ابراہم اکارڈ کے ثمرات و مضمرات
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 03 / جون / 2026
جب دنیا بھر کے مسلمان "سنت ابراہیمی" کی پیروی میں حج اور قربانی کی تیاری میں مشغول تھے، امریکی پریزیڈنٹ ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹھ اہم عرب و اسلامی ممالک کی قیادتوں سے ڈیجیٹل کانفرنس میں "ابراہام اکارڈ" یا ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت کا مطالبہ کر ڈالا-
ٹرمپ نے تہران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل کو "معاہدہ ابراہیمی" سے جوڑتے ہوئے بشمول سعودی عرب، قطر اور پاکستان دیگر عرب خلیجی ممالک سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اجتماعی طور پر ابراہام اکارڈ میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لائیں۔ ممکن ہے دو ایک ممالک کے پاس اس حوالے سے کوئی جواز ہو جسے قبول کیا جا سکتا ہے لیکن دیگر تمام ممالک اسے قبول کریں۔ اس سےخطے میں نہ صرف جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا بلکہ دیرپا امن قائم ہوگا۔
ٹرمپ اس سلسلے میں اس حد تک چلے گئے کہ ایران کے ساتھ مستقل جنگ بندی کے بعد وہ یہ چاہیں گے کہ ایران بھی اس ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت اختیار کر لے۔ ٹرمپ کے اس اچانک مطالبے کے بعد اس ڈیجیٹل کانفرنس میں غیر معمولی خاموشی چھا گئی، یہ خاموشی اس قدر نمایاں تھی کہ ٹرمپ کو یہ پوچھنا پڑا، آپ لوگ لائن پر ہیں بھی یا نہیں؟ اس پر بھی آگے سے کوئی جواب نہ آیا۔ اس کانفرنس کا مقصد تو ایران کے ساتھ کسی مجوزہ امریکی معاہدے پر ان اتحادی ممالک کی قیادتوں کو اعتماد میں لینا تھا لیکن اپنی سیمابی و رنگ بدلتی طبیعت کی مطابقت میں ٹرمپ نے اپنے اتحادی عرب مسلم ممالک کو ایک نوع کے مخمصے میں ڈال دیا۔ بعدازاں بھی ماسوائے سعودی عرب اور پاکستان کے دیگر عرب ممالک نے اپنی خاموشی کو نہیں توڑا۔
سعودی عرب کی طرف سے کہا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی تعلقات یا ابراہیمی معاہدہ کا حصہ بننا مسئلہ فلسطین کے مستقل، جامع اور منصفانہ حل کے ساتھ مشروط ہے۔ جبکہ پاکستانی فارن منسٹر نے واشنگٹن میں بیٹھ کر واضح کر دیا کہ فلسطینی ریاست قائم کیے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی عسکری ذرائع کے مطابق ٹرمپ کا بیان جنگ بندی کی سفارتکاری کو معاہدہ ابراہیمی کے وسیع تر دائرے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش یا عکاسی ہے۔ ابراہیمی معاہدہ اور ایران سے ڈیل دو الگ الگ معاملات ہیں۔ یہ دونوں باہم جڑے ہوئے نہیں۔ اور نہ ہی انہیں جوڑا جا سکتا ہے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ ہم کسی ایسے معاہدے کا حصہ بننے کی خواہش کو مسترد کرتے ہیں اور بانی پاکستان جناح صاحب نے جو کچھ کہا تھا اس پر کار بند ہیں۔
آگے بڑھنے سے قبل بہتر ہوگا کہ یہاں ابراہام اکارڈ یا ابراہیمی معاہدہ پر ایک طائرانہ نظر ڈال لی جائے۔ سیدنا ابراہیمؑ ایسی بڑی شخصیت ہیں جن کی عظمت کا تقدس تینوں آسمانی مذاہب یہودیت، مسیحیت اور اسلام میں موجود ہے بلکہ ان تینوں آسمانی مذاہب کو "ابراہیمی مذاہب" بولا جاتا ہے کیونکہ سیدنا ابراہیمؑ تینوں مذاہب کے جد امجد ہیں۔ جس طرح یہود سیدنا ابراہیمؑ کے فرزند سیدنا اسحاقؑ کی اولاد ہیں، اسی طرح قریش یا ہمارے آقا سیدنا ابراہیمؑ کے دوسرے فرزند سیدنا اسماعیلؑ کی اولاد ہیں۔ جبکہ سیدنا مسیحؑ کی والدہ ماجدہ سیدہ مریم سلام اللہ بنی اسرائیل کے صاحب کتاب پیغمبر داؤدؑ کی اولاد سے تھیں جو کہ آل ابراہیم ہی تھے۔ پندرہ ستمبر دو ہزار بیس کو واشنگٹن میں ابراہام اکارڈ کے ریفرنس سے پہلی باضابطہ تقریب منعقد ہوئی جس میں ٹرمپ کے داماد جیراڈ کشنر پیش پیش تھے۔ انہوں نے ہی یہ مسودہ تیار کیا تھا۔ اس فنکشن میں نہ صرف ابراہام اکارڈ کے نمایاں پہلو واضح کیے گئے بلکہ کچھ عرب ممالک نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا اعلان بھی کر دیا۔ ابتدا میں متحدہ عرب امارات اور عرب خلیجی ملک بحرین اس معاہدے کا حصہ بنے بعد ازاں مراکش، سوڈان اور قازقستان نے ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے۔ ابراہیمی معاہدے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات محض سفارت تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ اقتصادی، سیاحتی، سماجی، سائنسی اور تہذیبی طور پر بھی مراسم بڑھائے جائیں گے تاکہ مسلم اور یہود ہر دو اقوام کی دوریاں قربتوں میں بدل سکیں۔ اسرائیل ان ممالک کی کیا معاونت کر سکتا ہے اور یہ ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے تجارتی و کاروباری روابط کس طرح بڑھا سکتے ہیں؟
واضح رہے کہ مصر نے 1979 میں اور اردن نے 1994 میں اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے سفارتی و معاشی روابط بڑھا لیے تھے جبکہ ترکیہ وہ ملک ہے جس نے 1948 میں اسرائیلی ریاست قائم ہونے کے بعد اگلے ہی برس 1949 میں اسے تسلیم کر لیا تھا۔ یوں دونوں ممالک نے نہ صرف انقرہ اور تل ابیب میں سفارتخانے قائم کیے بلکہ تب سے لے کر آج تک باہم سالانہ اربوں ڈالرز کی درآمدات و برآمدات ہو رہی ہیں۔ غزہ کے حوالے سے بدترین حالات میں بھی معاشی و تجارتی تعلقات نہیں ٹوٹ پائے۔ ترک پریزیڈنٹ طیب اردوان میڈیا بیانات کی حد تک جتنے بھی شدید الفاظ بولتے ہیں، عملی طور پر استنبول اور یروشلم میں ہر دو ممالک کی سیاحت حیران کن حد تک زوروں پر رہتی ہے۔ تیونس، موریطانیا اور صومالی لینڈ جیسے مسلم ممالک نے بھی اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے۔ خمینی کی مذہبی حکمرانی سے قبل رضا شاہ پہلوی کی حکمرانی میں ایران نے نہ صرف یہ کہ اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کر رکھا تھا بلکہ ایران کے اسرائیل کے ساتھ مثالی تعلقات تھے۔ اسرائیل حماس اور پھر ایران امریکا جنگ کے بدترین حالات میں بھی اسرائیل کو تیل اور گیس کی سپلائی سنٹرل ایشیا کے مسلم ممالک سے ہوئی ہے۔ اور آج بھی اسرائیل کے لیے آئل کی ضروریات ایک اسلامی ملک سے پوری ہو رہی ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر خود یاسر عرفات اور محمود عباس کی پی ایل او اور الفتح نے بھی اوسلو معاہدے کے تحت باقاعدہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے۔
دوسری طرف بہت سے مؤثر ممالک بالخصوص سعودی عرب، قطر اور پاکستان نے ایسی ہر کاوش کو ہمیشہ مسترد کیا ہے اور اپنے اس روایتی موقف پر زور دیا ہے کہ پہلے فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا کیپٹل ایسٹ یروشلم ہو پھر تسلیم کرنے کی طرف آئیں گے۔ کنگڈم آف سعودیہ عریبیہ حرمین شریفین کی کسٹوڈین ہے جومسلم ورلڈ میں لیڈنگ رول کے ساتھ تقدس و احترام سے دیکھی جاتی ہے۔ اس لیے ٹرمپ ہی نہیں ہر امریکی پریزیڈنٹ کی خواہش رہی ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان معمول کے سفارتی تعلقات قائم ہو جائیں۔ اگر ہم گہرائی میں جا کر جائزہ لیں تو 7 اکتوبر 2023 سے قبل مڈل ایسٹ میں حالات اس قدر بہتری کی طرف جا چکے تھے جن میں نہ صرف مواصلاتی و تجارتی بلکہ سفارتی تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز صاف دکھائی دے رہا تھا، جی ٹوئنٹی کانفرنس میں اس حوالے سے خاصے معاملات طے پا گئے تھے۔ اس مثبت صورت حال کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایران نے سات اکتوبر کو حماس کے ذریعے اسرائیل کے اندر گھس کر شدید حملہ کروایا جس میں بارہ سو اسرائیلی مارے گئے اور ڈھائی سو کے قریب یرغمالی بنا کر غزہ لے جائے گئے۔ حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو موجودہ ایران امریکا جنگ اور تباہی و بربادی کی جڑیں سات اکتوبر کے سانحہ میں پیوست ہیں۔
کوئی مانے نہ مانے تلخ سچائی یہی ہے کہ جب تک اسرائیل اور مسلم ورلڈ کے تعلقات معمول پر نہیں آ جاتے، مڈل ایسٹ میں خون خرابہ ختم نہیں ہو سکے گا۔ مصر اور اردن نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرتے ہوئے نہ صرف اپنی سرحدوں کو محفوظ بنا لیا ہے بلکہ اندرونی طور پر بھی ان ممالک کو ایک نوع کا استحکام نصیب ہوا ہے۔ یہ استدلال کہ ابراہیمی معاہدہ اور ایران امریکا امن معاہدہ دو مختلف چیزیں ہیں، بظاہر جتنے بھی مختلف دکھیں لیکن اگر گہرائی میں جا کر جائزہ لیں تو دونوں ایشوز کی جڑ ایک ہی ہے۔ البتہ امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ نے جس طرح کے ماحول میں ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی فرمائش کی ہے، یہ قطعی نامناسب ہے۔ اسے احمقانہ نہ بھی کہا جائے تو غیر دانشمندانہ ضرور ہے۔ کیونکہ سات اکتوبر کے ردعمل میں جو کچھ ہوا ہے اس کے بعد اس طرح کی فرمائش کرنا قطعی درست نہیں۔ کوئی بھی بڑا اقدام اٹھانے سے پہلے ایک نوع کا ماحول بنایا جاتا ہے۔ درویش اپنے دوستوں کو اکثر یہ کہتا ہے کہ آپ نے جو بھی پنیری اگانی ہے پہلے زمین کو اس کی موافقت میں ہموار کرو۔ یہی وجہ ہے جب امریکا کی طرف سے سعودی کراؤن پرنس پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا گیا تو انہوں نے ہاتھ باندھ دیے کہ میں سادات کی طرح شہید ہونا نہیں چاہتا۔ کوئی معاملہ جتنا بھی درست ہو لیکن نتائج کے حوالے سے جب تک ماحول نہیں بنتا، نتیجہ بڑی خرابی کی صورت نکلے گا۔
البتہ امریکی قیادت کے سامنے یہ ایشو ضرور اٹھایا جانا چاہیے کہ آپ لوگوں نے اپنے ان دوست یا اتحادی ممالک میں اس حوالے سے زمین تیار کرنے کے لیے کیا کاوشیں کی ہیں؟ عامتہ المسلمین کے اذہان میں صدیوں کے منفی پروپیگنڈے سے منافرت کا جو بارود بھرا ہواہے، اسے ختم کرنے کیلیے آپ کی اتحادی حکومتیں کیا اہتمام کر پائی ہیں؟ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے۔ ان کے لیے آپ نے کیا بہتری کی ہے؟ انہیں کیا سیکیورٹی فراہم کی ہے؟
اس سے بھی پہلے آپ لوگ چند لاکھ فلسطینیوں کی دلجوئی یا متبادل بندوبست کے لیے کیا پیکیج لائے ہیں؟ محض اوچھے اسلوب میں مطالبہ ہانک دینا، بجائے فائدے کے ایران پر حملے کی طرح، الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔