نپولین اور ہٹلر کی کہانی دہرائی جا رہی ہے

ڈونلڈ ٹرمپ، نپولین یا ہٹلر کے پائے کا لیڈر نہیں لیکن شکست وریخت کی وہی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ ان جیسے لیڈروں کا المیہ یہ ہے کہ اپنی طاقت کی حد بھول جاتے ہیں اور اُنہیں یہ سمجھ نہیں رہتی کہ کہاں جا کے رکنا چاہیے۔

 1812 تک نپولین یورپ کا بادشاہ تھا۔ سوائے انگلستان کے باقی یورپ اس کے قدموں تلے پڑا ہوا تھا۔ لیکن روس پر حملے کا کیڑا اس کے ذہن میں بیٹھ گیا اور یورپ کی تاریخ میں سب سے بڑی فوج جس کی تعداد لگ بھگ چھ لاکھ تھی، لے کر روس پر حملہ آور ہو گیا۔ اور وہاں سے نپولین کے زوال کی داستان شروع ہو گئی۔ ہٹلر کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ 1939اور 1940 میں اس کی فتوحات ایسی تھیں کہ پوری دنیا لرزے میں آ گئی۔ ایسی فوج اور جنگ لڑنے کا ایسا طریقہ دنیا نے نہیں دیکھا تھا۔ وہاں تک ہی رہتا تو ہٹلر کو کوئی ہلا نہیں سکتا تھا۔ لیکن اس کی سوچ اور اس کے نظریے میں یہ نکتہ پیوست تھا کہ جرمنی کا تاریخی مشن روس کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرنا ہے اور ایسا کرنے سے ہی جرمن قوم کا مستقبل محفوظ ہو سکتا ہے۔

تقریباً تمام قابلِ ذکر جرنیلوں کا مشورہ تھا کہ سوویت یونین پر چڑھائی نہیں کرنی چاہیے لیکن جون 1941 میں سوویت یونین پر حملہ کر دیا گیا اور گو شروع میں ناقابلِ یقین حد تک جرمن فتوحات کامیاب رہیں۔ اکتوبر اور نومبر میں جب برف پڑنے لگی اور سردی نے میدانِ جنگ پر ڈیرے جمانا شروع کیے تو جرمن ایڈوانس رکنے لگا اور تب ثابت ہو گیا کہ ہٹلر نے جو روس پر حملہ کرکے جوا کھیلا ہے وہ جیت نہیں سکتا۔

جیسے عرض کیا ٹرمپ اُس پائے کا لیڈر نہیں لیکن زوال کی حرکت وہی ہو رہی ہے۔ اپنی کاروباری زندگی میں اور پھر سیاست میں اسے کبھی کوئی ناکامی نہیں ہوئی۔ رئیل اسٹیٹ کاروبار میں وقتی طور پر گھاٹا ہوا بھی تو جلد گھاٹا کامیابی میں تبدیل ہو گیا۔ ورثے میں باپ سے دولت ملی تھی، اس لیے پوری زندگی ٹرمپ کو کبھی تنگدستی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پھر رئیل اسٹیٹ کاروبار میں بہت کامیابی دیکھی اور اپنی کاوشوں سے ارب پتی ہو گیا۔ ٹیلی ویژن پر ایک شو کیا تو وہ بہت کامیاب رہا۔ یہ جو مِس ورلڈ کا مقابلۂ حسن ہوتا ہے ٹرمپ نے اُس میں بھی ہاتھ ڈالا اور شہرت اور کامیابی حاصل کی۔ سیاست میں آیا تو بیشتر تجزیہ کار ماننے کو تیار نہ تھے کہ ریپبلکن پارٹی کا نمائندہ ہو جائے گا۔ لیکن ایک بھرے مقابلے میں تمام مخالفین کا حشر ہوا اور ریپبلکن پارٹی کا نمائندہ ٹرمپ ہو گیا۔ میڈیا میں بیشتر آوازیں کہتی تھیں کہ ٹرمپ صدارتی انتخاب نہیں جیت سکتا لیکن اُس نے ہیلری کلنٹن کو ہرا کر دنیا کو حیران کر دیا۔
اگلا الیکشن ہارا اور وہ بھی کووڈ کی وجہ سے۔ امریکہ میں یہ رائے پیدا ہو گئی تھی کہ کووڈ کا مقابلہ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن نے صحیح طریقے سے نہیں کیا، شکست کا باعث یہ خیال بنا۔ لیکن ہار کر بھی ہمت نہ ہاری، ریپبلکن پارٹی پر اپنا کنٹرول قائم رکھا اور پھر جب اگلا الیکشن آیا تو جوبائیڈن اپنے بڑھاپے کی نذر ہو گیا اور کملا ہیرس ٹرمپ کی انتخابی یلغار کے سامنے ٹھہر نہ سکی۔

الیکشن سے عین پہلے ٹرمپ پر خطرناک قسم کے الزامات لگے۔ ریاستِ جارجیا میں ایک مقدمہ بنا، ٹرمپ کو پولیس کے سامنے سرنڈر کرنا پڑا اور جیسا کہ امریکہ میں دستور ہے فالٹن کاؤنٹی جیل میں اس کا فوٹو لیا گیا۔ فوٹو بھی ایسا نکلا جس میں ٹرمپ غصے سے دیکھ رہا ہے، فوراً ہی وہ فوٹو امریکہ میں وائرل ہو گیا اور فوٹو کی ٹی شرٹیں ہاتھوں ہاتھ بکنے لگیں۔ نیویارک میں ایک مقدمہ بنا جس میں ٹرمپ پر الزام تھا کہ ایک سیکس ورکر سٹارمی ڈینیئلز کو چپ کرانے کیلئے ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر دیے گئے تھے اور اس رقم کو چھپانے کیلئے اپنے ٹیکس ریکارڈ میں گڑبڑ کی گئی تھی۔ عدالت میں ٹرمپ بیٹھے ہوئے تھے، اور کچھ ہی دور محترمہ تھیں۔ کوئی اور سیاستدان ہوتا تو اس واقعہ کے بعد غرق ہو جاتا۔ امریکہ میں تو ایسے بھی ہوا ہے کہ کسی کے فحش قسم کے ای میل یا ٹیکسٹ میسج سامنے آئے تو اُسے کانگریس یا کسی اور جگہ سے استعفیٰ دینا پڑا۔ ایسے امریکہ میں بے شمار واقعات ہوئے ہیں کہ تھوڑی سی لغزش سامنے آئی اور بندہ مارا گیا۔ اس لحاظ سے ٹرمپ کی شخصیت جادوئ کوالٹی کی رہی ہے کہ اُس پر ایسے ایسے فحش الزامات لگے لیکن کوئی ایک الزام بھی اُس کے ساتھ چپک نہیں سکایعنی سیاسی طور پر اُسے نقصان نہیں پہنچا سکا۔ ایپسٹین فائلز بھی دیکھ لیجئے ٹرمپ کا نام ان فائلز میں ایک یا دو مرتبہ نہیں سینکڑوں بار آیا ہے۔ ایپسٹین کے ساتھ ٹرمپ کی دوستی نہیں باقاعدہ یاری تھی۔ اکٹھے پارٹیوں میں جاتے تھے، خواتین کی گواہی ہے کہ ایپسٹین کے دفتر میں ٹرمپ سے ہمارا تعارف ہوا۔ امریکہ کا کوئی اور سیاستدان ہوتا تو ایسے الزامات کے بعد اپنا منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا۔ ٹرمپ ہے کہ ایسے الزامات آئے اور ہوا کی مانند تحلیل ہوگئے۔

امورِ خارجہ میں بھی کیا کیا وارداتیں ٹرمپ نے نہیں ڈالیں۔ کینیڈا کو برا بھلا کہنا، گرین لینڈ پر قبضے کی بات کرنا،اوول آفس میں باہر سے آئے مہمانوں کی بے عزتی کرنا، یوکرین کے صدر زیلنسکی کو ٹی وی کیمروں کے سامنے دھمکیاں دینا، امریکہ کے اتحادیوں کو برا بھلا کہنا۔ ونیزویلا پر چڑھ دوڑنا اور امریکی کمانڈوز کا صدارتی محل پر حملہ کرنا اور ونیزویلا کے صدر اور اُس کی بیگم کو اغوا کرکے نیویارک کی ایک جیل میں پہنچا دینا۔ کیوبا کو دھمکانا اور اُس کی تیل کی ترسیل بند کر دینا۔ یہ سب کچھ ٹرمپ نے کیا اور اُسے روکنے والا کوئی نہ تھا۔ اتحادی بے بس، دنیا بے بس۔ تاثر یہ بنا کہ ٹرمپ جو چاہے کر سکتا ہے۔ لیکن برے دن ٹرمپ کے تب شروع ہوئے جب اسرائیل سے مل کر ایران پر حملہ کر دیا۔ اور وہاں سے شکست و ریخت کی داستان شروع ہو گئی۔

ایران میں ٹرمپ ایسا جا کے پھنسا ہے کہ نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا۔ بمباری ایران پر اتنی ہوئی،اتنے ٹھکانے امریکی میزائلوں اور بموں کے ہدف بنے کہ امریکہ کا میزائلوں کا ذخیرہ کم پڑ گیا ہے۔ ٹوماہاک اور پیٹریاٹ میزائل تو اس جنگ میں ایسے پھونکے گئے کہ خطرناک حد تک میزائلوں کے ذخائر کم پڑ گئے ہیں۔ مقاصد پھر بھی حاصل نہیں ہوئے۔ ایران میں حکومت بدلنے چلے تھے، پہلے لیڈر مارے گئے تو اُن سے زیادہ سخت مزاج لیڈر سامنے آ گئے۔ ایران کا نیوکلیئر پروگرام وہیں ہے جہاں پہلے تھا اور جو امریکی اور اسرائیلی کہتے تھے کہ ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیت ختم کر دیں گے ،وہاں پتا چلا کہ ایران کے پاس اب بھی ہزاروں میزائل اور ڈرون موجود ہیں۔ اگلے روز سی این این کی خبر تھی کہ جو زیر زمین میزائل لانچ کرنے کے ٹھکانے ہیں، جن پر حملے ہوئے،ایران نے بیشتر کی مرمت کر لی ہے۔ اور آبنائے ہرمز جس کا پہلے کوئی مسئلہ نہیں تھا اور جہاز کھلے اس میں سے گزرتے تھے، وہ امریکہ اور ساری دنیا کیلئے نمبر وَن مسئلہ بن گیا ہے۔ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بحری جہاز ٹینکروں کو ہرمز سے گزاریں گے، ایک دن اعلان کیا دوسرے دن واپس لینا پڑا جب نظر آیا کہ یہ مشق ناممکن لگتی ہے۔

امن کی جس یادداشت کی تفصیلات سامنے آئیں، امریکہ کے اسرائیل نواز حلقے ٹرمپ پر برس پڑے۔ ٹرمپ کیلئے یہی مسئلہ ہے کہ آبنائے ہرمز تب ہی کھلتا ہے جب ایران کو کچھ رعایتیں دی جائیں۔ ایسی کوئی بات ہوتی ہے تو اسرائیلی لابی ٹرمپ پر حملہ آور ہو جائے گی۔ یہی ٹرمپ کا بڑا مسئلہ ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)