پاکستان کا انکار

راقم  ہمیشہ اس بات کا حامی رہا ہے کہ پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔ لیکن غزہ والے معاملے کے بعد راقم سمیت اس رائے کے حامل لوگوں کا مؤقف کمزور ہوا ہے ۔

ہمارے ہاں قائداعظم کے مؤقف کا حوالہ دے کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار نہ کرنے کا جواز پیش کیا جاتا ہے، جس سے راقم متفق نہیں ۔ قائداعظم نے جو کہا وہ 80 سال پہلے کے حالات کے مطابق کہا ۔ اور قائداعظم کا فرمایا کوئی وحی کا پیغام نہیں ۔ جس میں تبدیلی نہ کی جاسکتی ہو۔ ایک سیاستدان نے اُس وقت کے حالات کے مطابق ایک فیصلہ کیا جو ضروری نہیں کہ قیامت تک نافذالعمل رہے۔ اس لیے قائداعظم کا کہا بطور استدلال استعمال نہیں کیا جا سکتا۔  ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور قوموں کو انہیں مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی پالیسیاں ترتیب دینی پڑتی ہیں ۔

جہاں تک فلسطینیوں کی بات ہے ان پہ کیے جانے والے مظالم انتہائی قابل مذمت ہیں ۔ ساری دُنیا ان کی مذمت کرتی ہے۔ اور کرنی بھی چاہئے ۔ ان مظالم کے خلاف آواز اُٹھانا انسانیت کا تقاضہ ہے۔ لیکن فلسطینی قیادت ہمیشہ بھارت کے قریب رہی ۔ یاسر عرفات بھارت سے ایوارڈ وصول کرتے رہے ۔ اس کے بعد آنے والی قیادتیں بھی اسی حکمت عملی پہ عمل پیرا رہیں ۔ اور ہمارا اسرائیل سے براہ راست کوئی تنازعہ نہیں ۔ قائداعظم کا فرمان بھی مسئلہ فلسطین کے تناظر میں تھا۔
چند روز قبل امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان ، سعودی عرب وغیرہ سے  ابراہم اکارڈ میں شمولیت کا جو مطالبہ کیا، اس نے پاکستان کے لیے ایک مشکل صورت حال پیدا کر دی ۔ اس وقت اسرائیل کو تسلیم کرنا اور سفارتی تعلقات قائم کرنا فلسطینیوں کی نسل کُشی کی حمایت متصور ہوتا۔ جو نہ تو پاکستانی عوام قبول کرتے اور نہ انصاف پسند اقوام ۔ لہذا حکومت پاکستان امریکہ کو absolutely not کہہ کے درست فیصلہ کیا ہے۔ یہ پاکستانی وزیرخارجہ نے امریکہ میں بیٹھ کے امریکی عہدیداروں کے سامنے کیا ہے۔ ہوسکتا ہے اس وقت پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہوں لیکن فی الحال ابراہم اکارڈ میں جانے سے زیادہ نقصان ہوگا۔

پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل بھی ایسے ہوچُکا ہے کہ پاکستانی حکومت نے امریکہ کو انکار کیا ہو۔ ذوالفقار علی بھٹو کے انکار سے تو تمام عالم واقف ہے۔ اس انکار کی بنا پہ بھٹو صاحب کو واقعی خوفناک مثال بنا دیا گیا۔ اس کے بعد جنرل ضیاالحق نے بھی ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں امریکہ کو مسلسل انکار کیا۔ ایٹمی دھماکوں سے پہلے نوازشریف پہ کلنٹن انتظامیہ نے بہت دباؤ ڈالا کہ دھماکے نہ کیے جائیں ۔ لیکن نوازشریف نے بھی انکار کیا۔ ان تمام مواقع پہ انکار پاکستان کے مفاد میں تھا۔ لہذا فوجی اور سِول دونوں حکمرانوں نے انکار کیا۔ اور راقم کی رائے میں درست کیا۔

 دوسری طرف نائن الیون کے بعد جب جنرل مشرف کو صدر بُش کا فون آیا تو جنرل مشرف نے ہاں کر دی۔ تب “ہاں” پاکستان کے مفاد میں تھی۔ کیونکہ اُس وقت جس طرح امریکہ اور نیٹو بپھرے ہوئے تھے ۔ اور ساری دُنیا ایک طرف تھی پاکستان کے لیے امریکہ اور ساری دُنیا سے ٹکر لینا خود کُشی کے مترادف ہوتا۔ لہذا جنرل مشرف کے لیے کوئی اور آپشن نہیں تھا۔ جذباتی باتیں کرنا اور بھڑکیں مارنا بہت آسان ہے لیکن ایسی مشکل صورت حال سے نبرد آزما ہونا الگ بات ہے۔ جنرل مشرف نے بعد میں جو غلط پالیسیاں اپنائیں اور ملک کو نقصان پہنچایا، وہ ایک الگ کہانی ہے۔ لہذا “ہاں” کرنی ہے یا “نہ” یہ وقت ، حالات اور مفادات طے کرتے ہیں ۔

لیکن سب سے زیادہ عمران خان کا absolutely not مشہور ہوا۔ واقعہ یوں تھا کہ ایک امریکی صحافی نے دوران انٹرویو عمران خان سے پوچھا کہ وہ امریکہ کو اڈے دیں گے؟ تو عمران خان نے جواب دیا کہ “ہرگز نہیں”۔ اس پہ عمران خان کی بہادری کے وہ نغمے گائے گئے اور وہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ خُدا کی پناہ۔ لیکن عمران خان کی اپنی حکومت کے سیکیورٹی مُشیر مُعید یُوسف نے کہا کہ امریکہ نے تو اڈے مانگے ہی نہیں تھے۔ یعنی امریکہ نے ایسی کوئی درخواست دی ہی نہیں تھی ۔ ایک صحافی کے سوال پہ ہوائی بیانیہ بنا کے پروپیگنڈا کیا گیا ۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ کو واقعی اڈوں کی ضرورت ہوتی تو کیا عمران خان انکار سکتے تھے؟ وہ تو خود فرماتے ہیں کہ جنرل باجوہ کنگ تھے اور سارے فیصلے کرتے تھے۔ تو پھر خان صاحب کے پاس تو انکار یا اقرار کا اختیار ہی نہیں تھا۔ تاریخی طور پہ “ہاں” اور “نہ” کے درمیان جھولتے پاک امریکہ تعلقات مستقبل قریب میں کیا رُخ اختیار کرتے ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائےگا۔