امن معاہدہ تو تیار ہے ، صرف سرنامے پر ’اختلاف‘ ہے

ایران اور امریکہ کے درمیان بار بار   امن معاہدے  کی نوید آنے کے بعد تعطل پیدا  ہونے سے دنیا بھر کے لوگ حیران ہیں کہ آخر اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔ فریقین کے مؤقف سے سب آگاہ ہیں اور ایک دوسرے کی ریڈ لائنز کے بارے میں بھی کوئی رازداری نہیں برتی گئی۔ اس کے باوجود معاہدہ نہ ہونے کی وجہ شاید جنگ میں فتح کے اعلان کا کریڈٹ لینے  کا سوال بنا ہؤا ہے۔

دونوں ملک جنگ سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ اور شاید کسی نئی جنگی کارروائی کے متحمل بھی نہیں ہوسکتے لیکن اس کے باوجود  تہران ہو یا واشنگٹن  امن کی بات چیت کے بارے میں حوصلہ افزا پیغامات دیتے ہوئے یک بیک ایک دوسرے کو مطعون کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اس طرح یہی لگتا ہے کہ شاید باہمی رابطوں کا سلسلہ بند ہوچکا ہے اور اب دونوں ایک بار پھر میدان  جنگ میں اترنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔  طرفین جنگ بندی کے اصول اور  آبنائے ہرمز کھولنے پر اصولی طور سے متفق ہوچکے ہیں۔  اور یہ بھی طے ہو گیا ہے کہ  عبوری معاہدہ کے بعد دونوں ممالک براہ راست مذاکرات  میں شریک ہوں گے اور ایران کے جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔ کافی حد تک یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ تہران اور امریکہ کے مذاکرات کاروں کے درمیان یہ افہام و تفہیم موجود ہے کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں کون سی رعایات دی جائیں گی اور کن مطالبات سے ایک قدم پیچھے اٹھایاجائے گا۔

اس حد تک اتفاق رائے کے بعد بھی لیکن ایران اور امریکہ کسی باقاعدہ یادداشت یا معاہدے کا اعلان کرنے میں لیت و لعل سے  کام لے  رہے ہیں۔ اس کی واحد وجہ  اس مرحلے  پر کسی معاہدے کی زبان یا متن کو اس انداز میں تحریر کرنا معلوم ہوتا ہے جس میں فریقین اپنے اپنے طور پر خود کو کامیاب قرار دے کر یہ اعلان کرسکیں کہ  دوسرے فریق نے شکست تسلیم کرکے   معاہدہ پر رضا مندی ظاہر کردی ہے۔ گویا آسان لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان جو ’ہاتھا پائی‘ ہورہی ہے ، اس کا مقصد کسی اصول پر اختلاف نہیں ہے بلکہ  یہ خواہش ہے کہ کسی دستاویز کا سرنامہ یا عنوان  اس کی  ’حمایت‘  میں ہو۔ مثلاً اگر اس کا عنوان  ہو کہ ’ایران جنگ میں فاتح تھا‘ تو تہران سے چند لمحوں میں اسے منظور کرنے کا اعلان سامنے آسکتا ہے۔ دوسری طرف اگر اس سے ملتی جلتی کوئی عبارت امریکہ کے حق میں عنوان کے طور پر لکھ دی جائے تو اسی متن کے ساتھ ساری یادداشت کو منظور کرنے کا اعلان صدر ٹرمپ سوشل میڈیا پوسٹ میں کرتے دیر نہیں لگائیں گے۔  اس سنگین اور افسوسناک سانحہ کا یہ پہلو بلاشبہ مضحکہ خیز اور بچگانہ لگتا ہے لیکن اس معاملہ کو قریب سے دیکھنے والے  تصدیق کرسکتے ہیں کہ معاہدہ  پر اتفاق کے باوجود اس کا اعلان نہ کرنے کی وجہ کریڈٹ لینے کا تنازعہ ہے۔ فی الوقت کوئی بھی یہ کریڈٹ شئیر کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

ایسے میں دیکھنا چاہئے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ کی نوعیت کیا ہے۔ امریکہ نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے آبنائے ہرمز کا بلاکیڈ کیا ہؤا ہے اور ایران امریکہ کے ساتھ بات چیت میں اپنی اہمیت نمایاں کرنے  کے لیے آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت روکنے کا اعلان کرتا ہے۔ اس  کامطالبہ ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے جانے والے تمام جہاز ایرانی حکام سے اجازت لیں اور  اس کا عوضانہ ادا کریں۔  دوسری طرف امریکہ نے یہ جنگ ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے شروع کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا۔ ایران کسی حد تک یہ مطالبہ  2016 کے جوہری معاہدے میں تسلیم کرچکا تھا ۔ اس کے علاوہ  موجودہ جنگ شروع ہونے سے پہلے عمان کے تعاون سے دونوں ملکوں کے درمیان جو مذاکرات ہورہے تھے، ان میں اس معاملہ پر تقریباً اتفاق رائے پیدا ہوچکا تھا۔ ایرانی لیڈروں کے متعدد بیانات اس حقیقت کی تصدیق کے طور پر پیش کیے جاسکتے ہیں۔ جہاں تک آبنائے ہرمز  کا تعلق ہے وہ ہمیشہ سے بین الاقوامی سمندر کے طور پر تسلیم  کی  گئی تھی اور ایران نے کبھی اس پر اپنے اختیار کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ لیکن امریکی حملے کے رد عمل میں ایران نے اس آبی راستے پر  دعویٰ شروع کیا۔ بظاہر وہ اس سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہیں ہے۔

تایہم اس حوالے سے یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ آبنائے ہرمز کے متاثرین میں  امریکہ سر فہرست نہیں ہے۔ وہ اس راستے سے مال و اسباب یاتیل حاصل  کرنے کا محتاج نہیں۔ دوسری طرف چین، انڈیا، ایشیا کے بیشتر ممالک اور یورپی ممالک کے لیے  اس راستے سے ہونے والی سپلائی بے حد اہم ہے۔   یہ  سمندری  راستہ تیل پیدا کرنے والے خلیجی ممالک کے تیل کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس کے علاوہ اس گزرگاہ پر  ایرانی دسترس کا دعویٰ اگر امریکہ قبول کربھی لے تو اس کے ہمسایہ عرب  ممالک کو کبھی یہ  یک طرفہ فیصلہ قبول نہیں ہوگا۔  گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ایرانی پالیسیوں اور دوران جنگ عرب ممالک کو نشانہ بنانے  کی حکمت عملی کی وجہ سے اب تہران حکومت پر رہا سہا اعتماد بھی ختم ہوچکا ہے۔ عرب ممالک کے لیے آبنائے ہرمز کو ایرانی کنٹرول میں دینے کا اصول کسی صورت  گوارانہیں ہوگا۔ اس لیے  اگر امریکہ اس ایرانی ضد کو تسلیم بھی کرلے تو بھی اس  ایرانی ہتھکنڈے کی وجہ سے علاقے میں ایک نئی جنگ کا خطرہ موجود رہے گا۔

اس وقت متفقہ یادداشت کے بارے میں جو معلومات دستیاب ہیں، ان  سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ ایران اور امریکہ آبنائے ہرمز کو جنگ سے پہلے والی  پوزیشن پر بحال کرنے پر متفق ہیں۔ ایران اس کے عوض اپنے منجمد اثاثوں میں سے خطیر رقم ریلیز کرنے کا مطالبہ کررہا تھا جو شروع میں امریکہ نے قبول نہیں کیا۔ تاہم حتمی مسودہ میں اس رقم میں سے 12 ارب ڈالر فوری طور سے ایران کو دینے  پر اتفاق کی خبریں سامنے آچکی ہیں۔   امریکہ ایران کا بلاکیڈ  ختم کرنے اور جوہری ہتھیاروں پر حتمی معاہدے کے لیے دوسرے مرحلے میں اتفاق رائے پر بھی راضی ہے۔ اس کے باوجود تہران کی طرف سے مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس کے جوہری ہتھیاروں کا معاملہ موضوع بحث ہی نہیں۔ حالانکہ یہ سارا تنازعہ ایران کے جوہری پروگرام ہی کی وجہ سے شروع ہؤا تھا۔

قصہ مختصر آبنائے ہرمز کو غیر مشروط کھولنا ، جوہری پروگرام پر پابندی  اور افزودہ یورینیم کو تباہ کرنے پر حتمی اتفاق رائے امریکہ کی ریڈ لائنز ہیں۔ ایران اس کے بدلے معاشی پابندیاں ختم کرانے اور منجمد اثاثے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کو اصولی طور سے اس پر  اختلاف تو نہیں ہے لیکن جیسے ایران اس مرحلے پر جوہری ہتھیاروں کے بارے میں کوئی حتمی وعدہ کرنے سے گریز کررہا ہے، اسی طرح امریکہ بھی معاشی پابندیاں اٹھانے پر راضی تو ہے لیکن جب تک  حتمی امن معاہدہ طے نہ ہوجائے ، وہ اس کا اعلان کرنے پر آمادہ نہیں۔

امن یادداشت کے بارے میں ایران اصولی طور سے امریکہ کے ساتھ متفق ہوچکا ہے لیکن ’جنگ کا فاتح‘ کہلانے کے شوق نے شاید فیصلہ سازوں کے ہاتھ اور پاؤں باندھے ہوئے ہیں۔ البتہ ایرانی لیڈروں کو یہ سوچنا چاہئے کہ یہ غیر یقینی اگر ایک بار پھر کسی تصادم کی صورت اختیار کرتی ہے تو اس میں  کس کو زیادہ تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا؟