آئندہ ہفتے ایران سے معاہدہ ہوجائے گا، جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یقین ہے آئندہ ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ معاہدہ ہوجائے گا، معاہدے کے تحت جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی۔امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ آمدورفت کیلئے کھول دیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا ایران نے امریکا کو جنگ بندی پیغامات کا تبادلہ روکنے سے مطلع نہیں کیا۔ پیغامات میں تعطل کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا پھر ایران پر بم گرانا شروع کر دے گا۔جنگ بندی پیغامات کا تبادلہ روکنے کے ایرانی فیصلے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، اس وقت کا انتظار کریں گے جب ایران امریکی شرائط پر ڈیل کیلئے تیار ہوگا۔ ہم خاموش رہیں گے، ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھیں گے۔
امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی کے سینیئر صحافی جوناتھن کارل سے ٹیلی فونک گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’صورتحال اچھی لگ رہی ہے، بہت اچھی۔ آج ایک چھوٹا سا مسئلہ پیش آیا، لیکن جیسا کہ آپ نے دیکھا ہی ہو گا، میں نے اسے بہت جلد حل کر دیا‘۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ لبنان میں اسرائیلی حملوں پر ایرانی ناراضی کے باعث پیدا ہوا تھا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ’میں نے حزب اللہ سے بات کی اور کہا کہ فائرنگ نہ کریں۔ میں نے بی بی (بنیامین نیتن یاہو، اسرائیلی وزیر اعظم) سے بھی بات کی اور کہا کہ فائرنگ نہ کریں۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ بند کر دی۔‘ یہ کوئی آسان معاملہ نہیں ہے۔ آپ ایک بہت بڑے ملک کی بات کر رہے ہیں جو ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ بہت گہری دشمنیاں موجود ہیں، اس لیے یہ ان کے لیے بھی آسان نہیں اور ہمارے لیے بھی نہیں۔ لیکن ہم اس طرف بڑھ رہے ہیں جو ہمیں درکار ہے۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کے حتمی ہونے اور دستخط کے وقت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ اگلے ہفتے تک ہو جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ابھی تک اس معاہدے کو منظور نہیں کیا کیونکہ ان کے بقول ’ابھی چند مزید نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے‘۔
دریں اثنا فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ لبنان کے اندر اسرائیلی افواج کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔ بی بی سی فارسی کے مطابق فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ’کوئی بھی چیز لبنان کے اندر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تسلسل اور طویل المدتی قبضے کا جواز فراہم نہیں کر سکتی۔‘ اتوار کو اسرائیلی افواج نے قلعہ شقیف (بیوفورٹ) پر قبضہ کر لیا تھا۔
ایران کا کہنا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط ہے۔