لندن کے مئیر سر صادق خان حاجی ہوگئے
- تحریر فہیم اختر
- ہفتہ 30 / مئ / 2026
سر صادق خان برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے پہلے مسلمان میئر ہیں اور 2016 سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ پاکستانی نژاد خاندان میں پیدا ہونے والے صادق خان نے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی محنت، تعلیم اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے برطانوی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
وہ برطانیہ کی لیبر پارٹی کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور تنوع، سماجی انصاف اور بین المذاہب ہم آہنگی کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ان کا حج ادا کرنا اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ دنیا کے سب سے بااثر اور متنوع شہروں میں سے ایک کے منتخب میئر ہیں۔ حج کے بعد ان کے خیالات اور مشاہدات نہ صرف برطانیہ کے مسلمانوں بلکہ وسیع تر عالمی برادری تک بھی اسلام کے امن، مساوات اور اخوت کے پیغام کو پہنچانے کا ذریعہ بنے ہیں۔
حج اسلام کا پانچواں ستون ہے اور یہ محض چند عبادات یا رسومات کی ادائیگی کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا عظیم روحانی سفر ہے جو انسان کو اپنی ذات، اپنے رب اور پوری انسانیت کے ساتھ تعلق کو نئے سرے سے سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ دنیا کے کونے کونے سے آنے والے لاکھوں مسلمان ایک ہی لباس، ایک ہی مقام اور ایک ہی مقصد کے ساتھ جمع ہوتے ہیں تو رنگ، نسل، زبان، قومیت، دولت اور سماجی حیثیت کے تمام امتیازات مٹ جاتے ہیں۔ حج انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ دنیا کی تمام ظاہری برتریاں عارضی ہیں اور اللہ کے نزدیک اصل معیار صرف تقویٰ، اخلاص اور نیک کردار ہے۔
حج کی روح دراصل حضرت ابراہیمؑ، حضرت ہاجرہؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال قربانیوں، اطاعت اور توکل کی یاد تازہ کرتی ہے۔ یہ سفر انسان کو اپنے نفس کا محاسبہ کرنے، گناہوں سے توبہ کرنے، دوسروں کے لیے خیر خواہی پیدا کرنے اور اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دینے کی دعوت دیتا ہے۔ اسی لیے کروڑوں مسلمان حج کو اپنی زندگی کے سب سے اہم اور یادگار تجربات میں شمار کرتے ہیں۔ایسے میں جب لندن جیسے عالمی شہر کے میئر صادق خان اپنے حج کے تجربے کو ”زندگی کو بہت زیادہ بدلنے والا“قرار دیتے ہیں تو یہ خبر محض ایک سیاسی شخصیت کے مذہبی سفر کی اطلاع نہیں رہتی بلکہ ایک وسیع تر سماجی اور تہذیبی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ مغربی دنیا کے ایک نمایاں سیاسی رہنما کا حج کے بارے میں اس قدر مثبت اور روحانی انداز میں اظہارِ خیال کرنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات عالمی انسانی اقدار سے ہم آہنگ ہیں۔ مساوات، اتحاد، عاجزی، برداشت اور انسان دوستی وہ اصول ہیں جن کی آج کی دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
صادق خان کا یہ بیان کہ ’احرام کی حالت میں کھڑا ہونا،اس بات کی خوبصورت یاد دہانی ہے کہ ہم سب خدا کے سامنے برابر ہیں‘ ، دراصل حج کے آفاقی پیغام کا خلاصہ ہے۔ یہ پیغام صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے اہم ہے۔ ایک ایسے دور میں جب دنیا نسلی تعصبات، مذہبی نفرتوں، معاشی ناہمواریوں اور سیاسی تقسیم کا شکار ہے، حج انسانوں کے درمیان مساوات اور اخوت کا ایک زندہ اور عملی نمونہ پیش کرتا ہے۔
اسی لیے صادق خان کی حج سے متعلق گفتگو اور تصاویر عالمی ذرائع ابلاغ میں توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ یہ خبر اس امر کی علامت بھی ہے کہ مذہبی شناخت اور عوامی خدمت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتی ہیں۔ حج کا پیغام انسان کو بہتر مسلمان ہی نہیں بلکہ بہتر انسان اور بہتر شہری بھی بننے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیاں گزرنے کے باوجود حج کی معنویت کم نہیں ہوئی بلکہ جدید دنیا کے چیلنجوں کے تناظر میں اس کی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی۔ صادق خان کا حج ادا کرنا کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے۔ وہ صرف لندن کے میئر نہیں بلکہ برطانیہ کی کثیر الثقافتی اور کثیر مذہبی شناخت کی ایک نمایاں علامت بھی ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب یورپ اور مغربی دنیا کے بعض حلقوں میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمیاں اور منفی تصورات پائے جاتے ہیں، دنیا کے ایک بڑے دارالحکومت کے میئر کا اپنے مذہبی فریضے کی ادائیگی پر فخر کا اظہار کرنا ایک مثبت پیغام ہے۔
حج کے دوران انسان اپنی سماجی حیثیت، سیاسی طاقت، مالی وسائل اور دنیاوی شناختوں کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ احرام کے دو سادہ کپڑوں میں ایک عام مزدور، ایک کاروباری شخصیت، ایک عالم دین، ایک بادشاہ اور ایک سیاسی رہنما ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی وہ منظر ہے جس نے صادق خان کو یہ کہنے پر مجبور کیا کہ حج اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہم سب خدا کے سامنے برابر ہیں۔ درحقیقت یہی تصور اسلام کے اس بنیادی فلسفے کی عکاسی کرتا ہے جس میں انسانوں کی عظمت کا معیار ان کی دولت، نسل یا اقتدار نہیں بلکہ ان کا کردار اور تقویٰ ہے۔صادق خان کے بیان میں ایک اور اہم نکتہ قابل توجہ ہے۔ انہوں نے حج کو صرف جسمانی مشقت یا مذہبی رسومات کا مجموعہ قرار نہیں
دیا بلکہ ایک گہرا روحانی سفر کہا ہے۔ جدید دور کی تیز رفتار اور مادیت پسند زندگی میں انسان اکثر اپنے باطن، اپنی ذمہ داریوں اور اپنے مقصدِ حیات سے دور ہو جاتا ہے۔ حج انسان کو چند دنوں کے لیے دنیاوی مصروفیات سے الگ کرکے خود احتسابی، دعا، توبہ اور روحانی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان حج سے واپسی پر اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہیں۔
صادق خان کی پیدائش ایک پاکستانی خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کے والد روزگار کے سلسلے میں پاکستان سے لندن ہجرت کر کے آئے تھے اور لندن میں بس ڈرائیور تھے۔ صادق خان کا پورا خاندان جنوبی لندن کے کونسل اسٹیٹ (وہ رہائشی مکان جس میں کم آمدنی یا غریب لوگ رہتے ہیں)میں آباد تھا۔ اسی وجہ سے صادق خان نے ہمیشہ اپنی تقریر میں اس بات کا ذکر کیا کہ میں ایک بس ڈرائیور کا بیٹا ہوں اور میری پرورش ایک کونسل اسٹیٹ میں ہوئی ہے۔ صادق خان پیشے سے ایک وکیل ہیں اور انہوں نے ایم پی بننے سے پہلے انسانی حقوق کے وکیل کے طور پر کام کیا تھا۔ ان کی شادی سعدیہ سے تیس سال پہلے ہوئی تھی اور ان دونوں کے دو بیٹیاں ہیں۔ صادق خان کی بیوی سعدیہ بھی پیشے سے ایک وکیل ہیں۔ صادق خان کے پاس ایک کتا بھی ہے جسے وہ اکثر اپنے انسٹا گرام پر شئیر کرتے ہیں۔
صادق خان اور ان کے گھر والے ہمیشہ رمضان پابندی سے مناتے ہیں۔ صادق خان کا کہنا ہے کہ ’میں نے ٹوٹنگ اور بالہم کے علاقے میں مدرسہ میں عربی اور دینیات کی تعلیم حاصل کی ہے جس کی وجہ سے کم عمری سے ہی انہیں توحید،نماز،زکاۃ،روزہ اور حج جو کہ اسلام کے پانچ ستون ہیں، کا علم ہوا۔ صادق خان نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنی جوانی کے زیادہ تر دن انتہا پسندی کے خلاف لڑنے میں گزارے۔2023میں صادق خان نے عمرہ کی بھی سعادت حاصل کی تھی۔جسے انہوں نے سوشل میڈیا پر فخریہ پیش بھی کیا تھا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ حج مسلمانوں کے عالمی اتحاد کی سب سے بڑی عملی مثال ہے۔ مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف معاشی پس منظر رکھنے والے مسلمان ایک ہی مرکز کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ آج جب دنیا تقسیم در تقسیم کا شکار ہے، حج یہ سبق دیتا ہے کہ مشترکہ اقدار اور اعلیٰ مقاصد انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتے ہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جس کی بازگشت لندن کے مئیر سر صادق خان کے الفاظ میں سنائی دیتی ہے۔اس خبر کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ حج کو صرف ایک مذہبی فریضے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی انسانی اور اخلاقی تربیت گاہ کے طور پر پیش کرتی ہے جو انسان کو عاجزی، صبر، برداشت، خدمت اور مساوات کا درس دیتی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں قیادت کے بحران، سیاسی کشیدگی اور سماجی عدم مساوات کے ماحول میں حج کی یہ تعلیمات غیر معمولی معنویت اختیار کر جاتی ہیں۔
صادق خان کا حج ادا کرنا یقیناً ان کا ذاتی اور مذہبی معاملہ ہے، لیکن ان کے تجربے کا اظہار ایک وسیع تر پیغام بھی رکھتا ہے۔ یہ پیغام اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ مذہب، جب اپنی اصل روح کے ساتھ سمجھا اور اپنایا جائے، انسانوں کے درمیان فاصلے کم کرتا ہے، دلوں کو جوڑتا ہے اور انہیں مشترکہ انسانی اقدار کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ حج اسی آفاقی پیغام کا سب سے روشن مظہر ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ اسے ادا کرنے والے اکثر اسے اپنی زندگی کا سب سے یادگار اور روح کو جھنجھوڑ دینے والا تجربہ قرار دیتے ہے۔میں لندن کے مئیر سر صادق خان کو حج کی ادائیگی کے لئے دلی مباکباد پیش کرتا ہوں۔