صاحب کتاب بننے کا جنون
- تحریر نسیم شاہد
- بدھ 03 / جون / 2026
مشتاق احمد یوسفی کا نام آتے ہی ایک شگفتہ نثر ذہن میں آجاتی ہے۔ ان کے پائے کی ،عصرحاضر میں کسی نے نثر اور نہ مزاح لکھا ہے۔ ایک بار انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”آبِ گم“ کے بارے میں بتایا کہ اسے لکھنے میں سات سال لگے اور دس سال میں اس کی نوک پلک سنوارتا رہا۔ یوں سترہ سال کے بعد یہ کتاب شائع ہوئی۔
یہ کوئی فارمولا تو نہیں کہا جا سکتا کہ آپ سات سال کتاب لکھنے میں لگائیں اور دس سال اس کی نوک پلک سنوارتے رہیں مگر اس کے باوجود اس سے یہ پیغام تو ملتا ہے کہ آپ کچھ لکھتے ہیں تو پھر فوراً مسودہ اٹھا کر پبلشر کو نہ دے دیں۔ اس پر جم کر غور کریں۔ وہ غلطیاں جو چھپنے کے بعد سامنے آئیں وہ گلے پڑجاتی ہیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ غلطیاں پہلے سے درست کرلی جائیں۔تخلیق وارد ضرور ہوتی ہے مگر اسے پرکھنا، سنوارنا اور غوروفکر کی کٹھالی سے گزارنا ایک دوسرا عمل ہے۔ مشتاق احمد یوسفی کی کتاب ”آبِ گم“ اگر ادب میں اپنی دائمی جگہ بنا گئی ہے تو اس کے پیچھے سترہ سال کی ریاضت بھی شامل ہے۔ ممکن ہے جب اس کا مسودہ مکمل ہوا تھا۔ مشتاق احمد یوسفی اسے فوراً ہی پبلشر کے حوالے کر دیتے تو اس کا وہ اثر نہ ہوتا جتنا اب ہے۔ بعد کے دس برسوں میں مشتاق احمد یوسفی نے نجانے اس پر کتنا سوچا ہوگا۔ جملوں، واقعات اور اسلوب پر کتنی توجہ دی ہو گی۔ تب جاکر وہ ایک شاہکار کتاب بنی۔
یہ جو ہر سال پانچ پانچ دس دس کتابیں لے آتے ہیں، انہیں کتابیں چھپوانے کا خبط تو ہو سکتا ہے، ان کی کتابیں بس شیلفوں کی زینت بن جاتی ہیں۔ جب سے خود کتابیں چھپوانے کا رواج ہوا ہے،۔ پبلشروں کی دکانیں بھی گلی محلے میں کھل گئی ہیں۔ کئی کتابیں شائع کروانے کے شوقین ایسے پبلشروں کے ہاتھوں لٹ بھی جاتے ہیں۔ انہیں کاغذ کا پتہ ہوتا ہے نہ پرنٹنگ کے مراحل کا،نہ ہی بائنڈنگ کے مختلف طریقوں کی خبر ہوتی ہے اور نہ جلد بندی کی۔ پبلشر جو انہیں کہتا ہے وہ مان لیتے ہیں۔ بعض ایسی مثالیں بھی میرے علم میں ہیں کہ لاکھ ڈیڑھ لاکھ میں چھپنے والی کتاب تین سے چار لاکھ روپے میں چھاپ کر دی گئی۔خاص طور پر خواتین جنہیں صاحبِ کتاب بننے کا زیادہ شوق ہوتا ہے، ایسے پبلشروں کے ہاتھوں لٹ جاتی ہیں۔
خیر یہ ایک دوسرا موضوع ہے، جس پر کسی اگلے کالم میں بات کریں گے۔فی الوقت تو موضوعِ سخن ایسی کتابوں کی طرف ہے جن کا معیار، موضوع اور متن سرپیر کے بغیر ہوتا ہے۔ وہ بس کتاب برائے کتاب ہوتی ہیں۔ایک طرف ہم یہ شکوہ کرتے ہیں کہ کتابیں پڑھنے کا رجحان کم ہو گیا ہے۔ دوسری طرف ہمارے شاعر حضرات یا مصنفین کرام اگر اپنی کتابوں پر توجہ نہیں دیتے اور بس کتاب چھپوانے کے جنون میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو انہیں پڑھنے والے قاری بھی انہیں خود ہی ڈھونڈنے پڑیں گے۔ ڈاکٹر اے بی اشرف جب بھی ترکی سے ملتان آتے تو کتابوں کا ایک انبار ان کا منتظر ہوتا جو کتابیں چھپوانے والے بذریعہ ڈاک یا خود آکر ان کے ملتان میں آبائی گھر پروفیسر نعیم اشرف کو دے جاتے۔ پروفیسر نعیم اشرف بتاتے ہیں جب وہ ترکی سے آتے تو اتنی زیادہ کتابیں دیکھ کر خوش ہوتے کہ پاکستان میں ادب تخلیق ہو رہا ہےمگر جب کتابوں کو پڑھتے تو کہتے معیاری کتابیں تو بس چند ایک ہی ہیں۔ باقی تو صرف شوقیہ چھپوانے والوں کی کتابیں لگتی ہیں۔
میں کتابوں کی اشاعت کے قطعاً خلاف نہیں ہوں جو لکھ رہا ہے ،اسے کتاب چھپوانے کا حق ہے بلکہ میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ ہر لکھنے والے کی کتاب پبلشر کے پیسے یا حکومتی ادارے کی طرف سے چھپنی چاہیے۔ میرا سوال صرف یہ ہے کہ کیا کتابوں کے معیار پر بھی کوئی توجہ دی جانی چاہیے یا نہیں۔ چلیں فرض کریں پاکستان میں ایک سال کے دوران ایک ہزار کتابیں چھپتی ہیں۔ کیا ان میں سے دس فیصد کتابوں کو تو کم از کم اس معیار کا ہونا چاہیے کہ وہ سال چھ مہینے زندہ رہ سکیں یا قارئین خود انہیں ڈھونڈتے پھریں۔ کسی عہد کا ادب اس عہد کی پہچان ہوتا ہے۔ ہم کسی کتاب کو پڑھ کر جب یہ کہتے ہیں کہ ہم عہدِ فیض، عہدِ یوسفی، یا عہد قدرت اللہ شہاب میں زندہ ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے ہم نے اس کتاب کو ایک عہد کی ترجمان کا درجہ دے دیا ہے۔ یا پھر اس کے اسلوب اور موضوعات کو ایک خاص عہد کی پہچان قرار دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب ایسی کتابیں کیوں نہیں لکھی جا رہیں، کیوں نہیں چھپ رہیں۔ شاعری، افسانے، ناول، تحقیق و تنقید کی اصناف میں کتابیں چھپوانے کا سلسلہ تو افزودہ تر ہے، لیکن کوئی کتاب اپنے عہد نہ سہی اپنے اشاعت کے سال تک حوالہ نہیں بنتی۔
جن کتابوں کو مختلف اداروں سے ایوارڈز دیئے جاتے ہیں ان پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ قارئین کا ایک بڑا حلقہ اس طرح ان کا گرویدہ نہیں بنتا جیسے بڑی کتابوں کا بنتا رہا ہے۔ ایک پبلشر دوست بتا رہے تھے کہ اب ان کا کاروبار چمکنے والا ہے۔میں نے پوچھا کیسے، کیا حکومت مصنفین اور شاعروں کو کتابیں چھپوانے کے لئے گرانٹ دینے والی ہے۔ انہوں نے کہا نہیں، یہ بات نہیں، اب مسودے کی تیاری چند دنوں میں ہو سکتی ہے۔ چیٹ جی پی کو بس کوئی موضوع دینا ہے، اس پر اضافہ لکھواناہے یا مضمون حتیٰ کہ شاعری بھی چند منٹ میں مل جاتی ہے۔ اس نے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ یونیورسٹیوں کے اساتذہ بھی اپنی ریسرچ کے لئے اس کا سہارا لیتے ہیں اور اسی ذریعے سے کتابیں لکھ کر یونیورسٹی کے فنڈز سے چھوا رہے ہیں۔ اب جسے صاحبِ کتاب بننے کا شوق ہے، وہ اساتذہ یا پیشہ ور لکھنے والوں سے نہیں لکھواتا بلکہ خود ہی ہر موضوع پر ڈاؤن لوڈ کر دیتا ہے۔
کتاب کی اشاعت کے بعد اس کی رونمائی کے خبط نے بھی اس سارے معاملے میں جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ حرام ہے کسی کتاب کی رونمائی میں کوئی صحیح معنوں میں کتاب پڑھ کر اظہارِ خیال کرتا ہو۔ دوسرا یہ بھی ناممکن ہے کہ کوئی کتاب کی خوبیوں کے ساتھ کمیوں یا خامیوں کا بھی ذکر کرے۔ سب سٹیج پر بیٹھے ہوئے صاحبِ کتاب کو افلاطون بنانے پر تلے ہوتے ہیں۔ ایک ماہر صدارتی شخصیت وہ ہوتی ہے جو کتاب کو اپنے عہد کی سب سے نمائندہ کتاب قرار دے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک شاعر میرے پاس آئے۔ انہوں نے اپنا شعری مجموعہ مجھے دیا اور ساتھ ہی یہ فرمائش بھی کہ میں اگلے ہفتے ہونے والی ان کی تقریب رونمائی میں بطور مہمان خصوصی شرکت کروں۔ آج کل آپ کو معلوم ہے تقریب میں مہمان خصوصی بھی بہت ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کتاب پڑھ لوں پھر بتاؤں گا۔ وہ کہنے لگا سر کتاب پر تو آپ نے بولنا ہی نہیں آپ نے تو مجھ پر بات کرنی ہے، مجھے تو آپ جانتے ہیں۔ میں نے کہا پھر بھی مصروفیات دیکھ کر دو تین دن بعد بتاؤں گا۔ وہ چلا گیا تو میں نے کتاب کی ورق گردانی کی۔ فضول اور بے وزن شاعری سے بھری پڑی تھی۔
میں تو اس تقریب میں نہیں گیا ۔ اس تقریب کی رپورٹ پڑھی تو سر پیٹ کررہ گیا کہ تقریب کی صدارت کرنے والا شہر کا سب سے بڑا نقاد بھی اسے لمحہ موجود کی شاعری کا علمبردار قرار دے چکا تھا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)