امریکہ کے ساتھ جنگ بندی میں لبنان میں جنگ کا خاتمہ بھی شامل ہے: ایران

  • سوموار 01 / جون / 2026

ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی بلاامتیاز تمام محاذوں پر ایک مکمل جنگ بندی ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ ’کسی ایک محاذ پر اس کی خلاف ورزی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی اور کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کے ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہوں گے۔

دوسری طرف یو ایس سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات 11 بجے امریکی افواج نے کویت میں تعینات امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے ایران کے دو بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے روک لیا۔ ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان میزائلوں کو فوری طور پر ناکام بنا دیا گیا اور کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یو ایس سینٹرل کمانڈ چوکس ہے اور ایران کی جارحیت سے اپنی افواج کا تحفظ کرتے ہوئے جنگ بندی کی برقرار رکھنے میں تعاون جاری رکھے گی۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا آغاز ’شدید شکوک و شبہات اور بداعتمادی‘ کے ماحول میں ہوا تھا اور پیغامات کا تبادلہ اب بھی اسی فضا میں جاری ہے۔

سوموار کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے امریکہ پر مذاکراتی عمل کو طول دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن مسلسل اپنے مؤقف میں تبدیلی اور متضاد و مختلف میڈیا پیغامات کے ذریعے اس عمل کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔ انہوں زور دیا کہ ’مذاکرات یا سفارت کاری بذاتِ خود فریقین کے درمیان اعتماد کی علامت یا اس کا نتیجہ نہیں ہوتے۔

اسماعیل بقائی نے بتایا کہ واشنگٹن کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے تاہم جنگ بندی کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ اور حملوں کے واقعات جاری ہیں، جن میں حالیہ ہفتوں کے دوران اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔