کویت و بحرین ایران پر حملوں کے ذمہ دار ہیں: ایران
ایرانی وزارتِ خارجہ نے آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی آئل ٹینکر پر حملے اور جزیرہ قشم میں ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک بیان کے مطابق یہ حملے بدھ کو علی الصبح کیے گئے، جن کی منصوبہ بندی اور کی جانے والی کارروائی خطے کے دو ممالک سے کی گئی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان کارروائیوں کو 10 اپریل کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے ’کویت اور بحرین کی قیادت پر براہِ راست اور واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’کوئی بھی ملک جو جارح عناصر کو اپنی سرزمین، سمندری حدود، فضائی حدود یا اپنے علاقوں میں واقع اڈوں کے استعمال کی اجازت دے گا، تاکہ ایران پر حملہ کیا جا سکے، اسے ایران کے خلاف جارحیت کے مترادف سمجھا جائے گا۔‘
ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو ان حملوں کے ردعمل میں ’اصل مقام (یعنی جہاں سے حملے کیے گئے) کو نشانہ بنانے‘ کا حق حاصل ہے۔
یاد رہے کہ ایران میں ہوئے ان حملوں کے ردعمل میں مبینہ طور پر ایران کی جانب سے کویت اور بحرین کی جانب میزائل اور ڈرون داغے گئے تھے۔ کویت کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ ایک حملے کے نتیجے میں ملک کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کی عمارت کو نقصان پہنچا اور چند افراد زخمی بھی ہوئے۔ اس حملے کے بعد کویت کی جانب سے فضائی آپریشنز عارضی طور پر معطل کیے گئے تھے۔
دوسری جانب بحرین کی فوج نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کو پسپا کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران کویت کی وزارتِ خارجہ نے ایران پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ’وحشیانہ اور مسلسل حملوں‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ کویتی وزارت خارجہ کے مطابق تازہ حملوں کا آغام بدھ کی علی الصبح ہوا جس میں ایک بار پھر سول اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل ہے۔
وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کویت ایران کے کھلے اور جارحانہ حملوں کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے، کیونکہ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ کرتے ہیں اور علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
یہ حملے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔