقت پر بلاوجہ جاگ پڑتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)