قرضے نہیں سرمایہ کاری اور مہارت
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- جمعرات 28 / مئ / 2026
پاک چین دوستی کے 75سال مکمل ہونے کے موقع پر چین میں منعقدہ ایک تقریب سے وزیراعظم شہبازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو قرضے نہیں بلکہ سرمایہ کاری اور مہارت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بہت پیاری بات کہی ہے۔
اس وقت پاکستان کا مجموعی قرضہ 80ہزار 6سو ہزار روپے یعنی 80.6ٹریلین روپے پر مشتمل ہے جس میں 54.5ٹریلین اندرونی/ ملکی اور 26.1ٹریلین بیرونی/ غیر ملکی قرضے پر مشتمل ہے۔ ان روپوں کو ڈالرز میں دیکھیں تو یہ 286.8ارب ڈالر بنتے ہیں جس میں تقریباً 96ارب ڈالر غیر ملکی اور 192ارب ڈالر ملکی قرض شامل ہیں۔ قرض کا اتنا حجم بہت زیادہ ہے اور یہ ہماری خام قومی آمدنی کے 70فیصد کے برابر ہے۔ قرض اور خام قومی آمدنی کی 70فیصد شرح انتہائی بلند تصور کی جاتی ہے اور پھر ایک ایسے ملک کے لئے جس کی معاشی شرح نو 2یا 3فیصد کے برابر ہو جس کی برآمدات اس کی درآمدات سے کم ہوں، زرمبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کے برابر ہوں ، زرمبادلہ کے کم از کم ذخائر بھی ادھار پر چل رہے ہوں تو اس ملک کی معیشت کے بارے میں دوسری رائے قائم نہیں کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہماری معیشت اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ اس میں عالمی قرضے چکانے کی سکت بھی نہیں رہی ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔ قرضے اور ان سے جڑے معاملات چلانے کے لئے ہمیں مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
پاکستان میں مزدوروں و کام کرنے والوں کی تعداد 83.1ملین ہے۔5.9ملین کے قریب افراد بے روزگار ہیں مصروف معاشی ماہر و سابق وزیرخزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق جاری حالات میں معاملات درست سمت میں رکھنے کے لئے ہر سال 15لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔ وگرنہ بے روزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے سرمایہ کاری، ملکی و غیر ملکی دونوں ضروری ہیں سرمایہ کاری صنعتی تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ تعمیراتی وفنی پراجیکٹس کی بنیاد بنتی ہے۔ روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ لوگوں کی آمدنیوں میں اضافہ ہوتا ہے، سرکار کی ٹیکس وصولیاں بڑھتی ہیں لوگوں کی آمدنیوں میں اضافہ ان کی اشیا و خدمات کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے جسے پورا کرنے کے لئے پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہوتا ہے ۔اس طرح معیشت میں کھلے پن کا اجراءہوتا ہے۔ ترقی ہوتی ہے ۔
شہبازشریف نے بالکل درست کہا ہے کہ پاکستان کو قرض نہیں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ معاشی تعمیر و ترقی کے لئے سرمایہ کاری ضروری ہوتی ہے لیکن سرمایہ کاری وہاں ہوتی ہے، سرمایہ کار وہاں آتے ہیں جہاں دیگر عوامل سازگار ہوں۔ سرمایہ کار دیکھتے ہیں کہ ہمارا سرمایہ کہاں محفوظ ہوگا؟ منافع کی شرح کہاں بہتر ہوگی اور سب سے اہم سرمایہ آسانی کے ساتھ کہاں سے نکالاجا سکتا ہے؟ یہ تین عوامل فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں معاملات بہتر نہیں ہیں۔ ہمارے اپنے سرمایہ دار یہاں سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔جرمنی، بنگلہ دیش ان کی پسندیدہ جگہیں رہی ہیں۔ اربوں ڈالر یواے ای جاچکے ہیں۔ایسا ہی کچھ بنگلہ دیش میں ہوا ہے۔ہمارے سرمایہ کاروں نے یہاں پاکستان میں سرمایہ کاری کو ترجیح نہیں دی۔ ایسے ہی حالات واقعات کو دیکھتے ہوئے سپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل تشکیل دی گئی اس کا ذکر بھی بڑا کیا گیا لیکن نتیجہ کیا نکلا، ہمیں توکچھ پتہ نہیں۔ ہم نے سی پیک کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا کہ وہ ہماری معیشت کے لئے گیم چینجر ہوگا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور مہنگائی پر اظہار تشویش،فوری تدارک کی سفارش ،یہ خبر کیا ظاہر کرتی ہے۔ بے روزگاری بڑھنے کا مطلب ہے۔ سرمایہ کاری نہیں ہو رہی ہے، معاشی نمو نہیں ہے،صنعتیں قائم نہیں ہو رہی ہیں، موجودہ صنعتیں بھی مطلوبہ رفتار سے کام نہیں کررہی ہیں، سرمایہ کاری کا ماحول نہیں ہے۔
توانائی بشمول بجلی، گیس،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کسی بھی مثبت معاشی و سماجی سرگرمی کو سپورٹ نہیں کرتی ہیں۔ حکومت، جو ایک مستقل عامل ہے اس مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرر ہی ہے۔حکومت نے ایران۔ امریکہ و اسرائیل جنگ میں تیل کی قیمتوں میں 30فیصد تک اضافہ کیا جو قطعاً درست نہیں۔ پٹرول کے ایک لٹر میں 197روپے کی لیوی شامل ہے جو عوام سے وصول کی جا رہی ہے حکومت اس مد میں 1400ارب روپے اکٹھے کر چکی ہے۔ ایک طرف روزگار کے مواقع ناپید ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، آمدنیاں قلیل ہیں ۔دوسری طرف جائز ناجائز ٹیکسوں کی بھرمار کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کے رویوں نے معاملات کو گمبھیر بنا دیا ہے۔ بے روزگار نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نہ صرف ملکی معیشت کے لئے بلکہ معاشرت کے لئے بھی خطرناک اور خوفناک ہے۔
سرمایہ کاری کی صورت حال بھی مخدوش ہے۔ توانائی کے شعبے کے گمبھیر مسائل نے پیداواری عمل کو بھی نہیں بلکہ عام شہری کو بھی عملاً مستقل عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بے روزگار نوجوانوں کوہنر سے آراستہ کرکے بہتری کی ابتدا کی جا سکتی ہے۔ ہمارے ہاں علوم و فنون کی جو صورت حال ہے وہ پست حالت میں ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں جو سالانہ بنیادوں پر گریجویٹس تیار ہو رہے ہیں ان میں 80فیصد سے زائد کسی جاب مارکیٹ میں کھپنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، ان کے پاس ڈگری تو ہے لیکن مہارت اور صلاحیت نہیں ہے مارکیٹ اب آئی ٹی سے آگے مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ ہم ٹک ٹاک بنانے میں مہارت حاصل کررہے ہیں ہم کمپیوٹر آپریٹرز تیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں فری لانسنگ کوبھی اعلیٰ فنی تربیت تصور کر لیا جاتا ہے۔ ہماری فنی تربیت کے فروغ کے حوالے سے کوئی وسیع النظر پالیسی نہیں ہے۔ خط غربت سے نیچے زندگیاں گزارنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)