28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے
- تحریر آصف محمود
- منگل 02 / جون / 2026
28 ویں آئینی ترمیم نوشتہ دیوار ہے۔ اس نے آنا ہی آنا ہے۔ آج، اور آج نہیں تو کل۔ کیونکہ 18 ویں ترمیم میں جو مالیاتی بندوبست متعارف کرایا گیا ہے، اس نے پاکستان کی معیشت کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے۔
یہ ممکن ہی نہیں کہ 18 ویں ترمیم کے مالیاتی معاملات پر نظر ثانی کیے بغیر معیشت کی کمر سیدھی ہو سکے۔ (یاد رہے کہ یہ بات میں اس دن سے لکھ رہا ہوں جس دن یہ ترمیم ایوان میں پیش ہوئی تھی)۔ ہماری پارلیمانی جمہوریت میں اپنی ساری خوبیوں کے باوجود ایک بڑی خرابی یہ رہی ہے کہ اس نے عوام الناس کو مطمئن کرنے کےلیے کوئی نہ کوئی ’کارنامہ‘ کرکے دکھانا ہوتا ہے۔ وہ اگر کوئی حقیقی کارنامہ نہیں کر پاتی تو وہ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے مصنوعی کارنامہ تخلیق کرتی ہے تاکہ نیم خواندہ ووٹر یہ سمجھیں کہ کمال ہو گیا اور پھر وہ اس پر داد دیں۔ 18ویں ترمیم بھی ایک ایسا ہی کارنامہ تھا جس سے عوام کو باور کرایا گیا کہ ہم نے صوبوں کو با اختیار بنا کر کمال کر دیا۔ اس ہنرکاری کا مالیاتی پہلو مگر ایسا سنگین تھا کہ اس نے معیشت کی کمر لال اور ہری کر دی۔
مالیاتی طور پر تو صوبے طاقت ور ہو گئے۔ لیکن عوام کو کچھ نہیں ملا۔ مقامی حکومتیں یا تو بن نہ سکیں یا بن گئیں تو اختیارات محدود رہے۔ بس اتنا ہوا کہ وفاق میں حکومت بنائے بغیر بھی سیاسی قوتیں کے پاس صوبائی حکومت کی شکل میں متبادل مالیاتی سر چشمے آ گئے۔ یہ مزے کا بندوبست تھا۔ عام لوگوں کو تو یہ سمجھ تو آ ہی نہ سکی کہ 18 ویں ترمیم کے بعد اب وفاق کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور صوبوں نے کیا کرنا ہے۔ چنانچہ وہ پہلے کی طرح سارے مطالبات اور سارے شکوے وفاق سے کرتے رہے۔ صوبائی حکومتیں دستیاب وسائل سے لطف اندوز ہوتی رہیں۔ وسائل ان کے پاس تھے لیکن کٹہرے میں وفاق کھڑا تھا۔ مزے صوبائی حکومتوں کے تھے، سوال وفاق سے پوچھے جاتے تھے۔
وفاق قرض لے لے کر صوبوں کو پیسے دیتا رہا، صوبائی حکومتوں کے وارے نیارے ہو گئے۔ پنجاب کے علاوہ شاید ہی کسی صوبائی حکومت نے کوئی خاص کارکردگی دکھائی۔ عوام کی حالت وہی رہی۔ لیکن 18 ویں ترمیم کے وقت 8 کھرب کا مقروض تھا جو اب قریب 95 کھرب کا مقروض ہو چکا ہے۔ یہ سب 18 ویں ترمیم کا کمال تھا۔ اس 18 ویں ترمیم کے مطابق قرض واپس کرنا صرف وفاق کی ذمہ داری ہے۔ وفاق کہاں سے واپس کرے؟ اس کا زور پھر صرف پیٹرول پر چلتا ہے۔ وفاق بجٹ کا ایک حصہ صوبوں کو دے دیتا ہے، ایک حصہ قرض ادائیگی میں چلا جاتا ہے، قرض کے سود اور اقساط کی ادائیگی کا حجم دفاعی بجٹ سے بھی بڑھ چکا ہے۔ اس کے بعد وفاق کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں۔
وفاق ایک بے بس تماشائی ہے۔ نہ اس کے پاس پیسے ہیں، نہ صحت و تعلیم جیسے محکمے اس کے پاس رہے۔ نصاب مذاق بن چکا ہے۔ جس صوبے کا جو جی چاہے پڑھاتا رہے۔ نصاب تعلیم میں وحدت اور قومیت کا تصور ختم ہو چکا ہے۔ نصاب ہی اگر جدا کدا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ فکری سطح پر آپ نے فیڈریشن کو کنفیڈریشن بن دیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ پریشان کن چیز ہے۔ ایک قوم کا کم از کم سرکاری اداروں کا نصاب تو ایک ہو۔ اس بے بسی میں، وفاق کا بس اب ایک ہی کام ہے: کشکول لے کر سال بھر قرض مانگتے رہنا، جو مل جائے اسے صوبوں میں بانٹ دینا اور پھر مانگنے نکل کھڑا ہونا۔
قرض بھی وفاق نے واپس کرنا ہے، دفاعی اخراجات بھی وفاق کے ذمے ہیں، کسی آفت اور ایمرجنسی کے لے بھی وفاق نے تیار رہنا ہے، پنشنیں بھی دینی ہیں۔ ادھر عالم یہ ہے کہ قدرتی وسائل بھی صوبوں کی ملکیت ہیں۔ وفاق کے پاس کون سا مالیاتی سرچشمہ ہے کہ وہ یہ سب کچھ کر لے۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا فیڈریشن ایسے چل سکتی ہے؟
حیرت یہ ہے کہ آج آئین میں ترمیم کی بات کی جائے تو ایسے ردعمل دیا جاتا ہے جیسے کوئی قیامت آنے والی ہو۔ کسی کو اچھی لگے یا بری، حقیقت یہی ہے کہ ترمیم تو آنی ہی آنی ہے۔ آج اور آج نہیں تو کل۔ یہ نوشتہ دیوار ہے۔ کیونکہ 18 ویں ترمیم میں جو مالیاتی بندوبست متعارف کرایا گیا ہے اس نے پاکستان کی معیشت کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ 18 ویں ترمیم کے مالیاتی معاملات پر نظر ثانی کیے بغیر معیشت کی کمر سیدھی ہو سکے۔
(بشکریہ: وی نیوز)