نواز شریف کو انتخابات سے پہلے ہی گلگت کیوں ویران دکھائی دیا؟
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 02 / جون / 2026
مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف اتوار کو ہونے والے انتخابات کے موقع پر دیگر سیاسی لیڈروں کی طرح اس وقت گلگت بلتستان کا دورہ کررہے ہیں۔ ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے علاقے میں ترقیاتی کاموں میں تساہل پر شدید افسوس کا اظہار کیااور کہا کہ یہاں کی ٹوٹی ہوئی سڑکیں دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔
میاں نواز شریف نے جلسے میں موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انہیں ہمیشہ سے اس علاقے اور یہاں کے عوام سے محبت رہی ہے لیکن اس بار وہ بہت مدت کے بعد وہاں آئے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف سے بات کریں گے تاکہ اس علاقے میں ترقیاتی کاموں پر توجہ دی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دوسروں پر تنقید نہیں کرتے بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام مجھے ووٹ نہ بھی دیں تو بھی وہ میرے لیے اہم ہیں اور میں اس علاقے کی ترقی کے لیے کام کروں گا۔ کچھ اسی قسم کے وعدے پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری اور ان کی بہن آصفہ بھٹونے بھی عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیے ہیں۔ یہ سارے بڑے لیڈر جو عام طور سے ایک چھوٹا انتظامی خطہ تو کیا عام طور سے قومی مسائل کو ہی ’غیر ضروری‘ سجھتے ہیں، اس وقت البتہ اتوار کے الیکشن سے پہلے گلگت بلتستان کے لوگوں کا دل لبھانے وہاں پہنچے ہوئے ہیں۔
ان وعدوں کی اہمیت پر بات کرنے اور قومی معاشی حالات پر نگاہ ڈالنے سے پہلے یہ واضح کرنا اہم ہے کہ اگرچہ گلگت بلتستان کے انتخابات سے مرکز میں قائم شہباز شریف کی حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور نہ ہی ملک کے سیاست حالات میں کسی بڑی تبدیلی کا کوئی امکان دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے سے روکا گیا ہے۔ چند دن پہلے قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر گلگت جانا چاہتے تھے لیکن انہیں وہاں جانے سے روک لیا گیا۔ اور آج پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ چند دیگر لیڈروں کے ہمراہ گلگت کے سفر پر تھے لیکن انہیں پولیس نے روک کر اس علاقے سے نکلنے کی ہدایت کی۔ یوں تو کسی شہری کو ملک کے کسی بھی حصے میں جانے سے روکنے کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ۔ اس قسم کی کارروائی انفرادی حقوق اورنقل و حرکت کی آزادی کے آئینی حق کے خلاف ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس وقت گلگت بلتستان میں انتخابات منعقد ہورہے ہیں۔ دونوں بڑی پارٹیوں کے لیڈر جلسے کرکے اپنی حمایت میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ملک کی ایک بڑی پارٹی کی قیادت کو اس حق سے محروم رکھا گیا ہے۔
اس حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں تحریک انصاف کی شرکت پر کوئی باقاعدہ پابندی عائد نہیں ہے۔ یوں بھی ملک میں مرکز کے زیر نگرانی کام کرنے والے علاقوں میں سیاسی رویوں پر نگاہ ڈال لی جائے تو یہی معلوم ہوگا کہ وہی پارٹی انتخابات میں کامیاب ہوتی ہے جسے اسلام آباد میں اقتدار حاصل ہو۔ اس کی متعدد ووجوہات ہوسکتی ہیں ۔ اس موقع پر ان سے بحث مطلوب نہیں ہے تاہم یہ ذکر کرنا اس لیے ضروری ہے کہ تحریک انصاف کواگر پوری آزادی سے انتخابی مہم چلانے اور اس کی ساری قیادت کو گلگت بلتستان میں جلسے کرنے اور ووٹوں کی اپیل کا موقع دے بھی دیاجاتا توبھی شاید پی ٹی آئی وہاں اقتدار سنبھالنے کی پوزیشن میں نہیں آسکتی تھی۔ اس کے باوجود اگر اس پارٹی کے لیڈروں کو علاقے میں جانے سے روکا جارہا ہے اور مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت وہاں جاکر جلسے منعقد کررہی ہے تو مرکزی حکومت کے علاوہ ان لیڈروں کو بھی اس صورت حال پر جواب دہ سمجھنا چاہئے۔
خاص طور مسلم لیگ (ن) اس وقت مرکز کے علاوہ پنجاب میں حکمران ہے۔ پارٹی لیڈر نواز شریف جو اس وقت گلگت کی صورت حال پر اپنے ٹوٹے ہوئے دل کا حال وہاں عوام کو بتارہے ہیں، عام طور سے سیاسی معاملات سے الگ تھلگ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اہم ترین قومی یا بین الاقوامی امور پر بھی زبان نہیں کھولتے۔ ملک میں جاری شدید سیاسی بد اعتمادی اور بحران کی موجودہ صورت حال میں متعدد مبصر ان سے درخواست کرچکے ہیں کہ وہ سینئر اور تجربہ کار لیڈر کے طور پر اس سیاسی کشیدگی کو کم کرنے میں کردار دا کریں۔ لیکن نواز شریف جاتی عمرہ کے عشرت کدہ میں پرسکون زندگی گزارنے پر مصر رہے ہیں۔ تاہم گلگت بلتستان کے انتخابات کے موقع پر انہیں وہاں جانا اور عوام کو یہ یاد دلانا نہیں بھولا کہ گلگت بلتستان کی ان کے دل میں بہت جگہ ہے۔ کوئی ان کی پارٹی کو ووٹ دے یا نہ دے لیکن اب وہ اس علاقے کی ویرانی برداشت نہیں کریں گے۔ کاش وہ اس موقع پر یہ بھی بتا دیتے کہ یک بیک کئی سال بعد اب گلگت بلتستان کا درد ان کے دل میں کیوں بڑھا ہے؟ یاایک ذمہ دار قومی لیڈر کے طور پر وہ یہی سوال کرلیتے کہ یہ کیسا مقابلہ ہے جس میں ایک سیاسی حریف کو میدان میں اترنے کا موقع ہی نہیں دیا جارہا؟ اہم اور سینئر لیڈر کے طور پر نوا ز شریف نے اگر گلگت بلتستان انتخابات کے موقع پر گھر سے نکلنے اور زبان کھولنے کا فیصلہ کرہی لیا تھا تو انہیں ملک کے سیاسی تناظر میں کوئی متوازن اور ذمہ دارانہ بیان دے کر یہ ثابت کرنا چاہئے تھا کہ وہ اب بھی قومی اتحاد ویک جہتی کے خواہاں ہیں اور انتخابات چوری کرکے حکومتیں بنانا ان کا شیوہ نہیں ہے۔
نواز شریف نے جیسے گلگت بلتستان کی کسمپرسی پر خون کے آنسو بہاتے ہوئے وزیر اعظم سے بات کرنے کا وعدہ کیا ہے، تو انہیں قومی معاشی بدحالی اور ملکی اقتصادی ابتری کے بارے میں یہ خیال کیوں نہیں آتا؟ گزشتہ روز ہی ان کے پرانے ساتھی اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بانڈز کے اجرا سے قرض اکٹھا کرنے پر جشن منانے کی بجائے، ملکی برآمدات میں اضافے اور قومی آمدنی بڑھانے کی شدید ضرورت ہے۔ کیا نواز شریف کی نگاہ سے یہ سارے حقائق اوجھل ہیں کہ وہ جلسے میں لوگوں سے ترقیاتی منصوبوں کی بات تو کرتے ہیں لیکن یہ نہیں کہتے کہ اس مقصد کے لیے فنڈز کہاں سے آئیں گے؟ ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں پاکستان کا تجارتی خسارہ گزشتہ 46 مہینوں کی سب سے بلند سطح یعنی چار ارب ڈالر سے تجاوز کر چکاہے۔ اس کی وجہ درآمدات میں اضافہ اور براآمدات میں کمی ہے۔ پاکستان کا تجارتی خسارہ رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران 20.3 فیصد اضافے کے ساتھ 31.98 ارب ڈالر ہوچکا ہے، جو کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 26.59 ارب ڈالر تھا۔ اس دوران برآمدات 25.21 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 26.89 ارب ڈالر کے مقابلے میں 6 فیصد سے زیادہ کم ہیں۔ جبکہ درآمدات 57.19 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 53.48 ارب ڈالر کے مقابلے میں سات فیصد زیادہ ہیں۔
یہ اعداد و شمار اور معاشی تلخ حقائق حکمران پارٹی کے لیڈر میاں نواز شریف کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہوسکتے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس سنگین مالی صورت حال پر تو وہ خاموش رہتے ہیں لیکن اس بات کا ماتم کرنے گلگت بلتستان پہنچ گئے کہ ان کے دور میں اس علاقے کی ترقی کے لیے منظور کیے گئے 50 ارب روپے صرف نہیں کیے گئے۔ کیا نواز شریف بتائیں گے کہ اب انہیں گلگت بلتستان کے اجڑنے کا خیال کیوں آرہا ہے؟ کیا قومی معیشت میں انحطاط پر بھی وہ وزیر اعظم سے جواب پرسی کریں گے یا ان کے دل کا درد اتوار کو ہونے والے انتخابات کے بعد رفع ہوجائے گا؟