اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟
- تحریر آصف محمود
- ہفتہ 30 / مئ / 2026
جناب محمود خان اچکزئی کا ارشادِ تازہ پڑھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں ان کی فکری گرہیں کیوں نہیں کھل پا رہیں۔ وہ محض ایک قوم پرست رہنما ہی نہیں، وہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی ہیں۔ لیکن وہ جب گفتگو فرماتے ہیں تو حیران اور پریشان کر دیتے ہیں۔
کبھی یہ اردو زبان پر غصہ انڈیل رہے ہوتے ہیں، کبھی انہیں 14 اگست سے جڑی پاکستانی شناخت پر اعتراض ہونے لگتا ہے اور یہ 13 اگست کی شناخت کا مقدمہ کھڑا کر دیتے ہیں، کبھی یہ پاکستان کی فوج کو 4 اضلاع کی فوج قرار دے ڈالتے ہیں اور اب تازہ ترین ارشاد تو بہت ہی سنگین ا ور پریشان کن ہے۔ سمجھ سے باہر ہے خان صاحب کا مسئلہ کیا ہےاور خان صاحب چاہتے کیا ہیں؟ تازہ ترین ارشاد گرامی 29 مئی کو گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول چمن میں خان صاحب کے خطاب میں سامنے آیا ہے۔ فرماتے ہیں: آپ ہر گھر سے ایک فرد دیں گے اور ہم اپنی قومی فوج ( نیشنل آرمی ) بنائیں گے۔
چند سوالات توجہ طلب ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ قومی فوج سے کیا مراد ہے اور اچکزئی صاحب کا فلسفہ قومیت کیا ہے؟ پاکستانی قومیت سے تو انہیں الجھن ہوتی ہے اور تشبیہات کے طور پر بھی اگر 14 اگست اور پاکستانی قومیت کی بات ہو تو موصوف بدمزہ ہو کر سوال اٹھاتے ہیں کہ 13 اگست کو ہم کیا تھے؟ لیکن دوسری جانب یہ عالم ہے کہ ایک جدید قومی ریاست میں رہتے ہوئے، جس کی اپنی ایک قومی فوج موجود ہے، یہ صاحب قوم پرستی کی بنیاد پر ایک لشکر کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور اسے قومی فوج کا نام دیتے ہیں۔ یہ کون سا تصور قومیت ہےا ور کون سا تصور شہریت ہے؟ ہو سکتا ہے مجھے ہی بات سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو اور اچکزئی صاحب کچھ اور کہناچاہ رہے ہوں، تو اس صورت میں اگر وہ رہنمائی فرما دیں تو عین نوازش ہو گی کہ قومی فوج کا ان کا تصور کیا ہے۔ پاکستان کی ریگولر آرمی تو ان کے نزدیک 4 اضلاع کی فوج ہے اور خود وہ چمن کے چند گھرانوں سے ایک ایک لڑکا لے کر جو کچھ بنانا چاہتے ہیں اسے ’قومی فوج‘ کا نام دے رہے ہیں۔
بظاہر یہ اس وقت تحریک تحفظ آئین پاکستان بھی چلا رہے ہیں، اور دعویٰ یہ ہے کہ وہ آئین پاکستان کے تحفظ کی خاطر میدان عمل میں ہیں۔ تو کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ آئین کا آرٹیکل 256 کیا کہتا ہے؟ اس آرٹیکل کے مطابق ملک میں کسی قسم کی پرائیویٹ آرمی کی کوئی گنجائش نہیں۔ آرمی ایک ہی ہےاور وہ ریاست کی ہے۔ ریاست کی فوج کے علاوہ کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ فوج رکھے یا اس کی تشکیل کی کوشش کرے۔ اچکزئی صاحب کو اگر یہ شوق لاحق ہو گیا تو اس کی دوا بھی ریاست کے پاس موجود ہو گی، یقیناً انہیں ایسا شوق نہیں ہو گا۔ یہ سوال البتہ اپنی جگہ اہم ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان میں ’آئین‘ کا مطلب کیا ہے؟
یہ قومی فوج بنانا کیوں مقصود ہے؟ کیا یہ مسلح ہو گی؟ کیا یہ غیر مسلح انتظامی دستے کے طور پر کام کرے گی؟ کیا اس کے بعد بارڈر پر صرف اس کا راج ہو گا؟ کیا ریاست کے ادارے آپ کو گوارہ نہیں کہ اس طرح کی ’قومی فوج‘ کی بات کی جا رہی ہے؟ ایجنڈا کیا ہے؟ کوئی عام قوم پرست یہ بات کرتا تو نظر انداز کی جا سکتی تھی لیکن یہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا بیان ہے۔ اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ اچکزئی صاحب کے ارشادات گرامی کی ایک تاریخ ہے۔ ماضی میں لاہور تشریف لے گئے تو سکھوں اور ہندوؤں کے ساتھ لاہوریوں کو بھی رگید ڈالا کہ آپ سب نے انگریز کے ساتھ مل کر پشتون وطن پر قبضہ کرنے کے لیے حملے کیے۔ لاہور کے میزبانوں نے مگر دل بڑا کیے رکھا، ورنہ جواب میں وہ بھی بابے بلھے شاہ کا شعر سنا سکتے تھے کہ کھادھا پیتا لاہے دا، تے باقی احمد شا ہے کا۔
قوم پرست سیاست کا یہ عارضہ شدید ہے کہ اسے تمام خرابیاں دوسروں میں نظر آتی ہیں اور خود کو یہ میاں معصوم سمجھتے ہیں۔ یہ صرف دوسروں کو لعن طعن کرتے ہیں اور اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔ ایک سیاست دان کو البتہ الفاظ کے انتخاب میں کچھ محتاط تو ہونا چاہیے۔ قوم پرست سیاست کے تقاضے اپنی جگہ لیکن کیا لازم ہے کہ ہر وقت ایسا ہی رویہ اپنایا جائے؟ قوم کو کہاں تک تقسیم کرنا مقصود ہے؟
افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کے حوالے سے اچکزئی صاحب کے کچھ تحفظات اور تجاویز ہیں تو قومی اسمبلی میں پیش کریں۔ لیکن بارڈر کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے پنجابی شاونزم کا عنوان دے کر بلوچ اور پشتون کی مظلومیت کا کارڈ کھیلنا کہاں کی پارلیمانی سیاست ہے۔ پنجابی اتنا ہی طاقتور اور فاشسٹ ہے تو کیا اس نے آپ کے بارڈر بند کر کے اپنا لاہور بارڈر کھول رکھا ہے؟ کیا واہگہ پر تجارت جاری ہے اور صرف افغان بارڈر بند ہے؟
امور خارجہ کا تعین ریاست کے مفاد سے ہوتا ہے۔ اس پر قوم پرستی کا کارڈ کھیلنا ویسے ہی مناسب نہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے کھلے رکھنے کی پالیسی رکھی ہے۔ اس وقت جو تناؤ ہے، اس کی وجوہات اچکزئی صاحب کو بھی معلوم ہیں، لیکن قوم پرست سیاست کے تقاضے بندے کو ایک خاص دائرے سے باہر نہیں جانے دیتے۔ قوم پرست سیاست کی بقا اسی میں ہے کہ اپنی قوم کو ہمیشہ خوف میں رکھو، اس کے ذہن میں دوسروں کے لیے نفرت بھرے رکھو، اسے ہمیشہ یہ احساس دلاؤ کہ باقی صوبے تمہیں کھا جائیں گے۔ شکر کرو میں ہوں جو تمہیں بچا رہا ہوں۔ چنانچہ پنجاب اور ریاست کو حسب ضرورت سینگوں پر لیے رکھنا ایک فیشن ہے ۔
زندگی کو رواں رکھنے کے لیے کچھ جذبے ہوتے ہیں جو قوت کا کام کرتے ہیں۔ کچھ مثبت ہوتے ہیں کچھ منفی۔ سماجیات کے ماہرین بتاتے ہیں کہ منفی جذبات میں سے نفرت ایک بہت طاقتور جذبہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ قوم پرست سیاست اسی نفرت کو زاد راہ بنائے ہوئے ہے۔
(بشکریہ: وی نیوز)