دو نکات پر اٹکا ہوا امریکہ اور ایران کا معاملہ
- تحریر نصرت جاوید
- منگل 26 / مئ / 2026
ہفتے کی صبح ایک ذاتی مگر جذباتی معاملے کی وجہ سے دن کے کئی گھنٹے چلچلاتی دھوپ کی شدت کو نظرانداز کرتے ہوئے بھاگ دوڑ کرنا پڑی۔ مسئلہ حل نہ ہوا تو جی مزید پریشان ہوگیا۔مضمحل ہوا بستر پر لیٹا تو جسم بخار سے جلتا محسوس ہوا۔
اتوار کی صبح یہ کالم لکھ کر ہفتے کے آغاز کی عادت سے بازرکھا۔ پیر کی صبح کالم نہ چھپنے کی وجہ سے دیرینہ مہربانوں سے لہٰذا نہایت عاجزی کے ساتھ معافی کا طلب گار ہوں۔ کالم نہ لکھنے کے باوجود کئی دنوں سے سوچ رہاہوں کہ مارچ کے آغاز میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ ہونے کے دن سے مجھ جیسے بے ہنر قلم گھسیٹ عالمی اخبارات میں ’’ذرائع‘‘ کی بنیاد پر چھپی چند خبروں کی بنیاد پر عالمی امور کے ماہر ہوئے ایران اور امریکہ جنگ کے بارے میں رواں تبصرہ نگاری میں مصروف ہیں۔ پاکستان نے یہ جنگ بند کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جنگ بندی کے بعد دیرپاامن کی تلاش شروع ہوئی۔ اس تناظر میں بھی ہماری قیادت نے اہم ترین کردار ادا کیا۔ عمر تمام صحافت کی نذر کردینے کی بدولت نہایت اعتماد سے لیکن یہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ پاکستانی صحافیوں میں سے غالباً ایک فرد کوبھی دیرپاامن کی خاطر ہوئے مذاکرات کے حوالے سے لمحہ بہ لمحہ اور ٹھوس پیشرفت کے بارے میں آگہی میسر نہیں ہے۔ آگہی کا میسر نہ ہونا اس حقیقت کا ٹھوس اظہار ہے کہ فریقین کو لچک دکھانے کو مائل کرنے والی کوششوں کی تفصیلات پاکستان کے چند اہم ترین فیصلہ سازوں کے پاس امانت کی طرح محفوظ ہیں۔
امریکہ اور ایران کے چند صحافی مگر ’’ذرائع‘‘ کے حوالے سے خود کو ہر لمحہ کے بارے میں باخبر ثابت کرنا چاہ رہے ہیں۔ اپنی پسند کے بیانیے کی ترویج کے لئے صدر ٹرمپ بذاتِ خود صحافیوں کے ایک مخصوص گروپ کو صبح اٹھتے ہی فون کردیتے ہیں۔ نیویارک پوسٹ کی کیٹلن ڈورنبوس اور ایگزی اوس نامی خبررساں ایجنسی کا نمائندہ بارک راود اس تناظر میں موصوف کے پسندیدہ ہیں۔ ٹرمپ کے ساتھ براہِ راست ہوئی گفتگو کے نتیجے میں لکھی خبروں اور تبصروں کو دنیا بھر کے صحافی سنجیدگی سے لینے کو مجبور ہیں۔ ان دو صحافیوں سے گفتگو کے علاوہ ٹرمپ کو سوشل میڈیا پر بھی طویل پیغامات لکھنے کی عادت ہے۔ اس کی جانب سے لکھے الفاظ کوآپ نظرانداز نہیں کرسکتے۔ واشنگٹن سے براہِ راست صدر ٹرمپ کے حوالے سے ایران-امریکہ تنازعہ کے حوالے سے ہوئی گفتگو ہم سب کو کئی ہفتوں سے قیاس آرائیوں کی ٹامک ٹوئیاں مارنے کو مجبورکررہی ہے۔
امریکہ کے علاوہ ایران میں بھی طاقت واختیار کے مختلف مراکز کے قریب تصور ہوتی ہوئی کئی ایجنسیاں ہیں۔ ان میں سے ’’تسنیم‘‘ نامی خبررساں ادارہ پاسدارانِ انقلاب کا ترجمان تصور ہوتا ہے۔ وہاں سے جاری ہوئی خبریں واشنگٹن سے آئی اطلاعات کے قطعاً برعکس ہوتی ہیں۔ ہفتے کی رات بالآخر یہ امید نمودار ہوئی کہ پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کے دوروزہ دورہ امریکہ کے بعد فریقین دیرپاامن کی جانب بڑھنے کے لئے چند کلیدی نکات پر عمل پیرائی کرتے ہوئے مزید آگے بڑھنے کو آمادہ ہوگئے ہیں۔ فریقین کو مثبت سمت کی جانب بڑھنے کو جس انداز میں پاکستانی قیادت نے مائل کیا اس کے بارے میں ہمارے سرکاری اور غیر سرکاری میڈیا نے روایتی ہی نہیں سوشل میڈیا پر بھی مشہور ہوئے ڈھونڈورچیوں کے ذریعے کریڈٹ لینے سے گریز کیا۔ ’’جو میرا فرض تھا میں نے پورا کیا‘‘ والی بردباری اختیار کئے رکھی۔ پیر کی صبح اٹھا ہوں تو معاملات مگر وہیں پر اٹکے ہوئے تھے جہاں ہفتے کی شام امن کی نوید نمودار ہونے سے قبل رْکے ہوئے تھے۔ اہم ترین حقیقت آبنائے ہرمز کی بندش ہے۔
دنیا کو تیل ،گیس اور کیمیائی کھاد کا 25فی صد فراہم کرنے والی یہ آبنائے ہرمز اب ایران کے کامل کنٹرول میں ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی اجازت کے بغیر کوئی تیل بردار جہاز وہاں سے گزرنہیں سکتا۔ شنید ہے کہ وہاں سے گزرنے کی اجازت دیتے ہوئے ایرانی حکام ’’ٹول ٹیکس‘‘ نما فیس بھی طلب کرتے ہیں۔ آپ یہ رقم امریکی ڈالروں میں ادا نہ کرپائیں تو چینی کرنسی کے علاوہ میرے اور آپ جیسے کم عقلوں کی عقل سے بالاتر کرپٹو نامی کرنسی میں ادائیگی بھی راہداری فراہم کردیتی ہے۔
خلیجی ممالک سے نکالے تیل اور گیس کی آبنائے ہرمز سے ترسیل کو ممکن بنانے کے باوجود پاسداران انقلاب امریکی بحری بیڑوں کی وجہ سے ہوئی ناکہ بندی کے نتیجے میں اپنی بندرگاہوں سے جانے اور وہاں آنے والے مال بردار جہازوں کی نقل وحرکت یقینی نہیں بناسکتے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کا کامل کنٹرول اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکہ کے بحری بیڑوں کی وجہ سے ناکہ بندی دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں کو ناقابل برداشت بنائے ہوئے ہے۔ مسلسل بے یقینی لہٰذا برقرار ہے۔
امریکہ اور ایران مگر آپ کو مایوس نہیں ہونے دے رہے۔ اس امید کو زندہ رکھے ہوئے ہیں کہ ان کے مابین ہوئی جنگ بندی برقرار رہے گی۔ پاکستانی فیلڈ مارشل کی ذاتی مداخلت سے دیرپاامن کی تلاش کی خاطر جس معاہدے کے بنیادی خدوخال طے ہوئے ،اس کے حصول کے لئے مذاکرات کا ایک طویل دور ہوگا۔ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے قبل مگر ہر فریق اپنے لئے کچھ ایسی رعایتیں طلب کرنے کو بے تاب ہے جو دنیا سے زیادہ اس کے اپنے عوام کو یہ تاثر دیں کہ وہ ’’کمزور پتوں‘‘ کے ساتھ دوسرے فریق سے گفتگو نہیں کررہا۔ امریکہ کی خواہش ہے کہ آبنائے ہرمز بحری تجارت کے لئے فی الفور کھول دی جائے۔ ایران اس کے لئے رضا مند نہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ مارچ میں ایران پر حملہ ہونے سے قبل آبنائے ہرمز بڑی تجارت کے لئے کھلی تھی۔ امریکہ اور اسرائیل نے اس پر جنگ مسلط کی تب ہی بھرپور مزاحمت کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول قائم کرلیا۔ آبنائے ہرمز پر کنٹرول گویا اس نے جنگ کے دوران دکھائی مزاحمت کی وجہ سے حاصل کیا ہے۔ اسے اب یہاں سے گزرنے والی تجارت پر راہداری وصول کرنے کا حق میسر ہوچکا ہے۔
امریکہ اگر یہ حق تسلیم کرلے تو خلیجی ممالک اس سے بحرہند کے ذریعے جنوبی اور مشرقی ایشیا کے بے تحاشہ ممالک جانے والے تیل اور گیس کے نظام ترسیل پر ایران کا ’’اجارہ‘‘ ثابت ہوجائے گا۔ خلیجی ممالک اس تناظر میں ایران کے مغوی ہوئے نظر آئیں گے۔ مارچ 2026سے قبل دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کا دعوے دار امریکہ خلیجی ممالک سے بھیجے تیل کی ترسیل کے نظام کا یک وتنہا ضامن تھا۔ اسی باعث بحرین وقطر میں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم ہوئے تھے۔ خلیجی ممالک کے دفاع کو یقینی بنانے کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے گزشتہ کئی دہائیوں سے اربوں ڈالر کا جدید ترین اسلحہ بھی خریدا جارہا ہے جو اب کام آتا نظر نہیں آرہا۔
آبنائے ہرمز کو کھلا چھوڑنے کے لئے ایران امریکہ سے تاوان کا طلب گار ہے۔ اس کے ساتھ ہی مطالبہ یہ بھی ہے کہ اس کی بندرگاہوں کے گردکھڑا کیا امریکی نیوی کا حصار ختم کیا جائے۔ معاملہ بنیادی طورپر ان دونکات پر اٹکا ہوا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی انتہا پسند لابیوں کو مطمئن رکھنے کے لئے اگرچہ تاثر یہ پھیلاجارہا ہے کہ ٹرمپ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے قبل اس امر کو یقینی بنانا چاہ رہے ہیں کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو فوجی استعمال کے لئے ناکارہ بنادے گا۔ اس تناظر میں لچک نہ دکھانے کے ڈرامے رچائے جارہے ہیں۔ ٹھوس حقائق کا تقاضہ ہے کہ امریکہ اور ایران جلد از جلد مذاکرات کے لئے میز پر بیٹھیں۔ آبنائے ہرمز کھلے، ایران کی بحری ناکہ بندی ختم ہو اور یہ سب کچھ ہوجانے کے بعد ایران کے نیوکلیئر پروگرام سمیت ایران کے ساتھ دیگر مسائل کے حل کے لئے مذاکرات کا طویل دور جاری رہے۔
ان بنیادی نکات نے کیسے حل ہونا ہے اس کی تفصیلات کی مجھ گوشہ نشین اور عملی صحافت سے عرصہ ہوا ریٹائر ہوئے صحافی ہی کو نہیں، ان پھنے خان صحافیوں کو بھی کچھ خبر نہیں جنہیں روزانہ کی بنیاد پر صبح اٹھتے ہی امریکی صدر ٹرمپ ازخود فون کرتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)