پاکستان کے ائیرپورٹس مسافروں کے لیے مصیبت کیوں؟
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 02 / جون / 2026
گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کے مختلف ائیرپورٹس کے بارے میں مسلسل شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ مسافروں کو بلاوجہ پریشان کیا جاتا ہے اور بعض اوقات بغیر کسی معقول وجہ کے جہاز میں سوار ہونے سے بھی روک دیا جاتا ہے۔
راقم نے 1992 سے اب تک 36 مرتبہ پاکستانی ائیرپورٹس سے سفر کیا ہے، اس دوران چند مواقع پر متعلقہ عملے سے بحث و تکرار بھی ہوئی لیکن زیادہ تر کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ میں ہمیشہ اپنے سفر کو سو فیصد قانونی اور ضابطے کے مطابق رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں دنیا کے مختلف ممالک اور شہروں میں سفر کرتا رہا ہوں۔ روانگی سے پہلے سامان کا وزن گھر پر چیک کر لیتا ہوں، تقریباً ہمیشہ وقت پر ائیرپورٹ پہنچتا ہوں اور اپنی تمام سفری دستاویزات مکمل اور درست رکھتا ہوں۔ دنیا کے مختلف ائیرپورٹس پر میرا مشاہدہ یہ رہا ہے کہ کہیں بھی مسافروں کو بلاوجہ تنگ نہیں کیا جاتا۔ عملے کا رویہ عمومی طور پر خوش اخلاق، پیشہ ورانہ اور معاونت پر مبنی ہوتا ہے جبکہ معلوماتی ڈیسک پر ذمہ دار افراد موجود ہوتے ہیں جو مسافروں کی رہنمائی کرتے ہیں۔
ایک مرتبہ کویت ائیرپورٹ پر امیگریشن کے ایک اہلکار سے معمولی تلخ کلامی ہو گئی کیونکہ اس نے میری طرف دیکھے بغیر لاپرواہی سے جواب دیا۔ میں نے اسے کہا کہ میں ایک انسان ہوں، میری بات سنتے ہوئے میری طرف دیکھیں اور واضح طور پر بتائیں کہ مجھے کتنی دیر انتظار کرنا ہوگا۔ اس کے بعد اس کا رویہ فوراً بہتر ہو گیا۔ اسی طرح لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ پر ایک بار دو اہلکاروں نے مجھ سے پاسپورٹ طلب کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں برطانیہ میں داخل نہیں ہو رہا بلکہ ٹرانزٹ مسافر ہوں، اس لیے اس مقام پر میرے پاسپورٹ کی جانچ ضروری نہیں۔ جب انہوں نے اصرار کیا تو میں نے کہا کہ اگر آپ جہاز سے اترنے والے تمام 190 مسافروں کے پاسپورٹ چیک کرتے ہیں تو میرا بھی دیکھ لیں۔ لیکن اگر صرف پاکستانی ہونے کی بنیاد پر مجھ پر شک کیا جا رہا ہے تو میں اس رویے کو قبول نہیں کروں گا۔ اس کے بعد وہ پیچھے ہٹ گئے۔
اس کے برعکس پاکستان کے ائیرپورٹس پر میرا مشاہدہ یہ ہے کہ مسافروں کو اکثر کسی نہ کسی مرحلے پر غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کسٹم اہلکار بلاوجہ سامان کھلوانے پر اصرار کرتے ہیں، کبھی بورڈنگ کے وقت غیر ضروری سوالات کیے جاتے ہیں اور کبھی امیگریشن حکام مسافروں کو بغیر واضح وجہ کے روک لیتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں سینکڑوں مسافروں کو آف لوڈ کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں۔ ایک طالب علم کو محض اس بنیاد پر جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا کہ متعلقہ اہلکار کو اس ملک کا نام معلوم نہیں تھا جہاں وہ جا رہا تھا۔ چند روز قبل منڈی بہاؤالدین کے ایک شہری کو کیپ ٹاؤن جاتے ہوئے روک دیا گیا۔ اس نے شدید احتجاج کیا اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیو جاری کی معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد ایف آئی اے کے افسران اور وزیرِ داخلہ کو مداخلت کرنا پڑی۔ اور بالآخر اسے سفر کی اجازت دی گئی۔ لیکن اس دوران اس کی لاکھوں روپے مالیت کی ٹکٹ ضائع ہو گئی اور ذہنی اذیت الگ برداشت کرنا پڑی۔
میرے مشاہدے کے مطابق جنوبی افریقہ جانے والے مسافروں کو خصوصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور 90 فیصد مسافر رشوت دے کر جاتے ہیں۔ حکام اگر حقیقت جاننا چاہیں تو کسی بھی ائیرپورٹ پر جا کر خود دیکھ سکتے ہیں کہ ان مسافروں کے ساتھ کس نوعیت کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
2019 میں جب میں اسلام آباد سے یوہانسبرگ جا رہا تھا تو امیگریشن کے ایک افسر نے میرے پاسپورٹ کے چند صفحات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ خراب ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ انہی صفحات کے ساتھ میں کئی ممالک کا سفر کر چکا ہوں اور پہلی مرتبہ کسی نے اعتراض کیا ہے۔ میں نے مزید کہا کہ اگلی بار ناروے واپسی پر نیا پاسپورٹ بنوا لوں گا۔ جب وہ میرا پاسپورٹ لے کر اندر جانے لگا تو میں نے اسے روک کر کہا کہ پاسپورٹ حامل کی موجودگی کے بغیر کسی اور جگہ نہیں لے جایا جا سکتا۔ اگر کسی سینئر افسر کو دکھانا ہے تو یا مجھے ساتھ لے جائیں یا انہیں یہیں بلا لیں۔ اس کے بعد اس نے مجھے جانے کی اجازت دے دی۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جو لوگ ایجنٹوں کے ذریعے جعلی یا مشکوک دستاویزات کے ساتھ سفر کرتے ہیں، اکثر ان کے لیے راستے زیادہ آسان بنا دیے جاتے ہیں۔ جبکہ قانون کے مطابق سفر کرنے والے مسافروں کو غیر ضروری سوالات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
میری حکامِ بالا سے گزارش ہے کہ اس مسئلے پر فوری توجہ دی جائے اور ائیرپورٹ عملے کی جدید خطوط پر تربیت کی جائے۔ مسافروں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے بجائے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ ہمارے بیشتر ائیرپورٹس سہولیات کے اعتبار سے اب بھی بہت پیچھے ہیں۔ مناسب ڈیوٹی فری شاپس، معیاری کیفے اور ریسٹورنٹس کا فقدان ہے جبکہ دنیا کے بیشتر ائیرپورٹس پر خودکار چیک ان، سیلف سروس بورڈنگ، آرام دہ انتظار گاہیں، موبائل اور لیپ ٹاپ چارجنگ کی سہولیات اور جدید مسافر خدمات عام ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کے لیے زرمبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ انہی لوگوں کو وطن واپسی پر متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں کوئی شخص اپنا ذاتی موبائل فون بلا رکاوٹ استعمال کر سکتا ہے لیکن پاکستان میں بیرونِ ملک سے آنے والے افراد کو محدود مدت کے بعد اپنے ذاتی فون کے استعمال کے لیے بھاری ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ایک صارف خریداری کے وقت بھی ٹیکس ادا کرتا ہے اور پھر اپنے ہی ملک میں اسی فون کے استعمال کے لیے دوبارہ ٹیکس دینا پڑتا ہے۔
حکومت اگر واقعی اپنے عوام، بالخصوص تارکینِ وطن پاکستانیوں کو قومی اثاثہ سمجھتی ہے تو ان کے مسائل کے حل کو ترجیح دینی چاہیے۔ آسانیاں پیدا ہوں گی تو لوگوں کا اپنے وطن سے تعلق اور محبت بھی مزید مضبوط ہوگی۔