نومید ہم مباش کہ رندان بادہ نوش
- تحریر وجاہت مسعود
- ہفتہ 30 / مئ / 2026
حافظ شیرازی کے اس مصرع کا مفہوم یہ ہے کہ ہم رندان بادہ خوار سے مایوس مت ہونا۔ مصرع ثانی بھی مع ترجمہ عرض کرتا مگر ایک یار طرح دار ونیز بد اطوار کا ذکر حائل ہو رہا ہے۔ شیراز راج میرا قدیمی دوست ہے۔ صاحب علم ہے۔ مگر ایسا دوست دار دشمن ہے کہ ایک جملے میں طبع حساس کے ٹکڑے اڑا کے رکھ دے۔
بات یہ ہے کہ آپ کے نیاز مند کی فارسی ایسی ہی محدود ہے جیسی کسی سادھارن مسلمان کی عربی۔ گویا دو چار روز مرہ الفاظ یا تراکیب کے بعد لاعلمی کا تاریک براعظم شروع ہوتا ہے۔ پچھلی صدی کے آخری برس تھے۔ اچھے خاصے معتبر دوستوں کی مجلس جمی تھی۔ اچانک شیراز راج نے مجھے مخاطب ہو کر کہا کہ ’ان دو فارسی اشعار میں سے ایک سناؤ جو تم نے رٹ رکھے ہیں۔‘ واللہ میں نے خود کو سمٹ کر حشرات الارض میں بدلتے محسوس کیا۔ بات خلاف واقعہ نہیں تھی لیکن آپ ہی بتائیے کہ اپنے عرفی دوست کا یوں برسر محفل راز کھولنا کہاں کی دوستی تھی۔
اب جب کہ یہ ظالم مدت سے یورپ میں مقیم ہے، میں اسے بتا سکتا ہوں کہ ڈاکٹر سلیم مظہر اور ڈاکٹر معین نظامی کی شفقت سے میری فارسی دانی دو اشعار سے کسی قدر وسعت پا چکی ہے۔ یہی کوئی درجن بھر اشعار اور قریب اتنے ہی محاورے۔ 2013 میں ووٹ کے بیلٹ پیپر پر خالی خانے کا شوشا چھوڑا گیا تو روزنامہ جنگ کے اسی ادارتی صفحے پر ایک کالم کو فارسی عنوان دیا۔ برادر مہربان سہیل وڑائچ نے اسے چپکے سے بامحاورہ اردو میں بدل دیا گویا اشارہ دیا کہ فارسی دانی کی غیر ضروری نمائش سے گریز کرنا چاہیے۔ آج تو ایک گمبھیر مشکل آن پڑی ہے۔ کچھ کم سواد حلقوں کو پیغام دینا ہے کہ ہم رندان قدح خوار سے مایوس مت ہونا۔ عجب نہیں کہ جست بھریں اور ناگہاں آواز آئے، ’المدد شوق کہ بس آ پہنچے‘۔
حافظ شیراز نے زندگی کرنے کو عجب زمانہ پایا۔ دنیا تیموری یلغار کی زد میں تھی۔ قفقاز روس اور ہندوستان سے سلطنت عثمانیہ تک تیمور لنگ کی کشور کشائی نے موت، تباہی اور بستیوں کی بربادی کا ناقوس پھونک رکھا تھا۔ حافظ شیراز نے اس وبائے نامسعود کے اندیشے میں زندگی کا بڑا حصہ گزارا مگر تابکے۔ بالآخر تیموری لشکر ایران پر بھی چڑھ دوڑا۔ خیر گزری کہ اس سے قبل حافظ اپنا دیوان قریب قریب مکمل کر چکے تھے۔ ہم لوگ پچھلی صدی کی نشانی ہیں۔ ہمیں بھی انتزاع اور انتشار کا زمانہ نصیب ہوا۔ بیسویں صدی کا پہلا نصف سلطنت برطانیہ کے استعمار سے عبارت تھا۔ دوسری عالمی جنگ ختم ہوئی تو برطانیہ سمیت یورپی نوآبادیاتی قوتوں نے معیشت کے نئے تقاضے تسلیم کرتے ہوئے مقبوضات سے ہاتھ اٹھا لیا مگر اپنے زیر نگیں منطقے غیرعلانیہ طور پر امریکا کو سونپ دیے۔
بیسویں صدی کے دوسرے نصف پر امریکا کی انگلیوں کے نشانات ہیں۔ امریکا نے دنیا بھر کے معاشی وسائل اور سیاسی طاقت سمیٹنے کے نئے ڈھنگ نکالے ہیں۔ روایتی انداز میں دوسرے ممالک پر براہ راست عمل داری کی بجائے معاشی دباؤ اور سیاسی جوڑ توڑ سے کام لیتا ہے۔ جہاں ضرورت ہو وہاں فوجی مداخلت سے بھی گریز نہیں۔ کوریا اور ویت نام میں دو بڑی جنگیں امریکا نے لڑیں۔ نیٹو کے ذریعے یورپ کو جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی بنایا۔ لاطینی امریکا، ایشیا اور افریقہ میں پس پردہ رہتے ہوئے حکومتیں تبدیل کیں۔ مالیاتی اداروں کے ذریعے دنیا بھر کے معاشی وسائل اپنے ہاتھ میں رکھے۔ آج کا امریکا اعلان آزادی لکھنے والے مدبروں کے خوابوں کی تغلیط ہے۔ ہمارا ملک اس نقشے میں بھی منفرد مقام رکھتا ہے۔ پاکستان کی اشرافیہ نے غیر ملکی حکمرانی سے آزادی کی لڑائی نہیں لڑی۔ ہماری فوج کا استخلاصِ وطن میں کوئی کردار نہیں۔ یہاں کے مذہبی پیشوا بیرونی حکمرانوں کے مرغان دست آموز رہے ہیں۔ یہاں کے تعلیم یافتہ طبقے نے جدید علوم کو افتادگان خاک کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
کل ملا کے نتیجہ یہ کہ ہمارا ملک معاشی طور پر غریب اور سیاسی طور پر غیر مستحکم ہے۔ قانون کی بالادستی کا ہماری روزمرہ زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم قدیم طور طریقوں اور جدید ٹیکنالوجی کے دوہرے پاٹوں میں رکھے گندم کے دانے ہیں۔ ہم نے اپنے ملک کا اجتماعی تشخص مسخ کر کے اسے ایک ایسی غیر مزروعہ کھیتی میں بدل رکھا ہے جہاں کوئی بھی بہروپیا ہمیں بیوقوف بنا کے ہمارے دکھوں کا بوجھ بڑھا دیتا ہے۔ کوئی کینیڈا سے انقلاب درآمد کرنے والے مولانا ہوںیا پاکستان کے اندر ہی مصنوعی اسلامی انقلاب لانے والی خاتون ، ہماری خوش عقیدگی کا خراج وصول کر کے بیرون ملک جا بیٹھتے ہیں۔ ہم نے تعلیم، پیداواری معیشت اور مربوط سیاسی بندوبست جیسے موثر آلات کو کباڑ خانے میں ڈال رکھا ہے ۔ ہم اپنے خوابوں کی ترقی کی شاہراہ پر ترقی اور استحکام کے واضح سنگ میل نصب نہیں کر سکے۔
ہم آج کی دنیا سے نفرت بھی کرتے ہیں اور جدیدیت کے امکانات سے فائدہ بھی اٹھانا چاہتے ہیں۔ ہمارے اعداد و شمار ہی نہیں، ہمارے زمینی حقائق بھی شرمندگی کا نشان ہیں۔ ہم قلم اٹھاتے ہیں اور دنیا بھر میں ناانصافی کے خلاف جہازی حجم کا نوحہ لکھتے ہیں۔ ہمیں اپنے ہم وطنوں کی محرومی اور تکلیف کا احساس نہیں۔ ہم غیر ملکی سفارت خانوں کے باہر دھوپ میں قطار بنائے کھڑے ہیں کہ ہمیں یہاں سے نکل بھاگنے کا کوئی دروازہ ملے۔ ہمارے ملک میں عام شہریوں کے لیے تعلیم اور ہنر کا دستیاب بندوبست ہمیں اس قابل نہیں بناتا کہ ہم کسی طور پاکستان سے نکل بھی جائیں تو آج کی دنیا میں قابل احترام مقام پا سکیں۔ عرض ہے کہ پاکستان میں آئندہ کئی نسلوں تک اسی طبقے کی ذریات حکومت کریں گی جس نے ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر ایسے وسائل جمع کر لیے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم دلا سکتے ہیں۔ ان بچوں کی بڑی تعداد پاکستان واپس نہیں آئے گی۔ جو تھوڑے بہت یہاں لوٹیں گے انہیں محمد شعیب، معین قریشی، شوکت عزیز اور باقر رضا جیسے موسمی پرندوں میں شمار کیجیے۔
پاکستان کے پچیس کروڑ لوگوں کو اسی زمین پر رہنا ہے اور ان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ اس زمین پر پاؤں جما کر اپنا آنے والا کل درست کر سکیں۔ اس کے لیے حافظ شیراز کا نسخہ استعمال کرنا ہو گا۔ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر یہ ارادہ باندھنا ہو گا کہ کوئی مسیحا ہمارے دکھ کا درماں نہیں کر سکتا۔ کوئی عبقری ہمارے لیے معجزے برپا نہیں کرے گا۔ پچیس کروڑ لوگوں کی غربت کسی اندرونی یا بیرونی امداد سے دور نہیں کی جا سکتی۔ ہم دستور کی روشنی میں جمہوری عمل کا انتخاب کریں گے تو حافظ کے شعر کا مقامی ترجمہ ہو سکے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)