پروفیسر محی الدین پیرزادہ، عدم برداشت کا نیا شکار

اچانک کوئی اندوہناک خبر ملے تو دل کی حالت ایک گولی لگنے سے تڑپتے ہوئے پرندے جیسی ہوتی ہے۔ کل شام پروفیسر نعیم اشرف نے فون کیا تو ان کی آواز میں لرزش اور کرب تھا۔ انہوں نے پوچھا، یار پروفیسر محی الدین پیرزادہ کے بارے میں خبر کا علم ہوا ہے۔

 میں نے کہا نہیں، کیا ہوا انہیں،نعیم اشرف کی آواز مزید بھرا گئی، یار کسی نے انہیں گولی مار کے جان لے لی ہے۔ یہ سنتے ہی میں سکتے میں آ گیا۔ ایک بھلے مانس شخص کو جو بولتے ہوئے آواز بھی دھیمی رکھتا تھا۔ منکسرالمزاج اور مرنجاں مرنج انسان کو کسی نے گولی مار دی۔ یہ تو ناقابلِ یقین خبر تھی، چونکہ میرا گھر پروفیسر محی الدین پیرزادہ کی رہائش گاہ سے زیادہ دور نہیں تھا، اس لئے میں نے نعیم اشرف کو کہا آپ فون بند کریں، میں دیکھ کر بتاتا ہوں۔ میں ویسٹرن فورٹ کالونی قاسم بیلہ کے گیٹ سے نکل کر دوسری طرف واقع ابراہیم  کالونی تک گیا، جہاں محی الدین پیرزادہ کا گھر تھا۔ تو معلوم ہوا واقعہ قادر پورراں میں واقع ان کے فارم ہاؤس پر پیش آیا ہے، پھر میں نے معاملے کی تفصیلات جمع کیں تو حیرانی ہوئی کہ کتنی معمولی سی بات پر ایک صاحبِ علم، صاحبِ مطالعہ، انسان دوست اور غریبوں،مستحقین کے کام آنے والے کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ میرے نزدیک یہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کا شاخسانہ ہے۔

 پروفیسر محی الدین پیرزادہ بہت سے دوسرے خاندانوں کی مدد اور انہیں معاشی ریلیف پہنچانے، ان کی بھی مدد و اعانت کررہے تھے جس کے ایک فرد نے اٹھ کر انہیں ہی اپنی جنونی سوچ کی نظر کر دیا۔ قاتل کا ایک بھائی پروفیسر محی الدین پیرزادہ کے پاس ملازم ہے جبکہ قاتل کی بیوی اور بیٹا بھی ان کے فارم ہاؤس اور گھر پر کام کرتے تھے۔ قاتل کی اپنی بیوی سے ناچاقی تھی، کیونکہ وہ اسے تشدد کا نشانہ بناتا تھا اور مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے جیل بھی جا چکا تھا۔ پروفیسر محی الدین اس گھرانے کے معاملات سلجھانے کی کوشش کررہے تھے لیکن ملزم نے بے صبری اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پروفیسر محی الدین اور اپنے سوتیلے بیٹے کو گولیاں مار کے ایک بڑے سانحے کو جنم دیا۔ مارنے والے ایک ان پڑھ اور جاہل ملزم کو یہ علم نہیں ہوتا کہ وہ جسے گولی کا نشانہ بنا رہا ہے، وہ معاشرے میں کتنا اہم اور کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ وہ اپنے غصے کی جبلت کے زیرِ اثر ایک ہیرے جیسے انسان کو موت کے گھاٹ اتار کر فرار ہو گیا۔جلد پکڑا جائے گا اور اپنے عبرتناک انجام سے بھی دوچار ہوگا لیکن اس سارے عمل سے پروفیسر محی الدین پیرزادہ جیسا ایک ہمدرد انسان اور اردو ادب سے محبت کرنے والا عاشق واپس نہیں آسکے گا۔

پروفیسر محی الدین پیرزادہ کے انتقال کی خبر ملتان کے تعلیمی اور ادبی حلقوں میں بڑے دکھ کے ساتھ سنی گئی۔ وہ اردو کے استاد تھے اور ادب سے انہیں گہرا شغف تھا ۔انہیں کتابیں پڑھنے کا شوق تھا اور ہر اچھی کتاب ان کی کمزوری تھی۔ دیہی پس منظر رکھنے کے باوجود وہ ادب سے جڑے ہوئے تھے۔ زراعت ان کا دوسرا عشق تھا۔ وہ ترقی پسند کاشتکار تھے۔ انہیں پھلوں سے گہری دلچسپی تھی۔ آم اور بلیک بیری کی فصل وہ خوب اُگاتے تھے ۔اس کی دیکھ بھال کرنا اور ایکسپورٹ کوالٹی کا حامل بنا دینا ،ان کا جنون تھا۔ انہیں گورنمنٹ ایمرسن کالج سے جو اب یونیورسٹی بن گیا ہے،گہرا عشق تھا۔ میں جب شعبہ اردو کا صدر تھا تو وہ ایک ہر دلعزیز استاد کی حیثیت سے اس شعبے میں موجود تھے۔ انہیں ملتان کے نوادرات اور اس کی تاریخی حیثیت سے بھی گہری دلچسپی تھی، ایسی جگہوں پر ضرور جاتے تھے جہاں ملتان کی دریافت کا کوئی حوالہ موجود ہو ۔انہو ں نے ملتان کے حوالے سے اپنی یادداشتیں لکھنا شروع کیں تو دیکھتے ہی مقبول عام ہو گئیں، اب وہ کتابی شکل میں شائع کرنا چاہتے تھے، لیکن ناگہانی موت نے انہیں مہلت نہ دی تاہم ان کے دوست احباب اس کتاب کو ضرور شائع کریں گے۔ کیونکہ اس میں بہت سی ایسی چیزیں موجود ہیں جو ملتان کی تہذیبی شناخت کو از سر نواجاگر کرتی ہیں۔

 ایمرسن کالج میں پروفیسر نعیم اشرف اور پروفیسر محی الدین پیرزادہ کی جوڑی ایک خاص وجہ سے مشہور تھی۔ یہ وجہ تھی مستحق طلبہ و طالبات کی مدد و اعانت کرنا، جونہی ان دونوں کو معلوم ہوتا کسی طالب علم کے پاس فیس دینے کے لئے پیسے نہیں تو یہ بڑھ کر اس کا مسئلہ حل کر دیتے۔ کسی کے پاس یونیفارم یا کتابوں کاپیوں کے لئے وسائل نہیں تو محی الدین پیرزادہ گویا اس کی تلاش میں ہوتے۔ یہی حال انہوں نے اپنے آبائی علاقے میں رکھا ہوا تھا۔ نجانے کتنے گھروں کا چولہا ان کی خاموشی سے کی گئی امداد پر جلتا تھا۔ ایک دن میں ان کے گھر گیا تو باہر عورتوں اور مردوں کا رش لگا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا پیر جی یہ کون لوگ ہیں، کہنے لگے بس اللہ انہیں بھیج دیتا ہے اور میں اس پر شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ میرے پاس بھیجتا ہے، وگرنہ کسی اور کے پاس بھی بھیج سکتا ہے۔ ہر ماہ ان کی امداد میرے ذمے ہے تاکہ ان کی زندگی بھی چلتی رہے۔ اس وقت مجھے محی الدین پیرزادہ ایک زمیندار یا استاد نہیں لگے بلکہ ایک پیر فقیر نظر آئے جو خلقِ خدا کے لئے اپنے دل کو کشادہ اور نرم رکھتا ہے انہیں قتل کرنے والے نے صرف انہی کی جان نہیں لی بلکہ ان لوگوں کے لئے بھی مشکلات کھڑی کر دی ہیں جو پیرزادہ کی سخاوت دریا دلی سے اپنی زندگی گزار رہے تھے۔

فی زمانہ ہم جس قسم کے حالات سے گزر رہے ہیں، اس میں عدم برداشت کا عنصر آسمان پر پہنچا ہوا ہے۔ حالات ایسے ہیں کہ انسان اردگرد سے بے خبر ہو کر اپنی ذات تک محدود ہے  مگر اس کا کیا کریں کہ جو اچھے انسان ہیں، درد مند دل رکھتے ہیں، وہ اس طرح لاتعلق ہو بھی نہیں سکتے۔ وہ لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں مگر اس عمل میں انہیں کسی شقی القلب کے ہاتھوں زندگی سے بھی محروم ہونا پڑتا ہے۔ جیسا کہ پیرزادہ محی الدین بھٹہ کے ساتھ ہوا۔ کئی بار پیرزادہ محی الدین بھٹہ سے اس موضوع پر گفتگو ہوتی تو ہم دوست انہیں مشورہ یہی دیتے کہ اپنے کام سے کام رکھیں اور دوسروں کا درد اپنے اندر نہ پالیں مگر وہ کہتے بھائیو، کیا میں جیتے جی بے حس ہو جاؤں۔ کوئی مدد کے لئے آئے تو اسے دھتکار دوں، کسی کی زندگی مشکل ہوگئی ہے تو اسے نکالنے کی کوشش نہ کروں۔ ایسی باتیں ہمیں لاجواب کر دیتیں۔

 ہم سوچتے یہ پیرزادہ کسی اور ہی مٹی سے بنا ہوا ہے۔ اس نے مدد کرنی ہی کرنی ہے۔ چاہے کسی طوفان کا ڈر ہی کیوں نہ ہو، ان کا آخری عمل بھی اس سوچ سے عبارت تھا یوں پیزادہ نے اپنی خو نہ چھوڑی دنیا چھوڑ دی۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)