ایران امریکہ جنگ بندی: خوش ہونا منع ہے

جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، ایران پر مزید معاشی پابندیوں کے اعلان اور ایک دوسرے کی نیت پر شبہات کے اظہار کے باوجود کہا جارہا ہے کہ ایران اور امریکہ میں  60 روزہ جنگ بندی کے ایک ایسے معاہدے  پر اتفاق ہوگیا ہے جس کے نافذ ہونے کے بعد فریقین حتمی امن معاہدہ کے لیے بات چیت شروع کریں گے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان اتفاق رائے کے بارے میں خبریں  روئیٹرز، اے ایف پی، الجزیرہ اور  امریکی نیوز ویب سائٹ اینگیوز نے بیک وقت دی ہیں۔ خبروں کے مطابق  وائٹ ہاؤس نے اس عبوری افہام و تفہیم پر مشتمل معاہدے کی تصدیق کردی ہے لیکن صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس پر دستخط نہیں کیے۔ البتہ بعض امریکی ذرائع نے میڈیا کو بتایا ہے کہ   مذاکرات میں شامل ایرانی ذرائع نے یقین دہانی کرائی ہے کہ عبوی معاہدے کے مسودے پر دستخط کرنے کے لیے اعلیٰ ایرانی قیادت سے منظوری حاصل کرلی گئی ہے۔ تاہم تہران سے سرکاری طور سے اس بارے میں  تصدیق نہیں کی گئی۔ البتہ ایرانی پارلیمانی سکیورٹی  و امور خارجہ کمیشن کے رکن فادا حسین مالکی نے تھوڑی دیر پہلے کہا تھا کہ معاہدہ کی طرف اہم پیشرفت ہوئی ہے لیکن صدر ٹرمپ کے رویہ کی وجہ سے بے یقینی موجود ہے جو ہر لحظہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ مالکی کا کہنا تھا کہ اس معاہدے میں ایران کی تمام اہم شرائط مان لی گئی ہیں۔

دوسری طر ف ا مریکی ذرائع نے  ساٹھ روزہ جنگ بندی کے معاہدے کے بارے میں  میڈیا کو کچھ تفصیلات بتائی ہیں۔ ان میں  واضح کیا گیا ہے کہ  ایران نے امریکا سے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کی حامی بھرلی ہے۔ واضح رہے کہ ایران مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ موجودہ مذاکرات صرف جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے کے بارے میں ہیں ، ان میں ایٹمی ہتھیاروں کا معاملہ شامل نہیں ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ ایسا معاہدہ ہے جس کا مقصد فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔تفصیلات بات چیت کے دوران طے کی جائیں گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی عہدیدار کا مزید کہنا ہے کہ 60 روزہ مفاہمتی معاہدے میں آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کی شق شامل ہوگی جس کے تحت آبنائے ہرمز میں نہ ٹول ٹیکس ہوگا اور نہ ہی جہازوں کو ہراساں کیا جائے گا۔ ایران کو 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز سے تمام بارودی سرنگیں ہٹانا ہوں گی۔ امریکی بحری ناکہ بندی  ختم کردی جائے گی۔ امریکی عہدیدار کے مطابق ایم او یو میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عہد بھی شامل ہوگا۔  تاہم  ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کو ٹھکانے لگانے اور یورینیم افزودگی کے معاملے پر بات چیت میں معاملات طے کیے جائیں گے ۔

امریکی ویب سائٹ  نے بتایا ہے کہ مذاکرات کے دوران ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی پر بھی گفتگو ہوگی۔ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران کو اپنی معیشت کو پابندیوں سے آزاد کرنے کا ایک موقع مل رہا ہے۔ واضح رہے امریکہ اور ایران اس بارے میں متضاددعوے کرتے رہے ہیں۔  ایرانی ذرائع کہتے رہے ہیں کہ جنگ بندی کے  ساتھ ہی ایران پر معاشی پابندیوں میں نرمی کی جائے گی اور اس کے منجمد اثاثوں کا کچھ حصہ ریلیز کیا جائے گا۔ البتہ  واشنگٹن سے سامنے آنے والی معلومات  سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی بلاکیڈ ختم ہونے سے ایرانی تیل کی برآمد میں آسانی پیدا ہوجائے گی جسے  شاید تہران میں  معاشی پابندیاں اٹھانے سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ ورنہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج کابینہ کے اجلاس کے دوران معاہدہ کی امید برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ’ہم اس وقت پابندیوں میں نرمی یا پیسے دینے پر بات چیت نہیں کر رہے۔ نہ پابندیاں ہٹ رہی ہیں اور نہ پیسے دیے جا رہے ہیں۔ہمارے پاس اس پیسے کا کنٹرول ہے جسے ایران اپنا کہتا ہے۔ جب تک وہ درست برتاؤ نہیں کرتے ،ہم اس پیسے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھیں گے۔ جب وہ درست برتاؤ کریں گے تو ہم انہیں ان کے پیسے تک رسائی دے دیں گے۔ لیکن ہم فی الحال ایسا نہیں کر رہے‘۔

اسی طرح امریکہ کی طرف سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ نہ تو ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت ہوگی اور نہ  ہی اسے آبنائے ہرمز پر دسترس  دی جائے گی۔  آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلی ہوگی اور کسی جہاز پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس  ایران،  امریکی یا اسرائیلی جہازوں کے لیے اس آبی گزرگاہ کو بند رکھنا چاہتا ہے، دوسرے وہ سروس چارجز کے نام سے کچھ فیس وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے وصول کرنا چاہتا ہے۔  البتہ امریکی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں  صدر ٹرمپ نے اس قدر سخت رویہ اختیار کیا کہ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ عمان یا تو سب کی طرح سوچے گا اور مشترکہ فیصلے کا حصہ ہوگا یا ہم   اسے بھی تباہ کردیں گے۔   جنگ بندی پر اتفاق رائے کے دوران اس قسم کے تند و تیز تبصروں سے اندیشہ ہوتا ہے کہ  ایران اور امریکہ میں باہمی عدم اعتماد کی وجہ سے طے شدہ معاملات پر بھی آخری مرحلے میں بازی  پلٹ سکتی ہے۔ اس سے پہلے بھی دو مواقع پر ایسا ہوچکا ہے۔

امریکی عہدیدار کے مطابق ابتدائی یاد داشت میں  ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی سائیڈ ڈیلز یا خفیہ شقیں شامل نہیں ہوں  گی۔  اس سے بھی یہی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ  امریکہ کے ساتھ معاملات طے کرنے اور ایران کو معاشی پابندیوں اور جنگ کے خطرے سے بچانے کے لیے ایران کو جلد از جلد امریکہ کے ساتھ سنجیدہ اور ٹھوس مذاکرات کا آغاز کرنا پڑے گا اور کچھ مشکل رعایات دینا پڑیں گی۔ دریں اثنا یہ واضح ہورہا ہے کہ ایران اور امریکہ کسی نہ کسی قسم کے معاہدے پر اتفاق چاہتے ہیں لیکن دونوں ملکوں کے لیڈروں نے اپنے لوگوں کو حقیقی  مذاکرات کے بارے میں  اس قدر  غلط معلومات فراہم کی ہیں کہ وہ آخری لمحے  تک   سخت اور دھمکی آمیز بیانات دے کر    ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جنگ میں اس کی فتح کو تسلیم کرلیا گیا ہے اور فریق مخالف نے شکست  مان لی ہے۔ حالانکہ اس جنگ میں  کسی کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور  تنازعہ کے جاری رہنے سے  پوری دنیا ہر روز ایک نئی ’شکست‘ سے دوچار ہوتی ہے۔ اسی لیے ایران یا امریکہ کے طرز عمل سے  کامل اتفاق نہ کرنے  کے باوجود تمام نمایاں ممالک کسی بھی طرح ایران اور امریکہ  کی جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

واشنگٹن اور تہران سے حتمی اعلان اور صدر ٹرمپ اور تہران کی مجاز اتھارٹی کے باقاعدہ دستخطوں تک جنگ بندی کا معاہدہ محض خواب ہی بنا  رہے گا۔  اس دوران آج  صدر ٹرمپ نے البتہ ایران کے ساتھ مصالحت کے معاملہ پر دیگر پہلو شامل کرنے کی جو کوشش کی ہے  ، اس سے بھی یہ تنازعہ طول پکڑ سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے ساتھ ہی سعودی عرب و قطر کے علاوہ دیگر ممالک کو  اسرائیل کے ساتھ ابراہم معاہدے میں شامل ہونا چاہئے۔  اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملے کا  ایران کے خلاف ناجائز اور بےا صولی جنگ سے کوئی تعلق  نہیں ہے لیکن ٹرمپ اگر اسے عرب ممالک کو دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کرتے ہیں  تو  صورت حال یک بیک خراب بھی ہوسکتی  ہے۔ حیرت انگیز طور پر ٹرمپ لبنان و غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور مشرق وسطیٰ میں اس کی توسیع پسندی کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہتے لیکن عرب ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔   تاہم امریکہ اپنی تمام تر خواہش کے باوجود اس  وقت تک اسے پورا ہوتے نہیں دیکھ سکتا جب  تک فسلطینی عوام کے حق خود اختیاری کے بارے میں کوئی قابل عمل منصوبہ میز پر موجود نہ ہو۔

اسی طرح آج اپنے ایک حلیف اور معتدل ملک عمان کو دھمکی دی  گئی ہے کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز پر ایران کے  ساتھ کسی ساز باز کی کوشش کی تو امریکہ اسے بھی تباہ کردے گا۔ موجودہ حالات میں ایسی دھمکیاں اپنے مطلوبہ نتائج کے برعکس حالات پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ امریکی صدر اگر یہ توقع کرے گا کہ دنیا کو اس کی جنبش ابرو پر چلے یا اس کے غضب کا سامناکرے تو اس سے   امریکی صدر ہی نہیں پوری امریکی حکومت کی سنجیدگی اور نیک نیتی کے بارے میں شبہات پیدا ہوں گے۔  بہتر  ہوگا کہ صدر ٹرمپ اور تہران کے لیڈر اب دھمکیوں کی زبان استعمال کرنا بند کریں اور ہوشمندی سے ایک ایسے تنازعہ کو ختم کرنے پر اتفا ق کریں جس سے دنیا  کا ہر ملک اور ہر فرد عاجز ہے۔

تہران اور واشنگٹن البتہ جب تک معاہدے کا باقاعدہ اعلان نہیں کرتے۔ ماضی قریب کے واقعات کی روشنی اور سخت بیانات کے تناظر میں محض مثبت خبریں خوش ہونے کے لیے کافی نہیں  ہوسکتیں۔