معیشت کے بارے میں بے بنیاد دعوے!
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 03 / جون / 2026
وزیر اعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت ’ برآمدات پر مبنی ترقی کے راستے پر گامزن ہے،برآمدات پاکستان کی معاشی پالیسی کا بنیادی ستون ہیں‘۔ اس اصول سے اتفاق کرنے کے باوجود بدقسمتی سے میسر اعداد و شمار وزیراعظم کے دعوؤں کی تائید نہیں کرتے۔ ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 سے 2025 کے درمیان ملکی برآمدات میں اڑھائی ارب ڈالر کمی آئی جبکہ درآمدات میں لگ بھگ دس ارب ڈالر کا اضافہ ہؤا۔
یوں ملک کا تجارتی خسارہ روز افزوں ہے اور کوئی سرکاری حکمت عملی اس میں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیتی اور نہ ہی علاقائی یا عالمی حالات کی صورت حال سے یہ قیاس کیا جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں ملکی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ موجودہ حکومت نے کثیر سرمایہ کاری لانے کے بلند بانگ دعوے کیے تھے اور سرمایہ کاری میں سہولت کاری کی خصوصی کونسل ( ایس آئی ایف سی) قائم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ اس کونسل میں فوج کو خصوصی شراکت دار بناکر یہ امید کی گئی تھی کہ غیرملکی سرمایہ کاروں کو ضمانت فراہم کرنے کے لیے یہ اقدام اہم اور دلکش ثابت ہوگا۔ لیکن یہ کونسل بھی ملک میں سرمایہ کاری لانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ تمام تر دعوؤں اور خواہشات کے برعکس 2024 میں ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح تقریباً اڑھائی ارب ڈالر تھی۔ 2025 کے دوران ان اعداد و شمار میں کسی خاص پیش رفت کا امکان نہیں ہے۔ گویا معیشت کو ترقی کے راستے پر گامزن کردینے کی دعوے دار شہباز شریف حکومت درحقیقت ملک کے معاشی انحطاط کو روکنے میں ناکام ہے۔
دیگر معاشی اشاریے بھی معاشی ابتری ہی کی کہانی سناتے ہیں۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح بدستور ساڑھے پانچ فیصد رہی اور تیس سال سے کم عمر افراد میں یہ شرح 10 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ خاص طور سے نوجوانوں میں بے روزگاری بڑھنے سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ حکومت نہ صرف عمومی طور سے روزگار کی مارکیٹ میں سرگرمی پیدا کرنے میں ناکام ہے بلکہ تعیم یافتہ اور ہنر مند لوگوں کو روزگار کے حصول میں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ عام طور سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ بڑی عمر کے لوگ کم تعلیم یافتہ یا ہنر مند نہیں ہوتے اور جدید صنعتی و تجارتی شعبوں میں ان کی کھپت ایک بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ جبکہ 18 سے 30 سال عمر کے نوجوان عام طور سے نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں بلکہ اس عمر کے لوگوں میں مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ایسے شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کا جوش و جذبہ موجود ہوتا ہے جو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ہوتے ہیں۔ لیکن اعداد و شمار سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حکومت ملک میں ایسی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں ناکام ہے جہاں ہنر مند افراد روزگار حاصل کرکے ملکی پیدا وار میں اضافہ کرسکیں۔
آبادی میں اضافہ ایک علیحدہ معاشی مسئلہ ہے لیکن کسی سرکاری بریفنگ یا گفتگو میں ملک میں دو فیصد کی شرح سے بڑھتی ہوئی آبادی کنٹرول کرنے کے کسی منصوبے کا ذکر نہیں ہوتا۔ اس علت کی وجہ سے ملک کی کل پیدا واری صلاحیت درحقیقت بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے پر صرف ہوجاتی ہے اور قومی ترقی اور خوشحالی کے کسی منصوبہ کے لیے وسائل فرا ہم نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود سرکاری ترجمان بمشکل تین فیصد کی شرح سے پیداواری اضافے کو بڑا کارنامہ بناکر پیش کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ سوال کیا جاسکتا ہے کہ ایسے دعوے کرنے سے کیا ملک کے قومی مسائل حل ہوجائیں گے؟ کیا نوجوانوں کو کام ملنے لگے گا؟ کیا غیر ملکی سرمایہ کاری آنے لگے گی؟ صاف ظاہر ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم سمیت تمام سرکاری ترجمان یہ تاثر دینے اور دعوے کرنے سے گریز نہیں کرتے کہ ملکی معیشت تیزی سے مضبوط بنیادوں پر استوار ہورہی ہے۔ مگر اس سوال کا جواب موجود نہیں ہے کہ جب بیروزگاری میں کمی، مہنگائی کی روک تھام، سرمایہ کاری میں اضافے اور برآمدات بڑھانے کا کوئی ہدف حاصل نہیں ہوپارہا تو حکومت معیشت کی مضبوط بنیاد کس معاملے کو قرار دیتی ہے؟
ملکی معیشت کی صحت کے حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف کا تازہ بیان ملک کے ممتاز صنعتکاروں اور تاجروں کے وفد سے ملاقات میں سامنے آیا ہے ۔ وزیر اعظم کے بقول حکومت نے ان اہم لوگوں کو بجٹ پالیسی کے بارے میں اعتماد میں لینے کے لیے مدعو کیا تھا۔ گویا یہ بیان کسی عام جلسے میں سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لیے نہیں دیا گیا بلکہ ملک کے ممتاز سرمایہ داروں کے سامنے اپنی کارکردگی بیان کرنے کے لیے دعوے کے طور پیش کیا گیا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ’ہم برآمدات پر مبنی ترقی کے راستے پر گامزن ہیں،برآمدات پر مبنی ترقی پاکستان کی معاشی پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔حکومت غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔جبکہ آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھی مختلف تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں‘۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں نے معیشت کو مستحکم بنایا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔ حکومت ایسی صنعتوں کے فروغ کا منصوبہ رکھتی ہے جو مقامی پیداوار میں اضافہ کریں، برآمدات کو بڑھائیں اور زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کریں۔
وزیر اعظم کی اس ‘بے ضرر‘ تقریر میں بیان کیے گئے اصول وضع کیے جائیں تو وہ کچھ یوں ہوں گے:
1۔ برآمدات میں اضافہ کا اصول
2۔غیررسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانا
3۔ معیشت کے فروغ کے لیے کاروبار دوست پالیسیاں
4۔غیر ملکی سرمایہ کاری کااعتماد بحال کرنا
5۔پیداواری صلاحیت میں اضافہ کے لیے صنعتی فروغ
عملی طور سے ان امور کا جائزہ لیا جائے تو ان کی حیثیت محض خواب یا سیاسی بیانات سے زیادہ ثابت نہیں ہوگی۔ حکومت برآمدات میں اضافہ کا غل مچاتی ہے اور ان میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نظام حکمرانی میں کاروباری و سرمایہ کاری کرنے والے عناصر کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گنجلک و غیر واضح قواعد وضوابط اور رشوت ستانی کی وجہ سے نہ کوئی نئی صنعت لگانا چاہتا ہے اور نہ بیرونی سرمایہ ملک میں آتا ہے۔ اسی لیے صنعتوں کے فروغ کی بات محض زیب داستان تک محدود ہوچکی ہے۔ درحقیقت ملکی صنعت زوال پزیر ہے اور معیشت میں اس کا حصہ مسلسل کم ہورہا ہے۔ جہاں تک وزیر اعظم کی طرف سے غیررسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی بات ہے تو یہ نعرے کئی سال سے سننے میں آرہے ہیں لیکن درمیان اور نچلے درجے کا تاجر کسی صورت حکومت کے قابو میں نہیں آتا۔ نہ وہ ٹیکس دینا چاہتا ہے اور نہ حکومت نے ابھی تک ایسی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے کہ وہ ان عناصر سے ٹیکس وصول کرسکے۔ اسی لیے ساری تان بالواسطہ محاصل بڑھانے اور غریب عوام کو زیر بار کرنے پر ٹوٹتی ہے۔ ان حالات میں وزیر اعظم کے دعوؤں کا کیسے اعتبار کیا جائے؟
حکومت کا کل زور آئی ایم ایف سے پیکیج لینے پر صرف ہوتا ہے اور عالمی مالیاتی ادارہ آمدنی میں اضافہ پر زور دیتا ہے۔ حکومت وعدوں کے باوجود ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں کرپاتی کیوں کہ بدعنوانی کا سلسلہ صرف رشوت تک محدود نہیں ہے بلکہ سیاسی اور گروہی مفادات بھی ایسی اصلاحات اور انہیں نافذ کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں جو ملک میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں اضافہ کریں۔ اب بجٹ سے پہلے وزیر اعظم اور ان کے رفقا عوام دوست اصلاحات کا نعرہ ضرور لگا رہے ہیں لیکن باقی پہلوؤں کی طرح یہ واضح نہیں ہے کہ یہ مقصد کیسے حاصل کیاجائے گا؟ تلخ حقیقت یہی ہے کہ نیا بجٹ عوام کے صبر کاامتحان ثابت ہوگا۔
حکومت کے پاس ایران جنگ کے باعث تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کی کوئی حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ اس ناکامی کا بوجھ بہرصورت عوام ہی کو بالواسطہ محاصل کی صورت میں اٹھانا پڑے گا تاکہ حکومت کا کارخانہ چلتا رہے۔ دیکھتے ہیں کہ وزیر اعظم یا وزیر خزانہ اس بار بجٹ میں اسے کیا نیا نام دیتے ہیں۔