عید، رشتہ دار اور کتابیں

عید ملن کا نام ہے۔ یہ روابط بحال کرنے کے دن ہیں۔ یہ اُن سے ملاقات کا موقع ہے جن سے ہم سال بھر نہیں مل پاتے۔ مجھے وہ دن یاد ہیں جب میں ہر عید باقاعدگی کے ساتھ گاؤں میں منایا کرتا تھا۔ عید گاہ میں اُن احباب سے بھی ملاقات ہو جاتی جن سے پچھلی عید پر ملے تھے۔ یہ سلسلہ اُس وقت تک باقی رہا جب تک والدین زندہ رہے۔

 وہ رخصت ہوئے تو یہ معمول بھی چھوٹ گیا۔ تاہم اللہ کا شکر ہے کہ اب عید کے دن رشتہ داروں اور عزیز و اقارب سے ملاقات ہو جاتی ہے۔ ہمیں اس رواج کو زندہ رکھنا چاہیے کہ عہدِ حاضر رشتوں کیلئے ملک الموت ثابت ہوا ہے۔ عید کے دن بھی اگر ہم اعزّا سے نہ مل پائیں تو کب ملیں گے؟ مجھ جیسے مگر ان دنوں میں بھی کتاب سے رشتہ نہیں توڑ سکتے۔ اس بار عید کی چھٹیاں قدرے طویل ہیں۔ خیال یہی ہے کہ نئی موصول ہونے والی کتابیں ان دنوں میں نظر سے گزر جائیں گی۔ میرے لیے چھٹیوں کا اس سے بہتر مصرف کوئی اور نہیں۔ عیاشی کا تصور بھی میرے نزدیک یہی ہے۔ فرصت اور کتابوں کی صحبت ایک ساتھ میسر ہوں تو اس سے بڑی تفریح کا تصور محال ہے۔ کتابیں ایک سے زیادہ ہیں۔ دیکھیے، ان دنوں میں کتنوں کا ساتھ رہتا ہے۔ آج عید کا تیسرا دن ہے اور دو کتابیں ختم ہو چکیں۔ خیال ہوا کہ ان کے مطالعے میں آپ کو بھی شریک کر لوں۔

پہلی کتاب ہے  ’پیارے مولانا‘۔ اس میں جناب الطاف حسن قریشی کا مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے بارے میں ایک طویل مضمون،  اُن کے دو انٹرویو اور ایک غزل شامل ہے۔ کتاب کو قابلِ مطالعہ بنانے کے لیے یہ مواد کافی تھا اور مگر اس پر مستزادجناب مجیب الرحمن شامی کے دو مضامین، جناب آباد شاہ پوری اور نظر زیدی کا ایک ایک مضمون بھی کتاب میں شامل ہیں۔ یوں اس کتاب کی افادیت دوگنا ہو گئی ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے مجھے یہ احساس ہوا کہ مولانا کے حالتِ زندگی، ان کے افکار و نظریات اور ان کے شخصی اوصاف سے واقفیت اور تعارف کے لیے یہ کتاب کفایت کرتی ہے۔شخصیت مولانا مودودی کی ہو اور اس کی تصویر قریشی صاحب کے قلم سے کھینچی گئی ہو تو پڑھنے والا بے اختیار پکار اٹھتا ہے:
ذکر اُس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا

علم میں اگر حسنِ کردار کی آمیزش ہو جائے تو پھر اس پیکر خاکی کو ابوالاعلیٰ کہتے ہیں۔ حسنِ فطرت، حسنِ بیان اور حسنِ خُلق کے ایسے نمونے قدرت کے ٹیکسال میں کم ہی ڈھلتے ہیں۔ جناب الطاف حسن قریشی کو حُسن کے اس مرقع کو بہت قریب سے اور بار ہا دیکھنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد ان کے پاس کوئی راستہ اس کے سوا نہیں تھا کہ وہ ان کے سحر میں مبتلا ہو جائیں۔ علم کے راستے، وہ مولانا سے متعارف ہوئے اور پھر کردار کے راستے،وہ ان کے دل میں اُتر گئے۔ فکری قربت اور تعلقِ خاطر نے ان سے مولانا کی وفات پر جو مضمون لکھوایا،وہ ان کے بہترین مضامین ہی میں شمار نہیں ہوتا،یہ مولانا کے تعارف کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ فکر ونظر کی دنیا میں مولانا کا حصہ کیا تھا اور وہ کس کردار کے حامل تھے، انہوں نے کمال مہارت کے ساتھ اس مضمون میں ان سوالات کے جواب دیے ہیں۔ مولانا کے دو انٹرویو بھی کتاب کا حصہ ہیں۔ انٹرویو کے فن میں قریشی صاحب کا جو امتیاز تھا، یہ انٹرویو اس کا مظہر ہیں۔ غزل بھی خاصے کی چیز ہے۔ دو شعر دیکھیے:
حق تھا،حق کی مثال تھا، کیا تھا
سیدِ خوش خصال تھا، کیا تھا
تخت تھا، تاج تھا، نہ لشکر تھا
فاتحِ بے مثال تھا، کیا تھا

کتاب میں جناب مجیب ا لرحمن شامی کے جو رشحاتِ قلم شامل ہیں، تاثیرمیں وہ بھی کم نہیں۔ مولانا کی زندگی کے ابتدائی دور سے متعلق نادر معلومات کو انہوں نے خوبصورتی کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔ ’قومی ڈائجسٹ‘ کے سید مودودی نمبر کے لیے انہوں نے مولانا کی جو قلمی تصویر بنائی تھی، وہ ادب کا شاہکار ہے۔ اسے بھی اس کتاب میں شامل کر دیا گیا ہے۔ شامی صاحب کی بنائی ہوئی ایسی تصاویر اور بھی ہیں جن کو دیکھ کر یہ سیکھا جا سکتا ہے کہ الفاظ سے مصوری کیسے ہوتی ہے۔ یہ البم الگ سے مرتب ہو جانا چاہیے۔ شامی صاحب کو بھی کوئی ’ ایقانِ حسن‘ مل جائے تو یہ کام سہل ہو سکتا ہے۔

آباد شاہ پوری صاحب کا ایک تاثراتی مضمون بھی اس کتاب کا حصہ ہے۔ وہ ایک عمدہ لکھاری تھے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی تاریخ لکھنے کا آغاز کیا تھا۔ غالباً اس کی ایک ہی جلد شائع ہو سکی۔ مولانا سے ان کو بے پناہ عقیدت تھی۔ جناب نظر زیدی نے مولانا کی زندگی کے دلچسپ واقعات کو ایک مضمون میں جمع کر دیا ہے جو اس کتاب میں شامل ہے۔ مولانا کی بزلہ سنجی، خوش طبعی، خوش ذوقی و خوش گفتاری ان واقعات سے عیاں ہے۔ کتاب پڑھ کر خیال ہوتا ہے کہ اس کے لیے  ’پیارے مولانا‘ سے بہتر کوئی عنوان نہیں ہو سکتا تھا۔

دوسری کتاب ان تاریخ ساز شخصیات کے تعارف پر مبنی ہے، انسان کا تہذیبی سفر جن کی اجتماعی کاوشوں کا مرہونِ منت ہے۔  ’999ٹریلین ڈالر کی کتاب‘ کو علامہ عبدالستار عاصم صاحب نے مرتب کیا ہے۔ ادب، سائنس، طب و جراحت، فنونِ لطیفہ،کھیل اور تعمیرات،علم و افکار،ایجاد و تخلیق کی دنیا سے تعلق رکھنے والی 101شخصیات کا تعارف، بہت دلچسپ انداز میں کرایا گیا ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت سے لے کر مجسمہ سازی و موسیقی اور طبیعات سے لے کر سماجی علوم تک کم و بیش ہر علم و فن کے لوگ شامل ہیں۔ مرتب نے ابتدائیے میں یہ واضح کیا ہے کہ اس میں انبیا اور دینی شخصیات کو دانستہ شامل نہیں کیا گیا کہ  وہ عام انسانوں سے کہیں بلند مقام و مرتبہ رکھتے ہیں۔
اس طرح کی کتابیں دنیا کی ہر زبان میں لکھی جاتی ہیں۔  ’سو بڑے آدمی‘بھی اسی نوعیت کی کتاب ہے جسے عالمگیر شہرت ملی۔ ایسی کتابوں میں شخصیات کا انتخاب مصنف کے ذوق سے تعلق رکھتا ہے اور ایسی کوئی فہرست حتمی اور مکمل نہیں ہوتی۔

عبدالستار عاصم صاحب نے سہل اور دلچسپ انداز میں یہ تعارف لکھے۔ یہ اسلوب ایسی کتابوں کی ناگزیر ضرورت ہے۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ صاحب نے اپنی تقریظ میں اس مجموعے کو سراہا ہے۔ ان جیسے مذہبی آدمی نے بھی عاصم صاحب کی ہم نوائی کی ہے کہ انسانی تہذیب کے جمال، فروغ اور ارتقا کے لیے مجسمہ سازی،موسیقی، فلم سازی اور تمام فنونِ لطیفہ اتنے ہی اہم ہیں جتنے طبیعیاتی اور سماجی علوم۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی۔ واقعہ یہ ہے کہ علم و فن کے یہ سب مظاہر مل کر تہذیب کو توانا اور سماج کو انسانوں کے لیے رہنے کے قابل بناتے ہیں۔ ہر پڑھے لکھے بالخصوص مذہبی ذہن رکھنے والے کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

ان کتابوں کی صحبت نے عید کے تاثر میں اضافہ کیا جو خوشی سے عبارت ہے۔ تین روز عزیز و اقارب سے ملے۔ دن کو اُن کی محبتیں سمیٹیں اور راتوں کو کتابوں سے ہم آغوش ہوئے۔ اعزّا کے ساتھ طویل محفلیں ہوئیں۔ دن کے اجالے میں شروع ہونے والی یہ مجالس کبھی رات گئے تمام ہوئیں۔ رشتے اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہیں، اگر ہم اس کا ادراک کر سکیں۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے دین میں صلہ رحمی اور خاندان سے تعلق کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ رشتہ داروں کے ساتھ اگر کتابیں بھی خاندان میں شامل کر لی جائیں تو زندگی کے ہر دن کو یومِ عید بنایا جا سکتا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)