وزیراعظم سے ملاقات

عید کے تیسرے روز وزیراعظم شہباز شریف سے اُن کی رہائش گاہ (ماڈل ٹاؤن لاہور) میں ملاقات ہوئی تو وہ اپنے دورہ چین کے حوالے سے  پُرجوش تھے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے امکانات کا تفصیل سے ذکر ہوا۔انہیں اُمید تھی کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں میں نئی وسعت آئے گی، اور دوطرفہ تعاون نئی بلندیوں کو چھونے لگے گا۔

وزیراعظم نے ہانگزو میں معروف چینی کمپنی  علی بابا کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ بھی کیا تھا۔ ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لئے وہ پُرعزم تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی پچھترویں سالگرہ کی تقریبات میں بھی انہوں نے شرکت کی اور چین کے اعلیٰ ترین رہنماؤں سے عالمی اور علاقائی امور پر نتیجہ خیز تبادلہ خیالات کیا۔ وزیراعظم کے ہمراہ ایک بڑا  وفد تھا، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران سے براہِ راست وہاں پہنچے اور چینی قیادت سے مشاورت میں شریک ہو گئے۔ فیلڈ مارشل کو بھی وہاں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ چینی نگاہوں  کا وہ خصوصی مرکز تھے۔

امریکہ کے صدر ٹرمپ اور روس کے صدر پیوٹن چند ہی روز پہلے چین کا دورہ کر چکے تھے۔ وزیراعظم وہاں پہنچے تو مبصرین ان کے دورے کا موازنہ ان سے پہلے ہونے والے دوروں سے کرتے رہے۔امریکہ اور چین بڑی طاقتیں ہیں، پاکستان عالمی منظر نامے میں ان کی ہمسری کا دعویٰ تو نہیں رکھتا،لیکن اس کا اپنا تشخص اور کردار ہے۔ اس نے کئی بار عالمی سیاست کا رُخ بدلا ہے۔ چین کے ساتھ اُس کے تعلقات ہموار رہے ہیں،ہر آنے والے دن نے ان میں نئی وسعت اور نئی گہرائی دیکھی ہے۔ سوویت یونین کے ساتھ چین کا نظریاتی اشتراک تھا، سوویت یونین اشتراکی دنیا کا امام تھا، چین میں سرخ انقلاب بعد میں آیا، لیکن اختلافات پیدا ہوئے تودونوں ایک دوسرے کے حریف سمجھے جانے لگے۔افغانستان میں سوویت فوجیں داخل ہوئیں تو چین نے بھی انہیں واپس دھکیلنے میں سرگرم کردار ادا کیا۔

امریکہ کے ساتھ اُس کے تعلقات تو ابتدا ہی سے حریفانہ تھے۔امریکہ چیانگ کائی شیک کا اتحادی اور پشتیبان تھا۔ وہ تائیوان تک محدود ہو گئے تو امریکہ نے تائیوان ہی کو چین قرار دے لیا۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں وہ چین بن کر بیٹھا اور ویٹو پاور استعمال کرتا رہا۔ امریکہ کو چینی قیادت ”کاغذی شیر“ قرار دیتی تھی اور جس ملک کے ساتھ چین کے تعلقات استوار ہوتے تھے، وہ امریکہ کے دِل کا کانٹا بن جاتا تھا۔پاکستان کا شمار جب امریکہ کے باقاعدہ اتحادیوں میں ہوتا تھا،سیٹو اور سینٹو نے دونوں کو آپس میں باندھ رکھا تھا،اس وقت بھی پاکستان نے چین کے معاملے میں امریکی موقف کی ہم نوائی نہیں کی۔ تائیوان کو چین کا نمائندہ ماننے سے انکار کیا،عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے۔ اقوام متحدہ کی رکنیت کے حصول میں اس کا ساتھ دیتا رہا۔ چین کے ساتھ سرحدی سمجھوتہ کیا، پاک چین سرحد دوستی اور اَمن کی لکیر میں تبدیل ہو گئی۔ ان دِنوں پی آئی اے بیرونی دنیا سے چین  کے رابطے کا واحد ذریعہ تھی۔ حالات بدلے تو چین اور امریکہ کے درمیان رابطہ کاری میں پاکستان نے بنیادی کردار ادا کیا۔ ہنری کسنجر پاکستان ہی کے راستے (خفیہ طور پر) چین پہنچے اور دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ تعلق قائم ہوا۔

بعدازاں صدر نکسن کے دورے نے عالمی منظر نامہ تبدیل کر کے رکھ دیا۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات میں کبھی تلخی پیدا نہیں ہوئی۔دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ احترام کا رشتہ برقرار رکھا، چین بھارت جنگ کے بعد دونوں کے تعلق میں نئی وسعت دیکھنے میں آئی۔1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران چین نے پاکستان کا جس طرح ساتھ دیا،اس نے تو پاکستانیوں کے دِل موہ لیے۔آج بھی چیئرمین ماؤزے تنگ، وزیراعظم چو این لائی اور وزیر خارجہ چن ژی کو پاکستان کے گھر گھر میں یاد کیا جاتا ہے، چن ژی کو تو لوگ پیار سے ”چن جی“ کہہ کر پکارنے لگے تھے۔ جب وزیراعظم چو این لائی اور وزیر خارجہ چن ژی (جنگ کے بعد) پاکستان کے دورے پر آئے تو لاکھوں لاہوریوں نے سڑکوں پر نکل کر ان کے حق میں پُرجوش نعرے لگائے، پاک چین تعلق کو حکومتی سے عوامی بنا دیا۔ سعودی عرب اور ترکیہ کی طرح چین بھی دِلوں میں گھر کر گیا۔ چین کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف جذباتی ہو گئے،عمران خان حکومت کی کوتاہیوں کا ذکر آیا لیکن پھر انہوں نے ماضی کے بجائے مستقبل کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ انہیں یقین تھا کہ پاکستان کو معاشی استحکام دینے میں چین کی معاونت موثر اور نتیجہ خیز ہو گی۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف کے زیر قیادت پاکستان نے دفاعی اور سفارتی محاذ پر نئی بلندیوں کو چھوا ہے۔گزشتہ سال بھارت نے پاکستان پر جو چڑھائی کی، وہ وزیراعظم  نریندر مودی کی سیاسی زندگی کی سب سے بڑی حماقت ثابت ہوئی۔پاکستان کی مسلح افواج نے حملہ آور کے جس طرح دانت کھٹے کیے،اس نے بھارت کا قد چھوٹا اور پاکستان کا بڑا ہی نہیں بہت بڑا کر دیا۔پہلگام میں دہشت گردی کو بنیاد بنا کر بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس سانحے کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کر کے بھارتی قیادت کو بوکھلا دیا۔ وہ خود ہی مدعی، اور خود ہی مصنف بننے پر مصر رہی، پاکستان کے بیانے نے دنیا بھر کو اپنی طرف متوجہ کیا، اور اپنی اصابت کا قائل کر لیا۔ جنگ کے بعد امریکی صدر ٹرمپ سے جس طرح معاملہ کیا گیا اس نے بھی پاکستان کو نئی توانائی دی۔غزہ کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لئے ادا کیے جانے والے کردارنے بھی ہماری قیادت کی صلاحیت کو منوایا۔ سعودی عرب سے پاکستان کے دفاعی معاہدے نے پاکستان کے دائرہ کار کو نئی جہت سے آگے بڑھایا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ وزیراعظم نے مثالی تعلقات برقرار رکھے۔ دونوں ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں اور پاکستان کو نئی رفعتوں سے آشنا کر رہے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ فوجی اور سول قیادت کے درمیان کشمکش اور اس کے منفی اثرات سے بھری ہوئی ہے لیکن وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی ذات کو اپنی نگاہ سے جس طرح اُوجھل کر رکھا ہے، اس نے پاکستانی سیاست کو نیا رُخ دے دیا ہے۔پاکستان طاقتور فوج کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور طاقتور  سیاسی اداروں کے بغیر بھی زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔سیاسی اور فوجی قیادت نے ایک دوسرے سے اُلجھ کر بہت نقصان اٹھایا اور پہنچایا ہے۔اب ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر پیش قدمی کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اپنی حکمت عملی پر اپنے رَب کے حضور شکر گزار تھے اور ان کے سامعین بھی حروفِ تحسین پیش کرنے میں بخل سے کام نہیں لے رہے تھے۔ برادرم سلمان غنی اور عزیزانِ عمر شامی اور عثمان شامی کے ساتھ گھنٹہ بھر جاری رہنے والی ملاقات کے دوران مستقبل نکھر کر سامنے آ رہا تھا۔

 پاکستان کو معاشی طاقت بنانے اور پاکستانی عوام کو آسانیاں فراہم کرنے،ان کے اندر اُلجھاؤ کم کرنے اور حریفانِ سیاست کے ساتھ فراخدلانہ معاملہ سازی کے عزم میں سب برابر کے شریک رہیں تو پاکستان کو آگے بڑھنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ شہباز کی پرواز نئے آسمانوں  کو چھو سکتی  ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)