زندگی کی شام ہوگئی!

سوشل میڈیا پر دھوم مچائے رکھنے والے شاعر بشیر بدر پرسوں بھوپال ( بھارت کا شہر) میں انتقال کرگئے۔ ان کی وفات کی خبر نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا ۔ اپنی مشہوری کے خواہاں موقع پرست لوگوں نے موقع غنیمت جانا اور ان کے اشعار ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنی والز پر چسپاں کئے اور خوب لائکس بٹورے ۔

سستی شہرت اسے ہی کہتے ہیں کہ اپنے پلے کچھ بھی نہ ہو تب بھی اپنی چالاکی اور ہنر مندی سے مشہور آدمی کا بے روح جسد خاکی بیچ کر ڈالر کھرے کرو ۔ بے بسی لاچارگی میں سسک سسک کر زیست کرنے والے کو سانس چلتے رہنے تک پوچھو نہیں اور جونہی اس کے سانسوں کی ڈوری ٹوٹے فوراً  آگے بڑھ کر سوشل میڈیا پر اپنی اپنی وال اس کی ماتمی" پھوہڑی " بنا کر نام نہاد سوگواران کو جمع کر کے رنگ بازی کا طوفان بپا کر دو ۔

خبریں ہیں کہ بشیر بدر کے جنازے میں شرکت کرنے والے گنتی کے افراد کی تعداد مرحوم کے شایان شان نہیں تھی۔ ان میں سے بھی آدھے ان کے وہ محلے دار تھے جنہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کے پڑوس میں مرنے والا کون تھا ۔ وہ تو محض انسانی ہمدردی کے تحت محلے داری کا قرض چکانے آگئے تھے۔ اس خبر سے مجھے اسی شہر لاہور میں جسے پوری دنیا میں اردو ادب کا مرکز مانا جاتا ہے ، مرنے والے کچھ بڑے نامور ادیبوں شاعروں کے جنازے یاد آگئے ۔ اسلم کولسری صاحب کے ذاتی حالات اور جنازے کی صورت حال بشیر بدر مرحوم کے ساتھ بہت مماثلت رکھتی ہے ۔ اسلم کولسری نہ صرف عمدہ شاعر اور بہترین براڈ کاسٹر تھے بلکہ ان کی گفتگو اور ترنم بھی کمال کا تھا ۔ اپنی شخصیت کے حوالے سے وہ بہت اعلیٰ درجے کے نہایت پیارے انسان تھے ۔ شوبز کے شعبے سے وابستہ ہونے کے باوجود اپنی درویش طبع کے باعث ردائے بے نیازی اوڑھے مست الست رہتے تھے ۔ بڑے بڑے نامور بارسوخ لوگوں کے فن شاعری کے استاد ہوتے ہوئے بھی راز داری ان کا شریفانہ طور تھا جس کا بہت سے لوگوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا ۔

یادش بخیر اسی لاہور میں ماضی کے ایک درویش شاعر ساغر صدیقی کا انتقال ہوا تھا تو واقفان حال نے کہا تھا کہ ساغر کے مرتے ہی بہت سے متشاعر بھی فوت ہو گئے تھے۔ اسی طرح کا معاملہ اسلم کولسری کے ساتھ تھا ۔ کئی نامی گرامی بیوروکریٹ ان سے "اصلاح" کے نام پر اوٹ پٹانگ غزلوں کو ادبی شاہکار بنوا کر مارکیٹ میں دام کھرے کرتے۔ جبکہ اسلم کولسری صاحب درویشانہ ترنگ میں کسی کو کچھ نہیں کہتے تھے ۔ آخری عمر میں دنیا اخبار میں محترم فیض بخش کے ساتھ ادارتی شعبے سے وابستہ رہے اور یہیں سے وہ بیمار ہو کر گھر تک محدود ہو کر رہ گئے۔ اس دوران نہ اخبار والوں نے پوچھا نہ حلقہ احباب میں سے کسی نے ان کی خیریت دریافت کی ۔ اور جس روز دنیا سے سدھارے تو اڑوس پڑوس میں سے کسی کو پتہ تک نہیں تھا کہ ان کی گلی کے کونے میں چھوٹے سے گھر میں رہنے والا چپ چاپ سا وہ شخص کون تھا ۔ مجھ سمیت ان کے گھر سے چند قدم ساتھ چل کر باہر پٹرول پمپ تک آنے والے ہم دس پندرہ لوگوں نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھ کر میت اوکاڑہ روانہ کی اور بس ۔ اور بہادر شاہ ظفر کا یہ شعر گنگناتے ہوئے کف افسوس ملنے پر مجبور تھے:
ہوئے مر کے کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کہیں جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

اسی طرح روحی کنجاہی مرحوم کے ساتھ ہؤا ۔ ان کا یہ مصرع پوری معنویت کے ساتھ سامنے آیا "حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی" کہ جب روحی کنجاہی بھی کسمپرسی کی زندگی گزار کر فوت ہوئے تو پیارے صاحب ناصر بشیر کی کاوشوں سے ان کے جنازے میں شرکت کیلئے آ نے والے گنتی کے لوگ تھے ۔ اپنی وضع کے منفرد شاعر زاہد ڈار کی وفات پر بھی گنتی کے افراد موجود تھے ۔ سب سے مایوس کن حاضری ملک کے معروف ناول نگار عبداللہ حسین کے جنازے پر تھی جس میں مبینہ طور پر کرائے کے مزدور بلا کر جنازہ قبر تک پہنچایا گیا کہ ان کے واحد سوگوار دوست مستنصر حسین تارڑ بوڑھے تھے اور کسی کو سہارا دینے سے قاصر تھے ۔۔ ملک کی معروف شاعرہ فہمیدہ ریاض بھی لاہور میں ہی کسی ملنے والے کے یہاں مختصر قیام کے دوران فوت ہوئیں تو کسی کو ان کے جنازے کی خبر تک نہ ملی اور انہیں گنتی کے چند لوگوں نے دفنایا ۔

در اصل دستور زمانہ ہے کہ سماجی مرتبہ اور مقام ہی لوگوں کے جنازے چھوٹے ، بڑے کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔ پنجابی زبان کے ایک شاعر تھے حسین شاد ۔ خود تو کسی صوبائی محکمے میں معمولی اہلکار تھے مگر ان کا لائق فائق بیٹا مقابلے کا امتحان پاس کرکے سول سیکرٹریٹ میں اعلی عہدے پر لگ گیا ۔ ان کے جنازے میں شرکا کی تعداد سینکڑوں میں تھی ۔ اشفاق احمد مرحوم یا احمد ندیم قاسمی جیسے بڑے لوگوں کے جنازے اس لئے بھی بڑے تھے کہ ان میں شریک ہونے والے لوگوں کی اکثریت نے جنازے میں شریک معروف علمی ادبی شخصیات کے ساتھ تصویریں بنوا کر اپنا پروفائل بنانا تھا ۔

آج بھی لاہور شہر میں کچھ اہم شاعر و ادیب سماجی مقام و مرتبہ نہ ہونے کے باعث نظر انداز ہوئے گوشہ تنہائی میں بیٹھے ہیں۔ انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ۔ برادرم ناصر بشیر واحد معروف شاعر ہیں جو نہ صرف خود ایسے گم گشتہ لوگوں کی خبر گیری کرتے رہتے ہیں اور عطا الحق قاسمی و مجیب الرحمٰن شامی جیسی درد دل رکھنے والی بڑی شخصیات کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات سے ان کی دستگیری کا سامان کرتے رہتے ہیں ۔ ان کے علاوہ محترم حسین مجروح اور عامر فراز بھی خدائی خدمت گار کے طور پر معروف ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان جیسے درد دل رکھنے والے حضرات کو شاد و آباد رکھے ۔

بشیر بدر جیسے معروف شعرا کا انجام دل دہلا دینے والا بھی اور اس میں عقل والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں اور ایک نشانی کے طور پر یاد آ رہے ہیں محترم المقام سید سلمان گیلانی علیہ رحمہ ۔ اپنی بذلہ سنجی اور شگفتگی کے باعث عامتہ الناس میں مزاحیہ شاعر کے طور پر جانے جاتے تھے مگر ان کا اصل میدان نعت گوئی تھا جو انہیں اپنے والد حضرت سید امین گیلانی رحمتہ اللہ سے ودیعت ہؤا تھا ۔ دونوں باپ بیٹا مجاہدین ختم نبوت تھے اور اسی نسبت نے انہیں قبول عام کے درجے پر فائز کر رکھا تھا ۔ سلمان گیلانی واصل حق ہوئے تو ان کا جنازہ ایک شاعر سے زیادہ مجاہد ختم نبوت اور عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ تھا جس میں محبان رسول جوق در جوق حاضری کی سعادت حاصل کرنے کیلئے تشریف لائے تھے ۔

کیا ہمارے شعرا کرام بشیر بدر جیسے شاعروں کے سفر آخرت کی حالت زار پر افسردہ و آزردہ خاطر ہوئے ان کے اسباب و عوامل پر غور کی زحمت فرمائیں گے ۔ فاعتبرو یا اولی الابصار۔