سلگتے ارمان اپنے بھی تو ہیں

غیروں کے لیے کاوشیں بجا اور ان میں ہم نے خوب کردار نبھایا۔ ان کاوشوں کے لیے داد ملی اور سمیٹی گئی۔ ہم پھولے نہیں سمائے اور ظاہر ہے اُس کی وجہ بھی تھی۔ لیکن ان کاموں میں توانائیاں اتنی صرف ہوئیں کہ ذہن سے یہ خیال قدرے اوجھل ہو گیا کہ ارمان اپنے بھی تو ہیں۔

اوروں کے غمگسار تو ہوئے ہمارا بھی توکوئی چارہ ساز ہوتا۔ یہ مسئلہ کیا ہے اور اس کا حل کیا ہے کہ شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں لاکھ کوششوں کے باوجود شدت پسندی تھم نہیں رہی۔ اور جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں بھی کیفیت ویسی ہی ہے۔ وہاں بھی گڑبڑ جاری ہے۔ واقفانِ حال جانتے ہیں کہ صورتِ حال وہاں اچھی نہیں۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے ریل کا ایک ہی راستہ ہے جو باقی ملک سے ملتا ہے۔ مشکل پہاڑی اور زمینی راستے سے اس ریل کی گزرگاہ ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس کی حفاظت اتنی آسان نہیں۔ ایک بڑا واقعہ تو وہ ہوا جب گزشتہ برس ٹرین کو یرغمال بنا لیا گیا اور اب یہ دوسرا بڑا واقعہ ہوا ہے کہ دھماکا خیز مواد سے لدی گاڑی نے ایک شٹل ٹرین کو نشانہ بنایا جس سے بھاری جانی نقصان ہوا۔ بات صرف اس ریل کی نہیں پورے صوبے کی ہےجو کب سے شورش زدہ چلا آ رہا ہے اور گو قوم کو یقین دلایا جاتا ہے کہ اطلاعات پر مبنی کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف ہو رہی ہیں۔ بلوچستا ن کا کچھ جغرافیہ ہی ایسا ہے کہ حالات پر کنٹرول نہیں ہو رہا۔ تفصیلات میں کیا جانا کہ وہاں حملہ ہوا فلاں مقام حملوں کا نشانہ بنا، بڑی تصویر تو واضح ہے کہ صوبے کے حالات اچھے نہیں۔

دونوں محاذوں پر شمال اور جنوب، تواتر سے کارروائیاں جاری ہیں۔ جوان کیا اور افسر کیا،قومی مقاصد کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ اُن کی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی لیکن شورش کے واقعات تھمنے میں نہیں آ رہے۔ جہاں ریاستِ پاکستان بہت بڑی بڑی کاوشوں میں مصروف ہے وہاں یہ امر بھی ضروری دکھائی دیتا ہے کہ داخلی محاذ پر بھی کچھ نظر جمائی جائے۔ سرکارِ امریکہ میں بے شک پاکستان کی پذیرائی ہو رہی ہے اور گو ایسی پذیرائی قومی اعزاز ہے۔ جو اس دھرتی کے باسی ہیں اُن کے اپنے مسائل ہیں۔ اور یہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ گھر کے حالات ٹھیک ہوں تبھی کسی قوم کی بات بنتی ہے۔

کوئی سادھو یا مہاتما ایسا نہیں کہ فوراً سے بتا سکے کہ ان داخلی مسائل کا حل کیا ہے۔ کوئی فہرست نہیں ہے جو جلد سے پڑھی جائے اور نعرہ لگے کہ یہ ہے فارمولا قوم کی نجات کے لیے۔ پھر بھی اتنا یاد تو پڑتا ہے کہ کچھ سال پہلے گو دیگر مسائل بہت تھے، یہ پختون اور بلوچ دہشت گردی والا معاملہ یا تو سرے سے تھا نہیں۔ اور اگر تھا بھی تو اس نے اتنی شدت اختیار نہیں کی تھی۔ جس بیماری کو رجیم چینج کا نام دیا جاتا ہے، اس سے پہلے خیبر پختونخوا میں کون سے حملے ہو رہے تھے؟ بلوچستان میں ہمیں پتا ہے بلوچ لبریشن آرمی نام سے ایک تنظیم تھی اور مجید بریگیڈ کا بھی سننے میں آتا تھا لیکن ٹرین پر حملے یا دیگر قسم کی منظم کارروائیاں، ان کا تو اتنا ذکر نہیں ہوتا تھا۔ حافظے پر زور دیا جائے تو پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتیں خاصی کم تھیں، انڈسٹری چل رہی تھی اور زرعی شعبے کی حالت خاصی اچھی تھی۔

 ایسی باتیں کر کے مقصد اشتعال دلانا نہیں۔ مزاج اتنے نازک ہو گئے ہیں کہ تھوڑی سی بات بھی ناگوار گزرے تو مزاج بدل جاتے ہیں۔ کہنا صرف اتنا ہے کہ یہاں کوئی انقلابِ روس نہیں آ گیا تھا، کسی چینی انقلاب کا لانگ مارچ نہیں ہوا لیکن تمام کمزوریوں کے باوجود قومی سطح پر اتنا اضطراب نہیں پایا جاتا تھا۔ سیاسی ماحول بھی خاصا کھلا تھا،  ٹی وی سکرین پر محض بحثیں نہیں تُو تکرار بھی چلتا تھا۔ بیان بازی ہوتی تھی،  تب کے حکمرانوں کو برا بھلا کہا جاتا تھا۔ یہ نہیں کہ لوگ اٹھائے نہیں جاتے تھے یا حکومتی زیادتی نہیں ہوتی تھی لیکن عدالتوں میں کچھ دم خم تھا اور جہاں حکومتی زیادتی ہوتی وہاں عدالتوں سے ریلیف بھی مل جاتا تھا۔ تمام تر کمزوریوں کے باوجود ایک ماحول قائم تھا اور چل رہا تھا۔ آج تک یہ تحقیق مکمل نہیں ہو سکی کہ کیا مصیبت پڑی تھی کہ رجیم چینج کے گھوڑوں کو دوڑ میں لگا دیا گیا۔

جو ہوا سو ہوا،  پرانے زخموں کو کریدنے سے کیا حاصل۔ جس انداز سے انتخابات کرائے گئے اور نتائج مرتب ہوئے اور اُن نتائج کی روشنی میں جو حکومتی بندوبست ترتیب دیا گیا یہ باتیں اتنی بارکہی جا چکی ہیں کہ ان کے مزید ذکر سے دل اُکتا سا جاتا ہے۔ بہرحال موازنہ تو کیا جا سکتا ہے کہ شورش کے لحاظ سے حالات پہلے کیا تھے اور آج کیا ہیں۔ ایسے موازنے کا فائدہ یہ کہ آئندہ کے لیے کچھ سوچ ترتیب دی جا سکتی ہے اور کچھ لائحہ عمل بن سکتا ہے۔ ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے بیٹھے رہنا اور یہ کہنا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔معاشی حالت ایسی ہے کہ تنکوں کے سہارے پر قائم ہے۔ قرضوں اور سود کی ادائیگیاں اتنی ہیں کہ مزید قرضہ جات کے بغیر ادائیگیاں ممکن نہ رہیں۔ انڈسٹری کا بھٹہ بیٹھا ہوا ہے،ایکسپورٹس ہماری جتنی ہیں سب کو پتا ہے۔ زمانہ وہ بھی تھا جب فکر صرف بیرونی قرضوں کی ہوتی تھی۔ آج صورت حال یہ ہے کہ پاور سیکٹر اور گیس کی مد میں اندرونی قرضہ جسے گردشی قرضہ کہا جاتا ہے، اتنا بڑھ چکا ہے کہ معیشت میں سکت نہیں ان واجبات کو پورا کرنے کی۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ 2013سے لے کر 2018  تک جن حاکموں کی وجہ سے یہ سرکلر قرضوں کی صورتحال پیدا ہوئی ،آج وہی پرانے حاکم پھر سے قوم کی تقدیر پر بیٹھے ہیں۔ یعنی جن کے سبب بجلی اور گیس کے حوالے سے قوم بیمار ہوئی وہی آج دوا ساز بنے ہوئے ہیں۔

پاکستان کسی مسلح جدوجہد یا انقلاب کی وجہ سے معرضِ وجود میں نہیں آیا۔ برطانوی راج کے زیرسایہ ایک جمہوری جدوجہد کی بدولت آزادی اور خود مختاری کا ثمر نصیب ہوا۔ یہاں کوئی چینی کمیونسٹ پارٹی طرز کی حکومت نہیں چل سکتی کیونکہ ہمارا سیاسی اور تاریخی تجربہ مختلف رہا ہے۔ لے دے کے یہاں جمہوریت نے ہی چلنا ہے۔ اور جمہوریت کی ہزار ہا کمزوریوں میں ایک بات اچھی ہے کہ عوام کو حکمران بدلنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ ایک جمہوری ملک میں جمہوریت کے تمام دروازے بند کر دیے جائیں تو وہاں ساری قومی حرارت بند ہو جاتی ہے۔ خون ایک ہی جگہ جم کے رہ جاتا ہے۔ قوم کے معاملات جمود کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ نئے خیالات کے راستے بند ہو جاتے ہیں۔ پھر جو چالیس پینتالیس سال پرانے سیاسی طبیب یا کھلاڑی ہوں اُنہی پہ تکیہ کرنا پڑتا ہے۔ یعنی جو کل کے ناکام ٹھہرے ہوں اُنہی پر تکیہ کرنا پڑتا ہے۔ پھر بحث چھڑ جاتی ہے کہ پاکستان اپنے مسائل کیوں نہیں حل کر سکتا۔

بہرحال یہاں پہ کس نے کسی کی سننی ہے۔ یہی چلتا رہے گا اور پرانے نسخے جن سے پہلے کچھ حاصل نہیں ہوا، وہی آزمائے جاتے رہیں گے۔ پھر دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ حالات میں کچھ بہتری آئے،بیرونی کاوشوں کے ساتھ ساتھ کچھ گھر کے معاملات پر بھی توجہ دی جائے۔ کچھ تو ہو جس سے حالات کا مداوا ہو۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)